QUARTERLY SUFI TIMES

Issue 09

July–September 2026  |  118 Pages

Quarterly Sufi Times — Issue 09
Loading the book…

ISSUE 09 CONTENTS

Table of Contents

No.Article TitleAuthorCategoryLanguagePageAction
01 تصوف اور اُس کے درجات عارف باللہ شیخ ابو سعیدؔ صفوی نور عرفان اردو
02 Certainty Humility And Justice Dr. M. Mehdi Kazmi Editorial English
03 تکبر،عجز اور عدل ڈاکٹر ایم مہدی کاظمی اداریہ اردو
04 طاغوت، فتنہ اور مسلم سیاسی ضمیر کا بحران ڈاکٹر ایم مہدی کاظمیؔ حکمت و معرفت اردو
05 حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر قدس سرہ حیات و خدمات مولانا شرافتؔ حسین سعیدی حکمت و معرفت اردو
06 حقیقت ابدی ہے مقام شبیری شیخ امام الدین سعیدی مصباحی حکمت و معرفت اردو
07 تعلیماتِ بابا فرید گنج شکرکی عصری اہمیت مولانا اختر تابش ازہری حکمت و معرفت اردو
08 فکری وجماعتی انتشارمیں علمی نرگسیت کا اہم کردار ڈاکٹر مہدی کاظمی تحقیقی سیکشن اردو
09 اولیا کونسل آف نارتھ امریکا کی دینی، روحانی، ثقافتی اور سماجی خدمات ادارہ سرگرمیاں اردو
10 سفر نامہ ڈاکٹر ایم، مہدی کاظمی سفر نامہ اردو
11 Intellectual Divisiveness and The Idolatry of Interpretation Dr. M. Mehdi Kazmi English Section English
12 Taghut, Fitna, And The Crisis Of The Muslim Political Conscience Dr. M. Mehdi Kazmi English Section English
13 Husainiyat Is Eternal Shaikh Ali Saeed Safwi English Section English

تصوف اور اُس کے درجات

عرفانی مجلس ۔افادات عارف باللہ شیخ ابو سعید صفوی

تصوف کے تین درجے ہیں:پہلا درجہ تزکیہ کاہے جس کاحکم قرآن میں اس طرح آیا:قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا (شمس) تزکیہ تصوف کاپہلا زینہ ہے۔تصوف کادوسرادرجہ اخلاق ہے، وہ اخلاق جس کے بارے میں ارشاد ہے: اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ (قلم) یہ وہ اخلاق ہے جس کی وضاحت حدیث رسول میں ملتی ہے کہ جوتمھیں نہ دے اس کودواورجوتم پرظلم کرے اس کے ساتھ احسان کرو اورجوتمہارے ساتھ بُراچاہے اس کے ساتھ بھلاچاہو۔ اخلاق کی انتہامکمل طمانیت اور صبر ہے کہ پورے اختیار ہونے کے ساتھ، انتقام اور بدلے کا کوئی خوف نہ ہونے کے باوجودآپ اپنے جانی دشمنوں کو کہہ سکیں:

لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ، اَللّٰھُمَّ اِھْدِقَوْمِی۔اور تصوف کا تیسرا درجہ ہے احسان کہ عبادت ایسے کریں گویاآپ اللہ کودیکھ رہے ہیں اوراگر یہ نہ ہوسکے تو کم ازکم یہ کیفیت ضرور ہوکہ اللہ آپ کودیکھ رہاہے۔  یہ کیفیت دوطرح سے حاصل ہوتی ہے: ایک راستہ تویہ ہے کہ کوئی کھڑاہوااوراچانک جناب الٰہی میں حاضر ہوگیااور دنیاومافیھاسے بے خبر ہوگیا۔یہ جذب کاراستہ ہے۔ اللہ کسی کسی کویہ کیفیت عطاکرتاہے اور یہ کیفیت جسے عطاہوتی ہے کوئی ضروری نہیں کہ ایسابندہ بہت بڑاعالم یاعابد ہو۔اللہ کاکرم جس کواُس کے لیے چن لے۔ دوسراراستہ سلوک اور مجاہدے کاہے کہ باربار یہ خیال لانے کی کوشش کرے کہ میرامولیٰ مجھے دیکھ رہاہے۔یہ خیال دوطرح کاہوسکتاہے: ایک عابد انہ ومجرمانہ اندازسے اور دوسراعاشقانہ اندازسے۔ یہ کیفیت بڑھ کراس حد تک بندے کوپہنچادیتی ہے کہ وہ زبان حا ل سے گویاہوتاہے

اسی کے نور سے تم اس کو بے چون و چرا دیکھو

وہ  اک  نور  مقدس  ہے  وہاں  چون  و  چرا  کیسا

Certainty Humility And Justice

I speak not merely as a scholar or observer, but from the depths of the heart.

We stand today at a critical juncture in our collective journey—as a people, as a society, and as a civilization. The crises that confront us are not merely political or economic; they are profoundly moral. At the root of so much injustice lies an ancient temptation: the desire to dominate. We seek to dominate through ideas, through wealth, through power, through ideology, and sometimes even through religion itself. We seek certainty where humility is required, control where compassion is needed, and victory where understanding ought to prevail.

Yet history teaches us a difficult truth: certainty can become the enemy of justice. The moment we become absolutely convinced of our own righteousness, we cease to listen, cease to learn, and cease to see the humanity of those who differ from us. We were not created as beings of absolute certainty. Doubt is not a flaw in the human condition; it is part of our divine inheritance. It is the space in which faith is born, conscience awakens, and wisdom grows. We journey toward God not with perfect knowledge, but with imperfect understanding, struggling toward the Eternal through the limitations of our humanity.

“And so, rather than fearing doubt, let us learn to live with it. Let it make us humble. Let it make us compassionate. Let it remind us that no single person, community, or generation possesses the whole truth. For certainty often builds walls, while humility builds bridges. Certainty divides; humility unites. Certainty hardens the heart; humility opens it to beauty, harmony, and tolerance.”

“What, then, is our response to uncertainty? The answer is not despair. The answer is courage. The answer is faith.

Faith is not the absence of doubt; it is the courage to move forward despite it. Courage is what transforms conviction into action and ideals into sacrifice. And when we seek examples of such courage, we need only turn to the luminous figures who continue to guide our moral imagination.”

Let us remember Imam Husayn, who showed humanity that dignity is worth more than power and that truth is worth more than survival. In the face of overwhelming odds, he taught us that justice demands courage and that silence before oppression is itself a form of surrender.

Let us remember Lady Zaynab, whose strength transformed tragedy into testimony. When tyrants sought to erase the memory of justice, she became its voice. When power sought to silence truth, she carried its message across generations. Through her, we learned that remembrance is itself an act of resistance and that bearing witness to truth is among the highest forms of justice.

Their legacy is not simply to be admired; it is to be lived. Their story calls each of us to ask what kind of people we will become and what kind of society we will leave behind.

For justice is not merely a principle written in books or proclaimed from podiums. Justice begins with our obligations to one another. It begins with recognizing the sacred dignity of every human being. It begins with keeping faith with one another, protecting one another, and refusing to abandon one another in times of hardship.

“Before we speak of justice for nations, we must practice justice with our neighbours. Before we seek justice in the world, we must embody it in our own lives. To be just is our duty to one another, our responsibility before history, and our accountability before God.”

“Let us not betray the covenant that binds us together. Let us choose courage over fear, humility over arrogance, compassion over domination, and justice over indifference. And in doing so, may we honor the legacy of Imam Husayn and Zaynab—not only in our words, but in our lives.”

We are all aware of oppressive "taghuts" and fitnas wherever we are. It is our duty to each other to have the courage to stand up, Lean into our faith, our beliefs, and our shared humanity. Always look to Imam Husayn as an example of doing what is right, for he demonstrated through his life and sacrifice what it truly means to stand for truth and justice.

تکبر،عجز اور عدل

میں محض ایک اسکالر یا مبصر کی حیثیت سے گفتگو نہیں کر رہا، بلکہ دل کی گہرائیوں سے مخاطب ہوں۔

آج ہم ایک قوم، ایک معاشرہ اور ایک تہذیب کی حیثیت سےاپنے اجتماعی زندگی کے ایک نہایت نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔ہمارےسامنے جومشکلات درپیش ہیں وہ صرف سیاسی یا معاشی نہیں، بلکہ بنیادی طورپر اخلاق بھی ہیں اور ہمارے ضمیرونیت کی سخت آزمائش بھی۔ آج دنیا میں بے انصافیوں کی جڑیں جس قدرمضبوط ومستحکم دکھائی دیتی ہیں اُس کے پیچھے ایک قدیم ترین خواہش اورکمزوری کارفرما ہےجودوسروں پر غلبہ اورتسلط پانے پر برانگیختہ کرتی ہے۔چناں چہ ہم کبھی افکار کے ذریعے، کبھی دولت و اقتدارکےذریعے،کبھی نظریات کے ذریعے تو کبھی مذہب کے پس پردہ دوسروں پرغلبہ وتسلط کے خواہش مندرہتے ہیں۔ ہم وہاں بھی اپنی بات پر اِصرار کرتے ہیں جہاں عاجزی وانکساری کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں اپناکنٹرول چاہتے ہیں جہاں ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے اور وہاں فتحیابی کے خواہش مند ہوتے ہیں جہاں افہام و تفہیم(ایک دوسرے کوسمجھنے) کی ضرورت ہوتی ہے۔

لیکن تاریخ ہمیں ایک کڑوی حقیقت سے آگاہ کرتی ہےکہ جب ہم کسی بات پر حد سے زیادہ یقین اوراصرار کرنے لگتےہیں، تو یہی یقین واصرار؛ عدل کا دشمن بن سکتاہے،یعنی جب انسان خود کو سچا اور دوسروں کو غلط سمجھنے لگے، تو وہ عدل کا دامن چھوڑ دیتا ہے۔ جس لمحے ہم خود کو صادقِ کامل اور صحیح مان لیتے ہیں،تواُس وقت دوسروں کی سننا، اُن سے سیکھنا اور اپنے سے الگ رائے رکھنے والوں کو اِنسان سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ جب کہ ہمیں ایسا نہیں بنایا گیا کہ ہم ہر اپنی بات کو صد فیصد درست مان لیں۔ شک وریب انسانی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے،یہ کوئی خامی یا بُرائی نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کی طرف سےعطاکردہ ایک تحفہ ہے،جو اِنسان کو سوچنے، سمجھنے اور حق کی تلاش وجستجوپر اُبھارتا ہےاوریہی وہ مقام ہے جہاں عقیدہ پختہ ہوتاہے، ضمیر بیدار ہوتاہے اور عقل و فہم پروان چڑھتی ہے۔پھر چوں کہ ہم اللہ کی طرف اپنےناقص علم وفہم کےساتھ سفر کرتےہیں اور اِنسانی حدود میں رہتے ہوئے اُس ابدی حقیقت تک پہنچنے کی جدوجہد کرتے رہتےہیں۔

لہٰذا شک سے ڈرنے کے بجائےاُس کے ساتھ جینا سیکھیں۔ یہ شک ہمیں عاجزی وانکساری سکھاتاہے۔یہ ہمیں رحم دل بناتا ہے۔ یہ ہمیں حقیقت سے روشناس کراتاہے کہ کوئی بھی تنہا انسان، برادری یاپھر نسل کامل صداقت پر دسترس نہیں رکھتی۔ پھرحدسے زیادہ یقین (کٹرپن) اکثر دیواریں کھڑی کرتا ہے، جب کہ عاجزی پُل بناتی ہے۔خود یقینی؛دلوں کو بانٹتی ہے؛ عاجزی متحد کرتی ہے۔ اندھایقین؛ دل کو سخت کر دیتا ہے؛ جب کہ عاجزی اُسے پاکیزگی، ہم آہنگی اور رواداری کے لیے کشادہ وفراخ کر دیتی ہے۔

’’چناں چہ غیر یقینی صورتِ حال پر ہمارا ردِّعمل کیا ہونا چاہیے؟تو اِس کا جواب مایوسی نہیں ہے۔ اس کا جواب حوصلہ ہے۔ اس کا جواب ایمان اور یقین ہے۔ایمان؛ شک کی غیر موجودگی کا نام نہیں ہے؛ بلکہ یہ شک کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ ہے۔ حوصلہ ہی وہ شئےہے جو یقین کو عمل میں اور نظریات کوایثارو قربانی میں بدل دیتی ہے اور جب ہم ایسے حوصلے کی مثالیں تلاش کرتے ہیں، تو ہمیں صرف وہ روشن ہستیاں نظرآتی ہیں جو ہمارے اخلاقی تصورات کی رہبری کرتی چلی آ رہی ہیں۔‘‘

 آئیں؛اِس ضمن میں ہم امام حسین علیہ السلام کو یاد کریں، جنھوں نے انسانیت کو یہ سبق دیاکہ غیرت و وقار ؛ اقتدار سے کہیں زیادہ اہم ہے اور حق وصداقت کی اہمیت ؛بقا سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔تمام تر مشکلات کے باوجود اُنھوں نے ناانصافی کے خلاف آواز بلندکی اورسبق دیا کہ عدل وانصاف؛ حوصلے کا تقاضا کرتا ہے اور ظلم وجبر کے سامنے خاموشی اختیار کر لینا ظالم وجابرکےآگے سرتسلیم خم کر دینے کے مترادف ہے۔

آئیں؛حضرت زینب سلام اللہ علیہا کوبھی یاد کریں، جن کی بےخوفی اور اِستقامت نے ناقابل فراموش سانحے کو ایک ابدی گواہی میں بدل دیا۔ جب ظالموں نے نشانِ عدل کو مٹادینا چاہا، تو وہ عدل کی آواز بن گئیں۔ جب اقتدار نےحق کو خاموش کردینا چاہا، تو اُنھوں نے حق کے پیغام کو نسلوں تک پہنچایا۔ اُن کے ذریعے ہی ہم نے یہ سیکھا کہ حق کو یاد رکھنا خود ایک مزاحمت ہے اورحق کی گواہی دینا عدل کی اعلیٰ ترین شکلوں میں سے ایک ہے۔

امام حسین اور سیدہ زینب کے یہ اَسباق؛ محض اُس لیے نہیں ہے کہ ہم اُس کی تعریف کریں، بلکہ اُسے اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا اوراُس پر عمل کرناانتہائی ضروری ہے۔ اُن کی داستانیں ہم میں سے ہر ایک کو یہ غورکرنے کی دعوت دیتی ہے کہ ہم کیسی شخصیت کے حامل انسان بنیں اور ہم اپنے بعد کیسا معاشرہ چھوڑ کر جائیں ۔

عدل؛ محض کتابوں میں لکھا ہوا کوئی اُصول یا منبروں اور اَیوانوں سے بلند کیا جانے والا کوئی نعرہ نہیں، بلکہ عدل کا آغاز ایک دوسرے کے تئیں ہماری ذمہ داریوں سے ہوتا ہے، اِنسانوں کے مقدس وقار کو تسلیم کرنے سے ہوتا ہے، ایک دوسرے پراعتمادو یقین برقرار رکھنے، ایک دوسرے کی حفاظت کرنے اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کو بےیارومددگارنہ چھوڑنے سے ہوتا ہے۔

’’اِس سے پہلے کہ ہم قوموں اورریاستوںمیں عدل کے قیام کی بات کریں، ہمیں اپنے پڑوسیوں اورہمسایوں کے ساتھ عدل کرنا ہوگا۔ اس سے پہلے کہ ہم دنیا میں عدل تلاش کریں، اُسےہمیں اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا ہوگا۔ منصف ہونا ایک دوسرے کے تئیں ہمارا فرض، تاریخی اعتبارسے ہماری ذمہ داری، اوراللہ کے حضور ہماری جواب دہی ہے۔‘‘

’’آئیں؛ہم اُس عہد سے بے وفائی نہ کریں جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ خوف پر حوصلے کو، تکبر پر عاجزی کو، تسلط پر ہمدردی کو اور ناانصافی پر عدل کو ترجیح دیں اور ایسا کرتے ہوئےاےکاش! امام حسین علیہ السلام اور سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی عظیم روایات کا پاس ولحاظ ہم رکھ سکیں،نہ صرف اپنے گفتگومیں، بلکہ اپنی عملی زندگیوں  میں بھی۔

چناں چہ ہم جہاں کہیں بھی ہیں جابرطاغوتوں اور فتنوں سے بخوبی واقف ہیں۔ ایک دوسرے کے تئیں یہ ہمارا فرض ہےکہ ہم حق کےلیےکھڑےہونے کاحوصلہ اورجرأت پیدا کریں، اپنے ایمان و عقیدے پر اِعتمادویقین رکھیں، انسانیت پر یقین رکھیں اور حق کے لیے کھڑے ہونے اور صحیح فیصلہ کرنے کے لیے ہمیشہ امام حسین علیہ السلام کی ذاتِ گرامی کی طرف دیکھیں۔کیوں کہ امام حسین علیہ السلام نے عملی طور پرواضح کردیا ہے کہ صحیح راستہ اور صحیح فیصلہ کیا ہے!

اللہ،ہمیں اپنے عقیدے پرقائم رکھے،اہل بیت اطہارسے محبت عطاکرے،انسانیت کے تئیں جواب دہ بنائے اورتکبروغرور کی جگہ عاجزی وانکساری کی دولت سے مالا مال فرمائے۔(آمین)

طاغوت، فتنہ اور مسلم سیاسی ضمیر کا بحران

مدینہ سے کربلا تک اور کربلا سے۲۰۲۶ء تک

کربلا محض۱۰؍محرم ۶۱ ہجری کو لڑی جانے والی ایک جنگ نہیں تھی۔ یہ وہ فیصلہ کن لمحہ تھا جب اسلام کے اخلاقی منصوبے کو اُن سیاسی ڈھانچوں سے الگ کر دیا گیا جو اِسلام کی نمائندگی کےمحرک تھے۔ یہ کشمکش صرف امام حسین علیہ السلام  اور یزید نامی دو شخصیات کے درمیان نہیں تھی، بلکہ مذہب کی دو مختلف تعبیرات کے درمیان تھی: ایک طرف دینِ نبوت تھا اور دوسری طرف سیاسی غلبے کا مذہب؛ ایک جانب دینِ عدل تھا اور دوسری جانب ایسا ادارہ جاتی خول، جو اِقتدار کو تقویٰ کے لبادےمیں پیش کرنے کاحامی تھا۔

یہ مضمون دو باہم مربوط دلائل کو یکجا کرتا ہے۔ اول:کربلا کو نبوت اور ملوکیت کے درمیان فیصلہ کن معرکے کے طور پر پیش کرتا ہے، جس کے بعد مدینہ منورہ کی حرمت پامال ہوئی اور مکہ پر حملہ کیا گیا۔ دوم: دین کا بنیادی مقصد طاغوت کے خلاف مزاحمت اور فتنے کا سدباب ہےاور امام حسین کا مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ اور پھر کربلا تک کا سفر، رسول اکرمﷺ کی رحلت کے بعد آپ کے پیغام کو پیش آنے والے سیاسی انجام کی نمائندگی کرتا ہے۔

۲۰۲۶ء کے واقعات ہمیں اِن دلائل پر ازسرنو غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔۲۸ ؍فروری ۲۰۲۶ء کو ایران ایک مشترکہ امریکی اور اسرائیلی فوجی مہم کا نشانہ بنا۔ ایران نے اس کا فوجی جواب دیا۔جب کہ بیشتر مسلم حکومتوں نے غیر جانب داری، سفارت کاری، صرف اپنے علاقوں کے دفاع یا مغربی سکیورٹی انتظامات پر مسلسل انحصار کی راہ اختیار کی۔

کربلا اور موجودہ حالات کے درمیان یہ موازنہ اس دعوے پر مبنی نہیں کہ ہر معاصر واقعہ ساتویں صدی کی تاریخ سے مکمل طور پر یکساں ہے۔ یہ دراصل ایک اخلاقی مماثلت ہے۔ کربلا ایک ایسا معیار فراہم کرتی ہے جس کی روشنی میں ہر عہد اپنے حکمرانوں، علما، اداروں، اتحادیوں اور خاموشیوں کا محاسبہ کر سکتا ہے۔

طاغوت اور فتنہ: سیاسی فساد کے لیے قرآنی اصطلاحات

قرآن ایمان کو محض ایک غیر فعال تصدیق کے طور پر پیش نہیں کرتا، بلکہ وہ اللہ پر ایمان کو طاغوت کے انکار سے وابستہ کرتا ہے:

’’پس جو شخص طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔‘‘   (القرآن،البقرۃ:۲،الآیۃ:۲۵۶)

لفظ طاغوت کا مادّہ حد سے تجاوز کرنے کے مفہوم سے نکلا ہے۔ قرآن میں اس سے مراد بت، باطل مرکزِ اطاعت، شیطانی اقتدار یا ایسی طاقتیں ہو سکتی ہیں جواللہ کی نافرمانی میں لوگوں سے اطاعت کا مطالبہ کریں۔ یہ لفظ صرف سورۃ البقرۃ کی آیت۲۵۶؍ میں نہیں، بلکہ قرآن کی سورۃ النساء:۶۰،۷۶،سورۃ النحل:۳۶؍ اورسورۃ الزمر:۱۷میں بھی استعمال ہوا ہے۔لہٰذا طاغوت کو صرف پتھر کے ایک بت تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ایک سیاسی نظام اس وقت طاغوتی بن جاتا ہے جب وہ صرف عسکری، معاشی یا ادارہ جاتی قوت کے ذریعے حق اور باطل کا فیصلہ کرنے کا حق اپنے لیے مخصوص کر لے۔ایک حکمران اس وقت طاغوتی بن جاتا ہے جب اس کی حکومت سے وفاداری کو عدل و انصاف سے بھی زیادہ مقدس قرار دے دیا جائے۔ ایک ریاست اس وقت طاغوتی بن جاتی ہے جب وہ حدوں سے تجاوز کرے، شہری زندگیوں کو تباہ کرے، کسی دوسری قوم کی خودمختاری پر قبضہ کرے یا خوف کے ذریعے اطاعت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

لفظ فتنہ بھی قرآن میں وسیع معنویت رکھتا ہے۔ اس سے آزمائش، ظلم و ایذا، سماجی انتشار، فساد، جبر یا ایسے حالات مراد ہو سکتے ہیں جن میں لوگوں کو حق سے دور کر دیا جائے۔ سورۃ الانفال کی آیت۲۵؍ اہلِ ایمان کو ایسے فتنے سے خبردار کرتی ہے جس کا عذاب براہِ راست صرف ظلم کرنے والوں ہی تک محدود نہیں رہے گا،بلکہ جب معاشرہ ظلم کو برداشت کرنا شروع کر دے تو اُس کے نتائج پورے معاشرے میں پھیل جاتے ہیں۔

فتنے کو محض اختلافِ رائے یا تنقید تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ آمر حکمران اکثر اپنی حکومت کے خلاف اُٹھنے والی ہر آواز کو ’’فتنہ‘‘ قرار دے دیتا ہے۔ لیکن قرآنی مفہوم کے مطابق منظم ظلم و جبر، مذہبی شناخت کا سیاسی استحصال، سیاسی فائدے کے لیے معاشروں کو تقسیم کرنا اور حق کی آواز کو خاموش کرنا، بذاتِ خود فتنہ ہو سکتے ہیں۔

قرآن اہلِ ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ عدل پر مضبوطی سے قائم رہیں، خواہ عدل کا تقاضا خود اُن کے، اُن کے خاندانوں یا اُن کے سیاسی مفادات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ سورۃالنساء کی آیت۱۳۵؍ میں بیان ہوا ہے۔ قرآن یہ بھی حکم دیتا ہے کہ کسی قوم کی دشمنی تمھیں عدل سے منحرف نہ کر دے، جیسا کہ سورۃ المائدۃ کی آیت۸؍میں ہے۔ قرآن ظالموں کی طرف جھکنے سے روکتا ہے، عدل و احسان کے قیام کا حکم دیتا ہے اور اُن لوگوں کو مزاحمت کا حق دیتا ہے جنھیں ناحق اُن کے گھروں سے نکالا گیا اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔

یہ آیات امام حسین علیہ السلام کے قیام اور موجودہ عہد میں مسلمانوں کی ذمہ داریوں کو سمجھنے کے لیے اخلاقی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔

نبوی منصوبہ: مکہ سے مدینہ تک

رسول اکرم حضرت محمدﷺ کی دعوت کا آغاز مکہ میں توحید کے اعلان سے ہوا۔ لیکن توحید محض ایک مجرد اِلٰہیاتی نظریہ نہیں تھی۔ ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں‘‘ کا اعلان، ہر اُس انسانی دعوے کو مسترد کرنا تھا جو مطلق اقتدار کا خواہش مند ہو۔

مکہ کے بت مذہبی علامات ضرور تھے، لیکن وہ دولت، قبائلی امتیاز، موروثی مرتبے اور سماجی غلبے کے ایک پورے نظام سے بھی وابستہ تھے۔ رسول اللہﷺ کے پیغام نے پتھر کے بتوں کے ساتھ ساتھ اُس سماجی نظام کو بھی چیلنج کیا جس کا وجود اُن بتوں اور امتیازات پر قائم تھا۔

مدینہ منورہ میں اس پیغام نے اجتماعی اور سیاسی صورت اختیار کی۔ ایمان و عدل، مشاورت، معاشی ذمہ داری، کمزوروں کے تحفظ، معاہدوں کی پابندی اور اخلاقی جواب دہی کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ قرآن نے اجتماعی معاملات میں مشاورت کا حکم دیا اور متنبہ کیاکہ دولت صرف مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتی رہے۔

مکہ باطل معبودوں سے آزادی کی نمائندگی کرتا تھا، جب کہ مدینہ ایک عادلانہ معاشرے کی تعمیر کا مظہر تھا۔ چناں چہ نبوی نظام دوایسے اصولوں پر قائم تھا جنھیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔یعنی طاغوت کے سامنے کسی قسم کی اطاعت نہیں اور کوئی ایسا سماجی نظام کا نہیں جو فتنہ وفساد، ظلم وجبر، فرق وامتیازیا استحصال پر قائم ہو۔

امام حسین علیہ السلام کا سفر: اسلامی تاریخ کا ایک معکوس نقشہ

رسول اکرمﷺ کا تاریخی سفر؛مکہ سے مدینہ کی جانب تھا؛ یعنی اعلانِ حق سے معاشرے کی تشکیل تک اور وحی سے ایک اجتماعی نظام کے قیام تک۔ لیکن امام حسین علیہ السلام  کا آخری سفر؛ جغرافیائی اعتبار سے اس کے برعکس تھا۔یعنی مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلاتک۔

اس معکوس سفر کو اِس بات کا مختصر نقشہ سمجھا جا سکتا ہے کہ رسول اللہﷺ کی میراث کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا تھا۔ مدینہ وہ شہر تھا جہاں رسول اکرمﷺ نے مسلم معاشرے کی بنیاد رکھی تھی۔ مکہ وہ مقدس مقام تھا جسے آپ نے بتوں سے پاک کیا تھا۔ کربلا وہ مقام بن گیا جہاں قریشی اقتدار کے سیاسی وارثوں نے رسول اللہﷺ کے اُس نواسے کو قتل کرنے کی کوشش کی جو آپ کی اخلاقی حجت اور معنوی اختیار کا مظہر تھا۔

۶۰؍ ہجری میں حضرت معاویہ کی وفات کے بعد یزید نے مدینہ کے گورنر کو حکم دیا کہ وہ امام حسین  علیہ السلام سے بیعت حاصل کرے۔ امام حسین علیہ السلام نے انکار کیا اور اپنے اہلِ بیت کے افراد کے ساتھ مدینہ سے مکہ روانہ ہو گئے۔ آپ کو مشورہ دیا گیا تھا کہ صحرا کے کسی غیر معروف راستے سے خاموشی کے ساتھ نکل جائیں، لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔ آپ نے مرکزی شاہراہ اختیار کی اور تقریباً چار ماہ مکہ میں قیام فرمایا۔

اس کے بعد کوفہ سے خطوط آنے لگے، جن میں امام حسین علیہ السلام کو اُس معاشرے کی قیادت کی دعوت دی گئی جو اپنے دعوے کے مطابق ایک ’عادل امام‘ سے محروم تھا۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے جواب میں واضح فرمایا کہ امام کی ذمہ داری قرآن کے مطابق عمل کرنا، عدل قائم کرنا، حق کا اعلان کرنا اور خود کو اللہ کی راہ کے لیے وقف کر دینا ہے۔

یہ بیان بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام  نے قیادت کی تعریف کسی تخت یا سلطنت پر قبضے کے طور پر نہیں کی، بلکہ اُسے وحی اور عدل کے ساتھ وفاداری قرار دیا۔

امام حسین حج کی تکمیل سے پہلے مکہ سے روانہ ہوئے اور اپنے خاندان اور اصحاب کے ساتھ عراق کی جانب سفر شروع کیا۔ جب یہ خبر پہنچی کہ آپ کے نمائندے حضرت مسلم بن عقیل کو شہید کر دیا گیا ہے اور اہلِ کوفہ اپنے وعدوں سےمُکرگئے ہیں تو امام حسین  علیہ السلام  نے اپنے ہم سفروں کو واپس چلے جانے کی اجازت دے دی۔ ان میں سے بہت سے افراد واپس چلے گئے۔

بالآخر امام حسین علیہ السلام  کے مختصر قافلے کو روک لیا گیا اور ۲؍ محرم کو کربلا کے کھلے میدان میں خیمے لگانے پر مجبور کر دیا گیا۔ بعد میں دریائے فرات تک رسائی بھی محدود کر دی گئی۔ ۱۰؍ محرم کو امام حسین علیہ السلام  ، خاندانِ نبوت کے افراد اور آپ کے وفادار ساتھیوں کو شہید کر دیا گیا۔ آپ کے زندہ بچ جانے والے اہلِ خانہ کو قیدی بنایا گیاکہ آپ کا سر مبارک پہلے کوفہ اور پھر دمشق لے جایا گیا۔

اس طرح کربلا؛ نبوی فکر اور نبوی اخلاق کو سیاسی طور پر قتل کرنے کی ایک کوشش تھی۔

تاہم ؛تاریخ کی سطح پر یہ کوشش ناکام رہی۔ یزید کی فوج نے امام حسین  علیہ السلام  کے جسم کو توشہید کر دیا، لیکن آپ کی قربانی نے ملوکیت کو ہمیشہ کے لیے اسلام کی حقیقی نمائندہ بننے سے روک دیا۔ سلطنت نے میدانِ جنگ جیت لیا، مگر امام حسین  علیہ السلام  نے دین کی اخلاقی تعریف کو محفوظ کر لیا۔

ذبحِ عظیم

سورۃ الصافات کی آیت۱۰۷؍ میں بیان ہوا ہے کہ حضرت ابراہیم  علیہ السلام  کے فرزند کو ایک ’ذبحِ عظیم‘ کے ذریعے فدیہ دیا گیا۔ آیت میں صراحت کے ساتھ امام حسین علیہ السلام  کا نام مذکور نہیں ہے۔ تاہم؛ شیعی روحانی، عرفانی اور عزادارانہ روایت میں کربلا کو قربانی کی براہیمی روایت کا کامل ترین تاریخی مظہر سمجھا گیا ہے۔

اس تعبیر کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مصیبت اور تکلیف کو بذاتِ خود پسند کیا۔ قربانی کی عظمت اس کے مقصد میں پوشیدہ ہے۔ امام حسین علیہ السلام  نے اپنے جسم اور اپنی جان کو محفوظ رکھنے کے لیے رسول اللہﷺ کے اخلاقی اختیار کو ایک ظالم حکمران کے سامنے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

امام حسین کے انکار نے شہادت کو محض موت نہیں رہنے دیا، بلکہ اُسے حق کی ایک دائمی گواہی بنا دیا۔ کربلا نے ثابت کیا کہ عدل سے محروم زندگی روحانی موت میں تبدیل ہو سکتی ہے، جب کہ حق کے دفاع میں جسمانی موت، ابدی زندگی کی ایک صورت بن سکتی ہے۔

کربلا سے مدینہ اور مکہ کی تباہی تک

۶۸۳ء میں یزید کی حکومت کے دوران مسلم بن عقبہ کی قیادت میں اموی فوج نے واقعۂ حرہ میں اہلِ مدینہ کو شکست دی۔ روایتی  مسلم تاریخی ماخذ اس جنگ اور اُس کے بعد ہونے والے واقعات کو اموی اقتدار سے وابستہ سنگین ترین جرائم میں شمار  کرتے ہیں۔

اس کے بعد اموی فوج مکہ کی جانب بڑھی، جہاں حضرت عبداللہ بن زبیر نے یزید کے خلاف اپنی مزاحمتی حکومت قائم کر رکھی تھی۔ محاصرے کے دوران خانۂ کعبہ کو آگ سے نقصان پہنچا۔ یہ محاصرہ اُس وقت ختم ہوا جب فوج کو یزید کی موت کی اطلاع ملی۔

اخلاقی نقطۂ نظر سے یہ واقعات نہایت معنی خیز ترتیب رکھتے ہیں:

۱۔پہلے رسول اللہﷺ کے نواسے کو کربلا میں شہید کیا گیا۔

۲۔اس کے بعد رسول اللہﷺ کے شہر مدینہ کی حرمت پامال کی گئی۔

۳۔پھر اللہ کے گھر پر حملہ کیا گیا۔

یہ سب محض اتفاقی واقعات نہیں تھے۔ جب خاندانِ نبوت کی زندہ اخلاقی حجت کو مسترد کر دیا گیا تو نہ رسول اللہﷺ کے شہر کی حرمت؛ سیاسی طاقت کو روک سکی اور نہ خانۂ کعبہ کا ظاہری تقدس اُسے قابو میں رکھ سکا۔جو حکومت امام حسین علیہ السلام  کو قتل کر سکتی تھی، وہ مدینہ پر بھی حملہ کر سکتی تھی۔ جو حکومت مدینہ کو پامال کر سکتی تھی، وہ مکہ پر بھی گولہ باری کر سکتی تھی۔

کربلا سے واقعۂ حرہ اور پھر مکہ کے محاصرے تک کا سفر یہ ثابت کرتا ہے کہ مقدس عمارتیں اُس وقت محفوظ نہیں رہ سکتیں، جب اُن اخلاقی اصولوں کو پہلے ہی ترک کر دیا گیا ہو جن کی نمائندگی وہ عمارتیں کرتی ہیں۔

مکہ اور مدینہ کی استعاراتی تباہی

آج مسلمان؛ مکہ اور مدینہ کی ظاہری عمارتوں کی غیر معمولی حفاظت کرتے ہیں۔ لیکن ان شہروں کی نمائندگی کرنے والے نظریات اور فلسفے کو بارہا پامال کیا جا چکا ہے۔مکہ پر استعاراتی حملہ اُس وقت ہوتا ہے جب مسلمان توحید کا اعلان تو کرتے ہیں، لیکن سیاسی طور پر ایسی طاقتوں کے سامنے جھک جاتے ہیں جو اپنے لیے لامحدود اختیار کا دعویٰ کرتی ہیں۔مدینہ پر استعاراتی حملہ اُس وقت ہوتا ہے جب حکومتیں مساجد کو تو محفوظ رکھتی ہیں، لیکن عدل کو قید کر دیتی ہیں؛ مشاورت کی آواز دبا دیتی ہیں؛ دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹ دیتی ہیں؛ اقلیتوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بناتی ہیں یا انسانی وقار کو خاندانی، سیاسی اور جغرافیائی مفادات کے تابع کر دیتی ہیں۔

خانۂ کعبہ کی تعظیم؛ محض اُسے ایک مہنگے غلاف سے ڈھانپ دینے سے نہیں ہوتی۔ اس کی حقیقی تعظیم اقتدار، نسل، دولت، سلطنت، فرقہ واریت اور سیاسی اطاعت کے بتوں کو مسترد کرنے میں ہے۔

مسجدِ نبوی کی تعظیم؛ محض اس کی عمارت میں توسیع سے نہیں ہوتی، بلکہ اُس وقت ہوتی ہے جب رسول اللہﷺ کی تعلیم کردہ عدالت، رحمت، مشاورت اور اِنسانی وقار کو عملی زندگی میں نافذ کیا جائے۔

اِس مفہوم میں مسلم حکمرانوں اور اداروں نے بارہا استعاراتی طور پر وہی کام کیا ہے جو یزید کی فوج نے ظاہری اور جسمانی طور پر کیا تھا۔ انھوں نے دینی علامات کو تو باقی رکھا، لیکن ان علامات کے نمائندہ اصولوں پر حملہ کر دیا۔تاہم؛ یہ الزام ہر مسلمان پر بلاامتیاز عائد نہیں کیا جا سکتا۔ بے شمار مسلمانوں نے ظلم کے خلاف مزاحمت کی، مظلوموں کا دفاع کیا، جنگ کے خلاف آواز اُٹھائی اور عدل کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں۔یہ تنقید مسلم دنیا کے غالب سیاسی نظام سے متعلق ہے۔یعنی بادشاہتیں، فوجی حکومتیں، آمرانہ جمہوریتیں، فرقہ وارانہ ادارے اور ایسے مذہبی مراکز سے متعلق ہےجو اکثر اخلاقی حق کو رِیاستی بقا کے تابع کر دیتے ہیں۔

ایران اور کربلا کی ادارہ جاتی یادداشت

تاریخی اعتبار سے یہ دعویٰ مبالغہ آمیز ہوگا کہ صرف ایرانی قوم نے امام حسین علیہ السلام  کی یاد کو محفوظ رکھا۔ عراق، لبنان، بحرین، یمن، ہندوستان، پاکستان، افغانستان، آذربائیجان، افریقہ اور دنیا بھر کی مسلم برادریوں نے کربلا کی عزاداری، علمی روایت، شاعری اور روحانیت کو زندہ رکھا ہے۔

ایران کی امتیازی حیثیت

جدید ایران نے کربلا کی زبان کو ایک ریاستی نظریے کی شکل دینے کی کوشش کی۔ ۱۹۷۹ء کے انقلاب کے بعد طاغوت کے خلاف مزاحمت، بیرونی تسلط کی مخالفت، مظلوموں کا دفاع اور امام حسین علیہ السلام  کی یاد، اسلامی جمہوریہ  ایران کی سیاسی اصطلاحات اور ریاستی بیانیے کا حصہ بن گئے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایران کی ہر پالیسی خودبخود عادلانہ قرار پاتی ہے۔ محض نعروں کے ذریعے کوئی ریاست خود کو حسینی قرار نہیں دے سکتی۔ سورۃالنساء کی آیت۱۳۵؍ اپنے خلاف بھی عدل قائم کرنے کا حکم دیتی ہے،جب کہ سورۃ المائدۃ کی آیت۸؍ دشمن کے ساتھ بھی ناانصافی سے منع کرتی ہے۔لہٰذا امام حسین  علیہ السلام  کا نام لینے والی کسی بھی ریاست کو اپنے شہریوں، اقلیتوں، سیاسی مخالفین، قیدیوں، خواتین، ہمسایہ اقوام اور جنگ کے دوران شہری آبادیوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کی بنیاد پر بھی پرکھا جانا چاہیے۔

اِس کے باوجود۲۰۲۶ء کے بین الاقوامی نظام میں ایران وہ بڑی مسلم ریاست رہا جس کی سیاسی اور ریاستی ساخت امریکی اور اسرائیلی غلبے کے خلاف مزاحمت کے نظریے پر سب سے زیادہ کھلے طور پر قائم تھی۔جب۲۸؍ فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو ایران نے نہ اپنی سیاسی خودمختاری سے دست برداری اختیار کی اور نہ اپنی حکومت تبدیل کرنے کے کسی بیرونی منصوبے کو قبول کیا۔ اس نے جوابی جنگ کی اور اپنی مزاحمت کو صرف ایرانی خودمختاری کا دفاع نہیں، بلکہ پورے خطے کے دفاع کے طور پر پیش کیا۔ (اے پی نیوز)

اس محدود مگر اہم مفہوم میں ایران وہاں کھڑا ہوا جہاں دوسری مسلم حکومتیں کھڑا ہونے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ یعنی ان دو طاقتوں کے ساتھ براہِ راست فوجی مقابلے میں جنہوں نے اس پر حملہ کیا تھا۔

۲۰۲۶ء کی مسلم دنیا: خاموشی، انحصار اور محدود مزاحمت

امام حسین علیہ السلام  کے گرد پائی جانے والی خاموشی اور موجودہ حالات کے درمیان مماثلت بہت طاقت ور ہے، لیکن معاصر تاریخ کو پوری صحت و دیانت کے ساتھ بیان کرنا ضروری ہے۔

کسی مسلم ریاست نے ایران کی فوجی اتحادی بن کر اُس جنگ میں شرکت نہیں کی۔ امریکی اور اسرائیلی حملے کو روکنے یا پسپا کرنے کے لیے کسی اجتماعی مسلم دفاعی معاہدے کو فعال نہیں کیا گیا۔ مسلم دنیا کی جانب سے کوئی متحدہ سیاسی، فوجی یا معاشی محاذ وجود میں نہیں آیا۔یہ عدم موجودگی کربلا کے مرکزی المیے کی یاد دلاتی ہے۔ یعنی بڑی آبادیاں امام حسین علیہ السلام  سے جذباتی عقیدت تو رکھ سکتی ہیں، لیکن سامراجی طاقت کے سامنے تنہا کھڑے مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کے خطرات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔

بعد میں خلیجی ریاستوں نے ان حملوں کی مذمت کی اور اقوام متحدہ میں یہ موقف اختیار کیا کہ ان کی خودمختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ عمان نے ایرانی حملوں پر تنقید کرنے کے باوجود اُن چند ریاستوں میں جگہ بنائی جو یہ واضح کرتی رہیں کہ کشیدگی کا آغاز امریکی اور اسرائیلی حملے سے ہوا تھا۔

قرآنی تجزیہ ان حقائق کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ جارحیت کے خلاف مزاحمت کسی ریاست کو شہریوں پر حملہ کرنے یا ہمسایہ معاشروں کی خودمختاری پامال کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ سورۃالمائدۃ کی آیت۸؍ واضح کرتی ہے کہ دشمنی کبھی بھی انسان کو ناانصافی کی طرف نہیں لے جانی چاہیے۔

ایران کا حسینی دعویٰ اُس وقت سب سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے جب وہ جارحیت کا مقابلہ کرے لیکن خود بے گناہوں کے خلاف زیادتی نہ کرے۔ جب جوابی کارروائی اندھا دھند ہو جائے تو مزاحمت کی اخلاقی وضاحت کمزور پڑ جاتی ہے۔

یہ ممالک ایران کے ساتھ مل کر جنگ میں شریک نہیں ہوئے، لیکن انھیں اُن ریاستوں کے برابر بھی قرار نہیں دیا جا سکتا جو حملہ آور طاقتوں کی عملی مدد کر رہی تھیں۔

مسلم دنیا کی حقیقی ناکامی

سب سے زیادہ قابلِ دفاع الزام یہ نہیں کہ ہر مسلم حکومت نے کھلے طور پر امریکا اور اسرائیل کا ساتھ دیا۔ اس سے کہیں گہری ناکامی یہ ہے کہ مسلم دنیا کے پاس ایسا کوئی آزاد اور اجتماعی نظام موجود نہیں تھا جو اُس جنگ کو روک سکتا۔مسلم ممالک کے فوجی اڈے، اسلحے کی فراہمی، انٹیلی جنس نظام، مالیاتی نیٹ ورک اور سفارتی تحفظات بدستور بیرونی طاقتوں سے وابستہ رہے۔ ہر ریاست نے الگ الگ ردِّعمل ظاہر کیا۔ ہر ایک نے اپنے شاہی خاندان، اپنی سرزمین، اپنی معیشت، اپنی فضائی حدود یا واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کی حفاظت کو ترجیح دی۔کوئی مشترکہ اخلاقی قیادت موجود نہیں تھی۔ کوئی متحدہ مسلم سکیورٹی پالیسی نہ تھی۔ کوئی اجتماعی اعلان نہ کیا گیا کہ ایک مسلم ملک کی خودمختاری پر حملہ پورے خطے کے لیے خطرہ سمجھا جائےگا۔ ایسا کوئی مربوط معاشی یا سفارتی دباؤ بھی وجود میں نہیں آیا جو جارحیت کی قیمت کو ناقابلِ برداشت بنا دیتا۔

یہی کوفہ اور مدینہ کی خاموشی کی جدید صورت ہے۔ یہ مکمل زبانی خاموشی نہیں، بلکہ ایسی عملی یکجہتی کی عدم موجودگی ہے جس کے لیے کوئی قیمت ادا کرنا پڑے۔حالاں کہ بہت سی حکومتوں نے بیانات جاری کیے۔ بعض نے ثالثی اختیار کی۔ کچھ نے عارضی طور پر تعاون سے انکار کیا۔ کچھ نے صرف اپنی فضائی حدود کی حفاظت کی۔ لیکن ایسا کوئی اجتماعی نظام سامنے نہیں آیا جو اِیران اور حملہ آور طاقتوں کے درمیان کھڑا ہو سکتا۔

مسلم دنیا کے پاس دولت، افواج، ذرائع ابلاغ، مذہبی ادارے اور بین الاقوامی تنظیمیں موجود تھیں۔ جو چیز موجود نہیں تھی، وہ ان وسائل کو خودمختاری اور عدل کے مشترکہ دفاع کے لیے استعمال کرنے کا عزم تھا۔

کربلا ایک معیار ہے، سیاسی نعرہ نہیں

کربلا کسی ایک قوم، فرقے، حکومت یا نظریے کی خصوصی ملکیت نہیں ہو سکتی۔یعنی محض امریکا کی مخالفت کرنے سے ایران حسینی نہیں بن جاتا۔ اسی طرح صرف واشنگٹن کے ساتھ سیکوریٹی تعلق رکھنے کی وجہ سے سعودی عرب یزیدی نہیں بن جاتا۔ ہر حکومت کو اُن اصولوں کی بنیاد پر پرکھا جائے گا جنھیں وہ عملی طور پر اختیار کرتی ہے۔کربلا کا معیار یہ سوالات اٹھاتا ہے:

۱۔کیا کوئی ریاست جارحیت کے خلاف اُس وقت بھی کھڑی ہوتی ہے جب مزاحمت مہنگی اور خطرناک ہو؟

۲۔کیا وہ اُس وقت بھی عدل کا دفاع کرتی ہے جب عدل اس کے اپنے مفادات کے خلاف ہو؟

۳۔کیا وہ شہریوں کی حفاظت کرتی ہے، یہاں تک کہ اپنے دشمنوں کے شہریوں کی بھی؟

۴۔کیا وہ اپنی سرحدوں کے اندر حق بات کہنے کی اجازت دیتی ہے؟

۵۔کیا وہ غریبوں اور کمزوروں کی حفاظت کرتی ہے؟

۶۔کیا وہ فرقہ وارانہ فتنے کو مسترد کرتی ہے؟

۷۔کیا وہ سکیورٹی، دولت، اسلحے یا سفارتی منظوری کے بدلے اپنا سیاسی ضمیر فروخت کرنے سے انکار کرتی ہے؟

امام حسین علیہ السلام  کو کسی حکومت کی تقدیس کے لیے استعمال ہونے والی علامت تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ آپ وہ معیار ہیں جس کی روشنی میں حکومتوں کا محاسبہ کیا جانا چاہیے۔کیوں کہ جو قرآن طاغوت کے انکار کا حکم دیتا ہے، وہی دشمنوں کے ساتھ بھی عدل کا حکم دیتا ہے۔ جوقرآن ظلم کے خلاف مزاحمت کی اجازت دیتا ہے، وہی حدود سے تجاوز کرنے سے منع بھی کرتا ہے۔ جو قرآن اہلِ ایمان کو بُرائی کے خلاف کھڑے ہونے کا حکم دیتا ہے، وہی انھیں سب سے پہلے اپنے کردار اور اپنے ظلم کا جائزہ لینے کی تلقین کرتا ہے۔

رسمی عزاداری سے اخلاقی عمل تک

ہر سال لاکھوں افراد امام حسین علیہ السلام  کا سوگ مناتے ہیں۔ وہ مجالس میں شریک ہوتے ہیں، مرثیے اور نوحے پڑھتے ہیں، عَلم اٹھاتے ہیں، سبیل لگاتے ہیں اور کربلا کی پیاس کو یاد کرتے ہیں۔ یہ تمام اعمال ایک مقدس یادداشت کو محفوظ رکھتے ہیں۔لیکن اخلاقی عمل سے خالی یادداشت، سیاسی خاموشی کی ایک اور شکل بن سکتی ہے۔

امام حسین  علیہ السلام  کے غم میں ماتم کرنا اور ساتھ ہی ظلم کی حمایت کرنا، جذباتی طور پر کربلا میں لیکن سیاسی طور پر لشکرِ یزید میں کھڑے ہونے کے مترادف ہے۔امام حسین علیہ السلام  کی تعریف کرنا، لیکن حملے کے شکار قوموں، مظلوم انسانوں، سیاسی قیدیوں، بھوک سے تڑپتے بچوں یا شہری زندگی کی تباہی سے بے پروا رہنا، رسم کو حقیقت سے جدا کر دینا ہے۔صرف دشمن کے طاغوت کی مذمت کرنا، لیکن اپنے حکمران یا اپنی ریاست کے طاغوتی طرزِ عمل کو نظر انداز کرنا حسینی اخلاقیات نہیں ہے۔

کربلا کا پیغام یہ ہے کہ حق کا فیصلہ تعداد، عسکری برتری، دولت، سفارتی قبولیت یا کسی حکومت کی بقا سے نہیں ہوتا۔ممکن ہے کہ حق صرف بہتر افراد کے ساتھ کھڑا ہو،جب کہ دوسری جانب ایک پوری سلطنت موجود ہو۔

۲۰۲۶ء میں کون کھڑا ہوا؟

الحاصل ؛امام حسین علیہ السلام  کا مدینہ سے مکہ اور پھر کربلا تک کا سفر، رسول اکرمﷺ کی سیاسی اور اخلاقی میراث کو پیش آنے والے انجام کو معکوس ترتیب میں دوبارہ ظاہر کرتا ہے۔مدینہ عادلانہ معاشرے کی نمائندگی کرتا تھااور مکہ بتوں سے آزادی اور صرف اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی علامت تھا۔ کربلا اس کوشش کا مقام بن گیا جہاں ملوکیت نے اُن دونوں اصولوں کو مٹانے کی کوشش کی۔

مدینہ اور مکہ پر ہونے والے بعد کے حملوں نے ثابت کر دیا کہ جب امام حسین علیہ السلام  کو شہید کر دیا گیا تو اِسلام کے ظاہری مقدس مقامات بھی سیاسی طاقت سے محفوظ نہ رہ سکے۔بعد کی صدیوں میں مسلم معاشروں نے اسلام کی عمارتوں، رسومات اور اصطلاحات کو تو محفوظ رکھا، لیکن اس کے اخلاقی جوہر کو بارہا بادشاہت، سامراج، استعمار، قوم پرستی، آمریت اور بیرونی سیاسی و فوجی انحصار کے سامنے قربان کر دیا۔

۲۰۲۶ء میں ایران ایک مشترکہ امریکی اور اسرائیلی حملے کے خلاف فوجی طور پر کھڑا ہوا، جب کہ کوئی دوسری بڑی مسلم ریاست اس کے ساتھ براہِ راست اس معرکے میں شریک ہونے کے لیے تیار نہ تھی۔ یہ حقیقت معاصر سیاسی تاریخ اور مزاحمت کی یادداشت میں ایران کو ایک منفرد مقام دیتی ہے۔لیکن ایران کے اس قیام کو اخلاقی کمال کے غیر تنقیدی دعوے میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔ حضرت محمدمصطفیٰﷺ اور امام حسین  علیہ السلام  کی میراث کسی قوم، نسل یا ملک کی ملکیت نہیں، بلکہ عدل کی میراث ہے۔

ایران اسی حد تک اس میراث کی پاسداری کرتا ہے جس حد تک وہ طاغوت کا مقابلہ کرتے ہوئے خود زیادتی سے بچتا ہے؛ فتنے کی مخالفت کرتے ہوئے جائز حق گوئی کو نہیں دباتا؛ اور اپنی خودمختاری کا دفاع کرتے ہوئے بے گناہ انسانی جانوں کی حرمت پامال نہیں کرتا۔اسی طرح باقی مسلم دنیا کا محاسبہ صرف اُس کے جاری کردہ بیانات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اُس سیاسی نظام کی بنیاد پر ہونا چاہیے جواس نے قائم کیا ہے۔

کربلا کا سوال آج بھی زندہ ہے

۱۔جب کوئی سلطنت اطاعت کا مطالبہ کرے تو اِنکار کون کرتا ہے؟

۲۔جب حق بولنے کی قیمت ادا کرنی پڑے تو آواز کون اٹھاتا ہے؟

۳۔جب مظلوم تنہا کھڑا ہو تو مسجد کی محفوظ فضا سے نکل کر کھلے میدان میں کون آتا ہے؟

 ۶۱؍ ہجری میں امام حسین  علیہ السلام  نے اپنی جان دے کر اُس سوال کا جواب دیا تھا۔چناں چہ ہر عہد میں اور۲۰۲۶ء میں بھی؛ ہم سب کو اِس سوال کا جواب دوبارہ دینا ہوگا۔

حوالہ جات

(الف)القرآن

۱۔سورۃ البقرۃ:۲۵۶

۲۔سورۃآل عمران:۱۰۴

۳۔سورۃ النساء:۶۰،۷۶،۱۳۵

۴۔سورۃ المائدۃ:۸،۲۴،۱۱

۵۔سورۃ النحل:۳۶،۹۰

۶۔سورۃ الزمر:۱۷

منتخب تاریخی مآخذ

۱۔الطبری: تاریخ الطبری، جلد:۱۹، خلافتِ یزید بن معاویہ، مترجم آئی. کے. اے. ہاورڈ

۲۔ولفرڈ میڈلنگ:حسین بن علی:شیعیت میں حیات اور اہمیت، انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا

۳۔ولفرڈ میڈلنگ: جانشینیِ محمدﷺ

۴۔جی. آر. ہاؤٹنگ:اسلام کا پہلا شاہی خاندان

۵۔ہیو کینیڈی: پیغمبر اور خلافتوں کا عہد

۶۔ محمود ایوب: اسلام میں نجات، بخش، مصیبت و قربانی

حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر قدس سرہ حیات و خدمات

حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر قدس سرہ حیات و خدمات

اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ہر دور میں اپنے برگزیدہ بندوں کو دین حق کی اشاعت اور اصلاح خلق کے لیے منتخب فرمایا۔ خاتم النبیین حضرت ﷺ کی بعثت کے بعد یہ عظیم ذمہ داری آپ کی امت کے ان پاکیزہ نفوس نے سنبھالی جنہوں نے اخلاص، تقویٰ، علم اور کردار کی قوت سے اسلام کے پیغام کو دنیا کے مختلف خطوں تک پہنچایا۔ انہی نفوس قدسیہ میں اولیائے کرام و مشائخ عظام کا کردار نہایت نمایاں ہے، جنہوں نے دعوت، تعلیم، تزکیہ اور اصلاح کے ذریعے لاکھوں انسانوں کے دلوں کو ایمان و محبت کی روشنی سے منور کیا۔

برصغیر ہند میں اسلام کی اشاعت اور سلسلہ چشتیہ کے فروغ کا ذکر آتا ہے تو سب سے پہلے حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی عظیم خدمات نگاہوں کے سامنے آتی ہیں۔

آپ نے اس سرزمین پر پہنچ کر دعوت و تبلیغ، تعلیم و تربیت اور اصلاح معاشرہ کا ایسا ہمہ گیر نظام قائم کیا جس کے اثرات صدیوں بعد بھی نمایاں ہیں۔ اگرچہ تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ سے قبل بھی سلسلہ چشتیہ کے بعض بزرگان اس خطے میں تشریف لا چکے تھے، لیکن جس وسعت، قبول عام اور تاریخی اثر پذیری کے ساتھ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے اس سلسلے کو استحکام عطا کیا، وہ آپ ہی کا امتیاز تھا۔ اسی بنا پر آپ کو برصغیر میں سلسلہ چشتیہ کا بانی کہا جاتا ہے، اگرچہ اس سلسلے کے اصل بانی حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی چشتی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔

حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے بعد اس روحانی امانت کو حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد فرمایا۔ پھر یہ فیضان حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچا، جنہوں نے اپنے مرشد کے حکم پر اجودھن (موجودہ پاکپتن) کو دعوت و ارشاد کا مرکز بنایا اور اپنی بے مثال روحانی، اخلاقی اور اصلاحی خدمات سے برصغیر میں اسلام کی جڑوں کو مزید مضبوط کیا۔ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ وہ عظیم المرتبت ہستی ہیں جن کے فیضان سے سلسلہ چشتیہ کو نئی وسعت اور غیر معمولی استحکام حاصل ہوا۔ آپ نے ایسے جلیل القدر خلفا تیار کیے جن میں حضرت محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیا دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت علاء الدین صابر کلیری رحمۃ اللہ علیہ خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان بزرگوں نے برصغیر کے مختلف علاقوں میں دین اسلام کی تعلیمات، محبت، اخوت اور انسان دوستی کا پیغام عام کیا اور لاکھوں انسانوں کی اصلاح کا ذریعہ بنے۔

اگر یہ کہا جائے کہ برصغیر میں سلسلہ چشتیہ کا چراغ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے روشن کیا، تو یہ بھی حقیقت ہے کہ اس چراغ کی روشنی کو آفاقی وسعت اور دوام بخشنے میں حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کا کردار بنیادی اور فیصلہ کن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معروف اسلامی مفکر مولانا ابوالحسن علی ندوی نے آپ کو بجا طور پر "آدم ثانی" کے لقب سے یاد کیا ہے۔ (تاریخ دعوت و عزیمت جلد سوم ص ۳۶)

تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اہل چشت نے ہمیشہ دنیاوی اقتدار، شاہی درباروں اور جاہ و منصب سے بے نیازی کو اپنا شعار بنایا۔ ان کی توجہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا، بندگان خدا کی اصلاح اور اخلاقی و روحانی تربیت پر مرکوز رہی۔ تاہم ان کی روحانی عظمت، علمی وقار اور کردار کی تاثیر ایسی تھی کہ عوام کے ساتھ ساتھ سلاطین اور امرائے وقت بھی ان کے فیضان کے معترف ہوئے، ان کی دعاؤں کے طلبگار بنے اور ان کی بارگاہ میں حاضری کو اپنے لیے باعث سعادت سمجھا۔ منہاج سراج، ابن بطوطہ اور ضیاء الدین برنی جیسے مؤرخین نے بھی حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے خلفا کی دینی، علمی، روحانی اور سماجی خدمات کو نہایت قدر و منزلت کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔

زیر نظر مضمون میں حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کی حیات طیبہ، دعوتی و اصلاحی خدمات، علمی و روحانی مقام اور برصغیر میں اسلام و سلسلہ چشتیہ کے فروغ میں آپ کے بے مثال کردار کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔

شیخ الاسلام والمسلمین، حضرت شیخ فرید الدین مسعود اجودھنی المعروف بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ برصغیر کے ان جلیل القدر اولیائے کرام میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی بے مثال روحانی عظمت، زہد و تقویٰ، مجاہدات، دعوت و ارشاد اور اصلاح خلق کے ذریعے تاریخ اسلام پر انمٹ نقوش ثبت کیے۔ آپ نہ صرف سلسلہ چشتیہ کے ممتاز شیخ اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ سے فیض یافتہ اور حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی قدس سرہ کے محبوب ترین خلیفہ تھے بلکہ آپ نے اپنے کردار، تعلیمات اور خلفا کے ذریعے برصغیر میں اسلام کی اشاعت اور تصوف کی روح کو نئی زندگی بخشی۔ معتبر کتب احوال کا مطالعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ آپ کی پوری زندگی توحید، اخلاص، عبادت، خدمت خلق، تزکیۂ نفس اور انسانیت کی خیر خواہی سے عبارت تھی۔ آپ شہرت اور جاہ و منصب سے ہمیشہ دور رہے، لیکن آپ کی روحانی عظمت ایسی تھی کہ عوام و خواص، سلاطین و امراء اور علماء و صلحاء سبھی آپ کے علم و فضل اور ولایت کے معترف تھے۔

آپ کی ولادت باسعادت کے سال کے بارے میں تذکرہ نگاروں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم جمہور مؤرخین نے ۵۶۹ھ کو زیادہ راجح قرار دیا ہے۔ سیر الاولیاء (ص ۱۷۲۔۱۷۳) کے مطابق حضرت شیخ الشیوخ فرید الحق والدین مسعود گنج شکر کی ولادت ۵۶۹ھ میں ہوئی، جبکہ آپ کا وصال ۶۶۴ھ میں ہوا اور اس اعتبار سے آپ کی عمر مبارک پچانوے برس تھی۔ اسی مؤقف کی تائید مولانا سید عبد الحی حسنی نے نزہۃ الخواطر میں کرتے ہوئے لکھا ہے: "ولد الشیخ فرید الدین مسعود بھا فی سنۃ تسع وستین وخمس مائۃ" (ص ۱۲۷)، جبکہ سن وفات کے بارے میں لکھتے ہیں: "مات فی خمس محرم الحرام سنۃ اربع وستین وست مائۃ، ولہ خمس وتسعون سنۃ کما فی سیر الاولیاء" (ص ۱۲۸)۔

البتہ سید صباح الدین عبد الرحمن نے بزم صوفیہ (ص ۱۲۲) میں خزینۃ الاصفیاء (جلد اول، ص ۲۸۸) کے حوالے سے آپ کی ولادت ۵۸۴ھ نقل کی ہے، لیکن اسی مقام پر یہ وضاحت بھی موجود ہے کہ سیر الاولیاء میں ۵۶۹ھ ہی مذکور ہے۔ اسی طرح مولانا ابو الحسن علی حسنی ندوی نے تاریخ دعوت و عزیمت (جلد سوم، ص ۳۷) میں بھی ۵۶۹ھ ہی کو اختیار کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی قول زیادہ مستند اور قابل اعتماد ہے۔

حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کا اسم گرامی مسعود لقب "فرید الدین" تھا، فرید عربی زبان کا لفظ ہے اور جس کے معنی "یکتا"، "بے مثال" اور "لاثانی" کے ہیں۔ آپ کا شمار چھٹی صدی ہجری کے ان عظیم صوفیا میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے علم، عمل اور روحانی فیضان سے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بدل دیں۔ آپ کا نسب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے اور آپ کابل کے بادشاہ فرخ شاہ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد ماجد حضرت جمال الدین سلیمان تھے، جبکہ والدہ ماجدہ حضرت قرسم بی بی نہایت عابدہ، زاہدہ اور صاحبِ ولایت خاتون تھیں۔

آپ ابھی کم سن ہی تھے کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ یتیمی کے اس دور میں آپ کی والدہ نے نہ صرف بہترین تربیت فرمائی بلکہ عبادت، تقویٰ، اخلاص اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کی ایسی دولت عطا کی جس نے آگے چل کر آپ کو ولایت کے اعلیٰ مقام پر فائز کر دیا۔ حضرت نظام الدین اولیاء قدس سرہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک چور حضرت قرسم بی بی کے گھر میں داخل ہوا تو دروازے کے اندر قدم رکھتے ہی اس کی بینائی جاتی رہی۔ اسے یقین ہو گیا کہ یہ کسی اللہ والی خاتون کا گھر ہے۔ اس نے توبہ کی اور دل ہی دل میں عہد کیا کہ اگر بینائی واپس آ گئی تو کبھی چوری نہیں کرے گا اور اسلام قبول کرے گا۔

حضرت قرسم بی بی نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی، چنانچہ اس کی بینائی لوٹ آئی۔ اگلے دن وہ اپنے اہل و عیال سمیت حاضر ہوا، اسلام قبول کیا اور حضرت قرسم بی بی نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ دعا کی برکت سے وہ بعد میں اہل کمال میں شمار ہونے لگا۔

(سیر الاقطاب) تزکیۂ نفس اور انسانیت کی خیر خواہی سے عبارت تھی۔ آپ شہرت اور جاہ و منصب سے ہمیشہ دور رہے، لیکن آپ کی روحانی عظمت ایسی تھی کہ عوام و خواص، سلاطین و امراء اور علماء و صلحاء سبھی آپ کے علم و فضل اور ولایت کے معترف تھے۔

آپ کی ولادت باسعادت کے سال کے بارے میں تذکرہ نگاروں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم جمہور مؤرخین نے ۵۶۹ھ کو زیادہ راجح قرار دیا ہے۔ سیر الاولیاء (ص ۱۷۲۔۱۷۳) کے مطابق حضرت شیخ الشیوخ فرید الحق والدین مسعود گنج شکر کی ولادت ۵۶۹ھ میں ہوئی، جبکہ آپ کا وصال ۶۶۴ھ میں ہوا اور اس اعتبار سے آپ کی عمر مبارک پچانوے برس تھی۔ اسی مؤقف کی تائید مولانا سید عبد الحی حسنی نے نزہۃ الخواطر میں کرتے ہوئے لکھا ہے: "ولد الشیخ فرید الدین مسعود بھا فی سنۃ تسع وستین وخمس مائۃ" (ص ۱۲۷)، جبکہ سن وفات کے بارے میں لکھتے ہیں: "مات فی خمس محرم الحرام سنۃ اربع وستین وست مائۃ، ولہ خمس وتسعون سنۃ کما فی سیر الاولیاء" (ص ۱۲۸)۔

البتہ سید صباح الدین عبد الرحمن نے بزم صوفیہ (ص ۱۲۲) میں خزینۃ الاصفیاء (جلد اول، ص ۲۸۸) کے حوالے سے آپ کی ولادت ۵۸۴ھ نقل کی ہے، لیکن اسی مقام پر یہ وضاحت بھی موجود ہے کہ سیر الاولیاء میں ۵۶۹ھ ہی مذکور ہے۔ اسی طرح مولانا ابو الحسن علی حسنی ندوی نے تاریخ دعوت و عزیمت (جلد سوم، ص ۳۷) میں بھی ۵۶۹ھ ہی کو اختیار کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی قول زیادہ مستند اور قابل اعتماد ہے۔

حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کا اسم گرامی مسعود لقب "فرید الدین" تھا، فرید عربی زبان کا لفظ ہے اور جس کے معنی "یکتا"، "بے مثال" اور "لاثانی" کے ہیں۔ آپ کا شمار چھٹی صدی ہجری کے ان عظیم صوفیا میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے علم، عمل اور روحانی فیضان سے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بدل دیں۔ آپ کا نسب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے اور آپ کابل کے بادشاہ فرخ شاہ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد ماجدہ حضرت جمال الدین سلیمان تھے، جبکہ والدہ ماجدہ حضرت قرسم بی بی نہایت عابدہ، زاہدہ اور صاحبِ ولایت خاتون تھیں۔

آپ ابھی کم سن ہی تھے کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ یتیمی کے اس دور میں آپ کی والدہ نے نہ صرف بہترین تربیت فرمائی بلکہ عبادت، تقویٰ، اخلاص اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کی ایسی دولت عطا کی جس نے آگے چل کر آپ کو ولایت کے اعلیٰ مقام پر فائز کر دیا۔ حضرت نظام الدین اولیاء قدس سرہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک چور حضرت قرسم بی بی کے گھر میں داخل ہوا تو دروازے کے اندر قدم رکھتے ہی اس کی بینائی جاتی رہی۔ اسے یقین ہو گیا کہ یہ کسی اللہ والی خاتون کا گھر ہے۔ اس نے توبہ کی اور دل ہی دل میں عہد کیا کہ اگر بینائی واپس آ گئی تو کبھی چوری نہیں کرے گا اور اسلام قبول کرے گا۔

حضرت قرسم بی بی نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی، چنانچہ اس کی بینائی لوٹ آئی۔ اگلے دن وہ اپنے اہل و عیال سمیت حاضر ہوا، اسلام قبول کیا اور حضرت قرسم بی بی نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ دعا کی برکت سے وہ بعد میں اہل کمال میں شمار ہونے لگا۔ (سیر الاقطاب)

یہ ارشادات اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ مستقبل میں سلسلۂ چشتیہ کے سب سے عظیم ستون بننے والے تھے۔

اسی لیے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کی خصوصی تربیت نے حضرت بابا فرید کو روحانی کمال کے اعلیٰ مدارج تک پہنچا دیا۔ جب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال قریب آیا تو انہوں نے اپنی خلافت اور روحانی امانتوں کے اصل وارث کے طور پر حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کا انتخاب فرمایا۔ آپ نے اپنا مصلّٰی، عصائے مبارک اور دیگر تبرکات قاضی حمید الدین ناگوری کے سپرد کرتے ہوئے فرمایا:

"من امانت شمارا یعنی سجادہ و خرقہ و دستار و نعلین بقاضی حمید الدین ناگوری خواہم داد، بعد از پنجم روز بشما خواہد رسانید... مقام ما مقام شما است۔"

ترجمہ: میں تمہاری امانت یعنی سجادہ، خرقہ، دستار اور نعلین قاضی حمید الدین ناگوری کے سپرد کر جاؤں گا، وہ پانچ روز بعد تم تک پہنچا دیں گے۔ انہیں حفاظت سے رکھنا، کیونکہ ہمارا مقام درحقیقت تمہارا ہی مقام ہے۔ (تاریخ مشائخ چشت، ص ۱۵۷)

یہ اعلان دراصل حضرت بابا فرید کی روحانی جانشینی اور خلافت کا باضابطہ اعلان تھا۔

طے کا روزہ اور گنج شکر کی وجہ تسمیہ

شیخ فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے جب مجاہدہ کرنا چاہا تو اس سلسلے میں خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا آپ نے فرمایا "طے کا روزہ رکھو" (طے کا روزہ وہ ہوتا ہے جس میں افطار صرف پانی سے کرتے ہیں اور یہ کم از کم تین دن کا ہوتا ہے اور زیادہ سے زیادہ ایک سال، اس طرح روزہ رکھنا صوفیائے کرام کے ہاں ایک عام رسم ہے اور اکابر علمائے اسلام میں بھی بعض حضرات رمضان میں افطار صرف چائے وغیرہ سے کرنے کے بعد اور کچھ نہیں کھایا کرتے تھے۔ رحمہم اللہ، فاضل ۱۲) چناں چہ شیخ گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے طے کے روزے رکھنے شروع کردئیے، اور تین روز تک کچھ نہ کھایا، تیسرے روز افطار کے وقت ایک آدمی نے آپ کے سامنے چند روٹیاں لاکر رکھیں، آپ سمجھے کہ غیب سے آئی ہیں اور انہیں روٹیوں سے افطار کیا لیکن پیٹ نے انہیں قبول نہیں کیا اور کھایا پیا تمام باہر آگیا،

آپ نے یہ واقعہ اپنے پیر و مرشد سے کہا تو انہوں نے فرمایا کہ "اے مسعود! تم نے تین روز روزہ رکھنے کے بعد ایک شرابی کا کھانا کھایا لیکن اللہ کی عنایت نے تمہاری دستگیری فرمائی کہ تمہارے معدے میں اس غذا کو رہنے نہ دیا، اب جاؤ اور پھر تین دن طے کا روزہ رکھو اور غیب سے جو کچھ ملے اس کو کھاکر گزارا کرو"

چناں چہ شیخ گنج شکر نے پھر تین دن طے کا روزہ رکھا اور شام کو کوئی کھانا میسر نہ ہوا، یہاں تک کہ رات کا ایک پہر گزر گیا اور کمزوری بڑھ گئی بھوک کی حرارت سے بدن جلنے لگا، اس عالم بیتابی میں آپ نے ہاتھ بڑھا کر زمین سے کچھ سنگریزے اٹھاکر منھ میں ڈالے تو وہ شکر ہوگئے آپ کو فوراً خیال آیا کہ ہوسکتا ہے یہ بھی شیطانی کرشمہ ہو اس لئے ان سنگریزوں کو تھوک دیا اور پھر یاد الٰہی میں مصروف ہوگئے جب آدھی رات ہوگئی تو کمزوری پہلے سے زیادہ بڑھ گئی آپ نے پھر زمین سے کچھ سنگریزے اٹھاکر منھ میں ڈال لئے وہ پھر شکر بن گئے آپ نے انھیں بھی تھوک دیا، آپ نے تین مرتبہ اسی طرح کیا اور ہر مرتبہ یہی کرامت ظاہر ہوتی رہی تو یقین ہوا کہ یہ نعمت خداوندی ہے اس لئے انہیں کھالیا، پھر دوسرے روز خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضری دی پیر و مرشدنے فرمایا کہ "اچھا کیا جو سنگریزوں سے افطار کیا وہ غیب سے آئے تھے اب جاؤ شکر کی طرح ہمیشہ شیریں رہوگے"

اس دن سے شیخ فریدالدین مسعود کو لوگ گنج شکر کہتے ہیں اور سیرالاولیا میں بھی یہی واقعہ لکھا ہے، آپ کے گنج شکر ہونے کی وجہ تسمیہ کا ایک واقعہ یہ بھی مشہور ہے کہ کچھ سوداگر شکر لے کر جارہے تھے شیخ فرید رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے کچھ شکر مانگی، انہوں نے کہا "شیخ آپ کو مغالطہ ہوا ہمارے اونٹوں پر شکر نہیں بلکہ نمک ہے"، شیخ نے فرمایا "نمک ہی ہوگا"،

سوداگروں نے اپنی منزل مقصود پر پہنچنے کے بعد جب مال کھولاتو وہ واقعی نمک ہی تھا (وہ سمجھے کہ شیخ کی بددعا سے ایسا ہوا، اس لئے دوڑے دوڑے شیخ کے پاس آئے اور عرض کرنے لگے کہ "واقعتہً ہم سے غلطی ہوئی آپ اسے معاف فرمائیں اور دعا کریں کہ وہ شکر ہوجائے" آپ نے فرمایا کہ "شکر ہوجائےگا" چنانچہ وہ نمک پھر سے شکر ہوگیا)۔

خان خاناں نواب محمد بیرم خاں صاحب جاہ و جلال اور مراتب علیا پر فائز ہونے کے باوجود فقیروں اور درویشوں سے اچھا سلوک کیا کرتے تھے، اور امر خداوندی کی تعظیم کے پیش نظر مخلوق خدا پر مہربانی اور شفقت کے کامل مجسمہ اور پیکر تھے، وہ دنیا کی زندگی نیک بختی سے گزار گئے اور دنیا سے شہادت کی موت گئے کے مصداق تھے وہ اس واقعۂ شکر و نمک کے بارے میں فرماتے ہیں ؎

کان نمک جہان شکر شیخ بحر و بر

آں کز شکر نمک کند و از نمک شکر

(نمک کی کان، شکر کا خزینہ، بحر و بر کا شیخ وہ ہے جس نے شکر کو نمک اور نمک کو شکر بنادیا)

(اخبار الاخیارمترجم، ص: ۱۱۹ مطبوعہ: ادبی دنیا مٹیا محل دہلی)

حضرت بابا فرید کی ریاضتوں میں چلۂ معکوس بھی غیر معمولی شہرت رکھتا ہے۔ مرشد کے حکم پر آپ نے چالیس راتیں ایک کنویں میں الٹا لٹک کر عبادت الٰہی میں گزاریں۔ اس مقصد کے لیے آپ نے ایسی مسجد تلاش کی جہاں کنواں، درخت اور ایک رازدار مؤذن موجود ہو۔ آخرکار اُچ شریف کی مسجد حاج میں یہ موقع ملا۔ مؤذن خواجہ رشید الدین مینائی کی مدد سے آپ ہر رات کنویں میں الٹے لٹک کر عبادت کرتے اور صبح ہونے سے پہلے باہر آجاتے۔ چالیس راتوں تک جاری رہنے والے اس مجاہدے کی کسی تیسرے شخص کو خبر نہ ہوئی۔ (سیر الاولیاء مترجم، مطبوعہ ادبی دنیا، مٹیا محل دہلی)

حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کی پوری زندگی محبت، اخوت اور انسان دوستی کا عملی نمونہ تھی۔ ایک مرتبہ کسی شخص نے آپ کی خدمت میں قینچی بطور تحفہ پیش کی تو آپ نے فرمایا: "میں دنیا میں کاٹنے کے لیے نہیں بلکہ جوڑنے کے لیے آیا ہوں، لہٰذا مجھے سوئی اور دھاگے کی ضرورت ہے، قینچی کی نہیں۔"

یہ مختصر سا جملہ درحقیقت آپ کی پوری دعوت کا خلاصہ ہے۔ اولیائے کرام نفرتیں پھیلانے کے لیے نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے، محبت عام کرنے اور انسانیت کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے مبعوث ہوتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کی شہرت دور دور تک پہنچی، بڑے بڑے بادشاہ اور امراء بھی آپ کے آستانے پر حاضر ہوتے، لیکن آپ نے کبھی دنیاوی اقتدار اور جاہ و منصب کو اہمیت نہیں دی۔ آپ کی خانقاہ ہمیشہ غریبوں، مسکینوں اور طالبینِ حق کے لیے کھلی رہی۔

حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات بھی آپ کی روحانی بصیرت کے آئینہ دار ہیں۔

وصال: حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے ایک طویل اور بابرکت زندگی اللہ تعالیٰ کی عبادت، دین کی خدمت اور انسانوں کی اصلاح میں گزاری۔ سیر الاولیاء (ص ۱۷۲۔۱۷۳) اور نزہۃ الخواطر (ص ۱۲۸) کے مطابق آپ کا وصال ۵ محرم الحرام ۶۶۴ھ میں ہوا اور اس وقت آپ کی عمر مبارک ۹۵ برس تھی۔ اگرچہ بعض تذکرہ نگاروں نے سال ولادت ۵۸۴ھ کی بنیاد پر دیگر آراء بھی نقل کی ہیں، جیسا کہ بزم صوفیہ (ص ۱۴۰) میں فوائد الفواد کے حوالے سے مذکور ہے، تاہم جمہور مؤرخین نے ۶۶۴ھ ہی کو راجح قرار دیا ہے۔

آج بھی آپ کا مزارِ اقدس اجودھن (موجودہ پاکپتن شریف) میں مرجع خلائق ہے، جہاں ہر سال لاکھوں عقیدت مند حاضر ہو کر فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی حیات مبارکہ سے یہ ثابت کر دیا کہ اسلام کی حقیقی دعوت تلوار سے نہیں بلکہ کردار، محبت، ایثار، خدمتِ خلق اور اخلاق حسنہ سے عام ہوتی ہے۔ یہی وہ عظیم سرمایہ ہے جس نے آپ کو تاریخ اسلام اور سلسلۂ چشتیہ میں ہمیشہ کے لیے ایک درخشاں اور ناقابل فراموش مقام عطا کیا۔

حقیقت ابدی ہے مقام شبیری

تاریخ اسلام میں واقعہ کربلا ایک ایسا عظیم باب ہے جس نے حق و باطل کے درمیان نمایاں اور واضح خط امتیاز قائم کر دیا۔

تاریخ اسلام میں واقعہ کربلا ایک ایسا عظیم باب ہے جس نے حق و باطل کے درمیان نمایاں اور واضح خط امتیاز قائم کر دیا۔ کربلا محض ایک معرکہ کا نام نہیں، نہ صرف ایک دردناک سانحہ ہے، بلکہ یہ دین مصطفیٰ ﷺ کی حفاظت، حریت انسانی، استقامت على الحق اور ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت، نیز رضاے مولا کی خاطر ہر قربانی پیش کرنے کی لازوال مثال ہے۔

تذکرہ کربلا ہوتے ہی دنیا بھر کے محبان حسین کے دل غم حسین سے بھر جاتے ہیں۔ ماہ محرم میں ان کے نام کی مجالس اور اجتماعات منعقد ہوتے ہیں، ان کے نام پر سبیلیں لگتی ہیں اور ان کے کردار کو، ان کی سیرت کو اور ان کی شہادت کو بیان کر کے ہم اپنے ایمان و یقین کو تازگی بخشتے ہیں۔

مگر ایک سوال جو باربار سامنے آکر کھڑا ہوجاتا ہے یہ  ہر صاحب ایمان کے ذہن میں  پیدا ہونا بھی چاہیے، وہ یہ کہ کیا ہم صرف امام عالی مقام علیہ السلام سے محض محبت کا دعویٰ کرتے ہیں یا ان کے پیغام اور ان کے کردار کو بھی اپنی زندگی میں جگہ دیتے ہیں؟ اس سلسلے میں ہمیں فکر کرنی چاہیے اور اپنے شعور اور اپنے ذہن کو اس طرف بھی متوجہ کرنا چاہیے۔

کربلا اصل میں دین کی بقا کی جنگ تھی۔ امام حسین علیہ السلام کا باطل کے خلاف، ظلم و جبر کے خلاف کھڑا ہونا، یہ کسی اقتدار کی طلب کے لیے نہیں تھا، بلکہ دین مصطفیٰ ﷺ کو تحریف و تبدیل اور اسلامی معاشرے کو ظلم اور جبر سے محفوظ رکھنے کے لیے تھا۔

آپ کا یہ قول مشہور ہے کہ آپ نے اعلان فرمایا کہ ’’میں اصلاح امت کے لیے نکلا ہوں‘‘      آپ کا یہ فرمان عالی شان اس تحریک کا خلاصہ ہے کہ اس کا مقصد کوئی سیاسی رتبہ یا اقتدار حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ امت کی اصلاح، عدل و انصاف کا قیام اور جو دینی روح ہے اس کا تحفظ۔

اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید میں اہل ایمان کو حکم دیا کہ  وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإثْمِ وَالْعُدْوَانِ  نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں مدد نہ کرو۔

اگر امام عالی مقام کا کردار دیکھا جائے اور کربلا کی تاریخ میں آپ کی کردار اور ان کے اس انوکھی سیرت کا جائزہ لیا جائے تو امام عالی مقام اس آیت کی بلکہ یہ سمجھیں کہ قرآن کے اس ارشاد کی عملی تفسیر ہے۔

حسینی کردار

حسینی رنگ و آہنگ اور حسینی کردار ایک ایمانی و دینی کیفیت کا نام ہے۔ یہ وہ کردار ہے، یہ وہ رویہ ہے جس میں انسان اپنی ذات سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول کو محبوب رکھتا ہے۔

یعنی سب سے زیادہ اس کی نظر میں اہمیت اور محبت اللہ سے ہوتی ہے یا اس کے رسول سے ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اپنی ذات سے بھی زیادہ اللہ اور اس کا رسول محبوب ہوتا ہے۔ جیسے کہ قرآن کی آیت اور احادیث میں کہا گیا کہ ایمان کا کمال اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا ہے جب تک کہ مومن اپنی جان، مال، اولاد سب سے زیادہ اللہ کو محبوب نہ بنا لے اور اس کے رسول کو محبوب نہ بنا لے۔

دراصل جو حسینی کردار ہےیہ اسی کی تصویر ہے۔ اگر حسینی کردار کے عناصر کو الگ الگ کر کے دیکھا جائے تو یہ نکات ظاہر ہوتے ہیں:

·      حق پر استقامت

·      ظلم و جبر کے سامنے بے باکی

·      دین کے معاملے میں مصلحت کو اصولوں پر غالب نہ کرنا

·      دنیاوی فائدے کے لیے دین فروشی نہ کرنا

·      اور رضا ئےمولا کو ہر چیز پر مقدم رکھنا

امام عالی مقام علیہ السلام نے یہ بتایا کہ دنیاوی عزت، دنیاوی دولت یا دنیاوی اقتدار یہ آپ کو حقیقت میں کا میابی وکامرانی نہیں ہیں ، بلکہ حق پر استقامت اور حق کے لیے سب کچھ نثار کرنے کا جذبہ یہی آپ کو سب سے اعلیٰ بناتا ہے۔

 حسینی کردار کی عصری معنویت

موجودہ معاشرے کا اگر جائزہ لیا جائے تو بڑے کرب کے ساتھ یہ پہلوسامنے آتاہے جو ایک تلخ حقیقت کے طور پر نمایاں ہے کہ اہل ایمان کی بڑی تعداد حق کا ادراک رکھتے ہوئے، حق کو جانتے ہوئے، اپنی زبان کو حق گوئی سے خاموش رکھتی ہے۔

حق چھپانا یا حق بولنے سے خاموشی کہیں پہ اپنی کوئی ذاتی مفاد کے خاطر، یعنی کسی دنیاوی فائدے کے خاطر اصول قربان کر دیتے ہیں۔ کہیں پہ کسی اقتدار کی ہوس کے خاطر، کہیں پہ ڈر اور خوف کی وجہ سے ظلم برداشت کر رہے ہیں، لیکن آواز نہیں بلند کرتے۔ وہ ایک خوف اور ڈر کی کیفیت میں ہوتے ہیں۔ یہ سارے رویے اور یہ سارے کردار ایسے ہیں جو بالکل امام حسین علیہ السلام کے کردار سے اور ان کی سیرت سے مطابقت نہیں رکھتے.

راہ عزیمت

موجودہ عہد میں ایسے عزیمت پسند اہل حق جاں باز کی ضرورت ہے جو امام پاک کی طرح یہ اعلان اور یہ اظہار کر سکےکہ حق کی حمایت کرنے والا اگر تنہا بھی ہو تو ہم اس کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے ۔ اور باطل پرستوں کی تعداد کثیر کیوں نہ ہو جائے، بلکہ وہ سو میں سے ننانوے کیوں نہ ہو جائے، پھر بھی ہم اس کی تائید نہیں کریں گے۔

اللہ تبارک وتعالی نے قرآن مجید میں بھی یہی حکم فرمایا ہے. اللہ فرماتا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ اےایمان والوں، انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور اللہ کے لیے گواہی دو، اگرچہ وہ تمہارے  اپنی ذات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

ایک دوسرے مقام پر اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا:وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

 تم کمزور مت پڑو، غم نہ کرو، اگر تم ایمان والے ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔

اسی رویے کی اعلیٰ مثال اور اسی کردار کی اعلیٰ مثال امام حسین علیہ السلام نے اپنے عمل سے کربلا کے اندر پیش کیا ہے. اور ایک ایسا نمونہ عطا کیا، ایک ایسا اسوہ عطا کیا جو سب کو اپنانے کی ضرورت ہے.

کیوں نہ ہو کہ رسول گرامی وقار ﷺ نے بھی بڑی تاکید کے ساتھ یہ فرما دیا تھا حدیث ثقلین میں کہ ’’میں  تمہارے درمیان دوبھاری بھرکم چیزیں چھوڑکرجا رہا ہوں، تم اس کو مضبوطی سے تھامے رہنا، تم گمراہ نہیں ہو گے‘‘وہ کیا تھی؟ ’’کتاب اللہ وعترتی اہل بیتی.‘‘(ترمذی)

اللہ کی کتاب اور میں اپنے اہلِ بیت،  تو اہلِ بیت کی محبت اور اہلِ بیت کی اطاعت اور ان کی سیرت کیا اہمیت رکھتی ہے؟ اور اس پس منظر میں دیکھا جائے تو کربلا میں امام حسین کا کردار کتنا اہم ہے؟ اور اہل ایمان کے لیے اس کی کیا اہمیت ہے؟ یہ پوشیدہ نہیں ہے.

صرف امام عالی مقام سے محبت اور عقیدت کا اظہار لفظی طور پر کرنا یہ کافی نہیں ہے۔ بلکہ اس محبت اور عقیدت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے اخلاق، ان کے کردار، ان کا صبر، ان کا تقویٰ اور ان کی استقامت کو جیسا انہوں نے پیش کیا اپنانے کی کوشش کی جائے.

حسینی بننا یہ اصل میں اہل عزیمت کے راستے پر چلنا ہے۔ یہ صرف نعرہ نہیں بلکہ ایک کردار ہے جسے زندگی میں اپنانے کی بےحد ضرورت ہے۔  صرف جذبات سے نہیں بلکہ یہاں پر اطاعت کی ضرورت ہے۔

یاد رکھیں کربلا صرف ماتم اور غم کا عنوان نہیں بلکہ اصلاح امت کا بے مثال دستور و منشورہے۔ امام عالی مقام نے ہمیں سکھایا کہ اگر دین کی حفاظت کے لیے سب کچھ گنوانا پڑے، قربان کرنا پڑے تو یہ سودا قبول کر لینا، یہ خسارے کا سودا نہیں ہے. بلکہ یہ بڑی کامیابی کا سودا ہے۔

آج اس کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے اندر حسینی کردار پیدا کریں. سچ بول لیں اور سچ بولنے کی جرات و ہمت پیدا کریں۔ ظلم و جبر کے سامنے جبل استقامت بن جائیں۔ اور دین کے لیے قربانی کا جذبہ اور حوصلہ پیدا کریں۔

امت نے اگر یہ راستہ اختیار کر لیا تو ان کے لیے بےحد سرخروئی اور عزت و کرامت اللہ کی طرف سے متعین ہے

تعلیماتِ بابا فرید گنج شکرکی عصری اہمیت

برصغیر ہندوپاک میں دین کی تبلیغ کے حوالے سے مشائخ چشت کاکردار اہم رہا ہے

دین کی تبلیغ ایک بڑا کام ہے، جس کافریضہ اَنبیاومرسلین کے بعد صحابۂ کرام نے اپنے ذمہ لیا اور اُس کو بخوبی انجام بھی دیا۔ پھریہ سلسلہ دراز ہوا، اور تابعین وتبع تابعین سے ہوتے ہوئے صوفیائے کرام تک پہنچا۔اِنھوں نے بھی اِس فریضے کو بحسن وخوبی ادا کیا۔ یہ سلسلہ آج تک جاری وساری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا۔(اِن شاءاللہ)

برصغیر ہندوپاک میں دین کی تبلیغ کے حوالے سے مشائخ چشت کاکردار اہم رہا ہے۔ یہ حضرات جس علاقے اور خطے میں گئے بندگانِ خداکے ایمان وایقان میں ایک صالح تبدیلی لانے کا کارنامہ انجام دیااورجہاں اُنھوں نےاپنے قول وعمل سےاُن کے اندر تقویٰ وطہارت کا جذبہ پیدا کیا وہیں اُنھیں خالق حقیقی کے قرب کی لذت سےبھی آشنا کیا۔

مشائخ چشت میں ایک بڑا نام حضرت خواجہ فرید الدین مسعود گنج شکر کا ہے۔آپ نے محض عوام الناس کی تعلیم وتربیت نہیں فرمائی بلکہ خواص بھی آپ کے زیرتعلیم وتربیت رہنے میں فخر محسوس کرتے تھے اور آپ کی نگاہِ کیمیااثر کی طلب میں سبقت لے جانے کو بے قرار رہتے تھے۔ اِس تعلق سےشیخ جمال الدین ہانسوی، حضرت صابر پاک کلیری، خواجہ نظام الدین اولیا وغیرہ قابل ذکر ہیں۔اِن میں حضرت شیخ نظام الدین اولیابالخصوص مرکز توجہ ہیں کہ فریدی شہبازیت کا سہرا اُنھیں کےسربندھا ،یعنی اُنھیں بابافرید کے جانشین ہونے کا شرف حاصل ہوا، اورخواجہ نظام الدین اولیانے بابافریدمسعودگنج شکرکی ظاہری اور باطنی ہردواِعتبارسے باکمال وجمال جانشینی کا فریضہ انجام دیا۔

حالاں کہ اِن مشائخ کے پردہ فرمائے ہوئے صدیاں گزرگئیں لیکن اُن کی تعلیمات وفرمودات سےفیضیاب ہوناآج بھی آسان ہے اور ملفوظاتِ چشت اِس کے بہترین ذرائع ہیں، مثلاً: ’’فوائد الفواد‘‘اور’’سیرالاولیاء‘‘جیسے مجموعے۔اِن میں’’فوائد الفواد‘‘ تو رُوح کا درجہ رکھتا ہے۔ کیوں کہ اِس مجموعے کو حرف بہ حرف خود خواجہ نظام الدین اولیا نے ملاحظہ فرمایاہے اور ضروری اصلاح بھی فرمائی ہے۔یہ جہاں خواجہ نظام الدین اولیا کے ملفوظ کا مجموعہ ہے وہیں اُس میں جگہ جگہ بابا فرید کے ملفوظات بھی بیان ہوئے ہیں اور اِس کے راوی خود خواجہ نظام الدین اولیا ہیں جن کے معتبر ومعتمد ہونے میں ذرّہ برابر بھی شک کی گنجائش نہیں ہے۔

ذیل میں شیخ الشیوخ حضرت شیخ فریدالدین گنج شکر قدس سرہٗ کی تعلیمات وفرمودات سے کچھ منتخبات پیش کیے جارہےہیں اِس اُمید کے ساتھ کہ یہ ہم سب کے لیے دین ودنیا دونوں میں بخوبی نافع وخیر بخش ہوں۔ملاحظہ کریں:

ترک دنیا اوراُس کے فوائد

سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیا قدس سرہٗ بیان کرتے ہیں:

شیخ کبیر بابافریدنے فرمایا:چار چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں سات سو پیروں سے سوال کیا گیاتو سب نے ایک ہی جواب دیا :(۱) لوگوں میں سب سے زیادہ عقلمند کون ہے؟اِس کا جواب دیاگیا:دنیا کو ترک کرنے والا۔(۲) لوگوں میں زیادہ بزرگ کون ہے ؟اِس کا جواب دیا گیا: جو کسی حال سے متغیر نہ ہو۔(۳) لوگوں میں زیادہ مال دار کون ہے؟جواب دیا گیا: قناعت کرنے والا۔ (۴) لوگوں میں زیادہ محتاج کون ہے؟جواب دیاگیا: قناعت ترک کرنے والا۔

مزید شیخ کبیر نے یہ(حدیث) بھی(بیان) فرمائی: اللہُ يَسْتَحْيِي مِنَ الْعَبْدِ أَنْ یَّرْفَعَ إِلَیْہِ یَدَیْہِ وَیَرُدُّھُمَا خَائِبَیْنَ۔

(سنن ترمذی، حدیث:۳۸۶۵)

خدائے تعالیٰ بندے کے اس کی طرف ہاتھ اٹھانے اور پھر اُسے نامراد لوٹادینے سے حیا فرماتا ہے۔

(سیر الاولیاء،نکتہ:پنجم،ص:۱۶۸)

۱۔پہلے سوال میں ترک دنیا کی ترغیب دی گئی ہے۔ترک دنیاکا مطلب یہ ہے کہ انسان، دنیا کی محبت سے خود کو آزاد کرلے ،اُس کے دل میں دنیا کی محبت نہ ہو بلکہ خالق ِدنیا کی محبت ہو۔ دنیا کا حصول اُس کی دلی تمنا نہ ہو بلکہ اُس کا دل خدا کی محبت سے شادوآباد رہے۔ صوفیائےکرام کے نزدیک ترک دنیا کا مطلب یہی ہے اور دین بھی ہم سےیہی مطالبہ کرتا ہے ۔

ایک روایت میں دنیا کی محبت کو تمام بُرائیوں کا جڑ کہا گیا ہے،جس کامطلب بھی یہی ہےکہ انسان اس دنیا میں رہے تو دنیا طلبی اُس کی زندگی کا مقصد نہ ہو بلکہ اس کا مقصد خالق دنیا کو پانا ہو۔جو اُس مقصد سے غافل ہوتا ہے اُس کے اندر دنیا کی محبت جڑپکڑ لیتی ہے اور پھر اُس سے جملہ خرافات وبُرائیاں جنم لینے لگتی ہے اور اُس کا اثر اُس کی ذات سے دیگر اَفراد تک پہنچتا ہے اور پھر یہ سلسلہ معاشرے کی تباہی وبربادی تک جا پہنچتا ہے ۔

۲۔دوسرے سوال میں صفت ِبزرگیت بتائی گئی ہےکہ جس کے دل پر دُنیا اور دنیا کی کوئی بھی چیز اثر اندازنہ ہو۔مطلب یہ ہےکہ جو شخص ہر حال میں صابر وشاکر ہو، خواہ اُن پرکیسی بھی پریشانیاں اور مصیبتیں آئی ہوںوہ پریشانیاں اور مصیبتیں اُن کی زندگی میں کوئی تبدیلی پیدا نہ کرسکیں وہ اپنی جگہ پرقائم رہے ۔وہ بادِ مخالف سے کبھی نہ گھبرائے بلکہ ہمہ وقت اللہ سبحانہ کی جانب مائل رہے، تو ایسا شخص لوگوں میں سب سے بزرگ اورعظیم ہے ۔

اورایک مومن کی صفت بھی یہ ہے کہ وہ ہر حال میں راضی برضا رہے اور کسی ناگہانی مصائب وآلا م سے پریشان نہ ہو، بلکہ ان پریشانیوں کو رضامندی کے ساتھ قبول کرے۔ مشائخ کی زندگی ہمیں اس بات کی عملی تصویر دکھا تی ہے کہ وہ کبھی بھی کسی بھی حال میں اپنے قدم میں جنبش نہیں آنے دیتے،خواہ اُن پر کیسی بھی دقتیں اور پریشانیاں آجائیں وہ ہر حال میں ثابت قدم رہتے ہیں اور یہی چیزیں اُن کے اندر بزرگی پیدا کرتی ہیں ۔

۳۔تیسرےسوال میں زیادہ دولت مند شخص کی نشانی بتائی گئی ہےکہ جو قناعت کرتا ہو۔ قناعت کا لغوی معنی قسمت پرراضی رہنا ہے اور تصوف کی اصطلاح میں روز مرہ استعمال ہونے والی چیزوں کے نہ ہونے پر بھی راضی رہنا قناعت ہے۔

(التعریف للجرجانی،ص:۱۲۶)

حضرت محمد بن علی ترمذی فرماتے ہیں: قناعت یہ ہے کہ انسان کی قسمت میں جو رزق لکھا ہے اس پر اُس کا نفس راضی رہے۔(رسالہ قشیریہ،باب القناعۃ،ص:۱۹۷)

یعنی اللہ سبحانہ نے انسان کے حق میں جو کچھ لکھ دیا ہے اس پر قانع ہوجانا ہی دولت مندی کی علامت ہے۔ اس سے بڑا مال دار دنیا میں کوئی نہیں ہوتا جسے قناعت کی دولت نصیب ہوجاتی ہے۔کیوں کہ جوصابروقانع ہوتا ہے اُس کی زندگی پُرسکون ہوتی ہے۔ اُس پر پریشانیوں کا کوئی اثر نہیں ہوتاہے،اور قناعت کرنے والے کو اللہ سبحانہ بھی اپنادوست رکھتاہے۔روایت میں ہے:

حضرتِ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ عزوجل پرہیزگار، قناعت پسند اور گمنام بندے کو پسند فرماتا ہے۔(صحیح مسلم،کتاب الزہد ،حدیث:۲۹۶۵)

ہربندہ اپنا محاسبہ کرے کہ وہ کس قدرقناعت پسند ہے۔لیکن ہمارا حال تو یہ ہےکہ ہمارے اندر کچھ بھی قناعت شعاری باقی نہیں رہی۔ اللہ سبحانہ نے جس قدرنعمتیں دے رکھی ہیں اُن نعمتوں پر قانع ہونے کے بجائے مزید کی طلب میں بھاگم بھاگ مچائے ہوئے ہیں،بلکہ مزیددرمزید کے چکر میں بے راہ روی کے شکار رہتےہیں،حلال وحرام کی تمیز ختم ہوگئی ہے اور ہماری ناعاقبت اندیشی یہ ہےکہ ہمیں اِس کااحسا س بھی نہیں۔جب کہ قناعت پسندی ہرمومن کا شعار ہونا چاہیے،چناں چہ شیخ کبیر بابافرید قناعت پسندی کی تعلیم دےکر ہربندۂ مومن کو ربانی قہر اور جباری پکڑ سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں،تاکہ دین ودنیا ہرجگہ سرخرو رہے ۔ ۔چوتھے سوال میں محتاج بندے کی نشانی بتائی گئی ہےکہ بےصبری اور دنیا کی طلب انسان کو محتاج بنادیتی ہے۔ اِس لیےماسوا اللہ سے بےنیازی اختیار کرے، اورصرف اور صرف اپنے خالق ومالک کا نیازمنداورمحتاج بنےکہ یہی خدائی تعلیم ہے ۔اِسی تعلیم کو آگے بڑھاتے ہوئے بابا فرید فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ محتاج بےصبرااوردنیاسے لولگانے والاشخص ہے، کیوں کہ جس کی زندگی قناعت سے خالی ہے وہی سب سے زیادہ محتاج ہے اورترکِ قناعت سے انسان دوسرے کا محتاج ہوجاتاہے۔جب کہ ایک مومن کا شیوہ یہ ہے کہ وہ ہرحال میں اللہ سبحانہ ہی پر توکل کرے اور اُسی کا محتاج رہنے کی دعاکرے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی محتاجی اورمفلسی سے اللہ کی پناہ مانگتےتھے۔ جیساکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعافرماتے تھےکہ’’یااللہ! میں فقر ومحتاجی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (سنن ابو داؤد ،باب الاستعاذۃ،حدیث:۱۵۴۴ )

اخیرمیں بابافرید اللہُ يَسْتَحْيِي مِنَ الْعَبْدِ أَنْ یَّرْفَعَ إِلَیْہِ یَدَیْہِ وَیَرُدُّھُمَا خَائِبِیْنَ کے پردے میں اپنے مرید ین ومتوسلین اور عام بندگانِ خدا کو اِس بات کی طرف رہ نمائی کرتے ہیں کہ اپنے رب سے نااُمید نہ ہوں بلکہ رب کی ذات تو ایسی ہے کہ جب اُس کا کوئی بندہ اس کی بارگا ہ میں ہاتھ پھیلاتاہے تو اُسے اِس بات سے حیا آتی ہے کہ وہ اپنے بندے کو نامراد وناکام لوٹا دے ،بلکہ وہ اپنے بندے کی التجاؤں کو سنتا ہے اور اُس کی طلب وحاجت کو پوری کرتا ہے ۔

محبت و تعلق کی اُستواری

مشائخ کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ کسی سے نفرت نہیں کرتے اور نہ کسی کو اپنی بارگاہ سے بھگاتے ہیں، بلکہ وہ سب سے محبت رکھتے ہیں اور سب کواِسی بات کا درس بھی دیتے ہیں۔ وہ قولاً اور فعلاً اِس پرمضبوطی کے ساتھ عامل رہتے ہیں کہ’’توبرائے وصل کردن آمدی نے برائے فصل کردن آمدی‘‘۔وہ خود بھی بندگانِ خدا سے تعلق بنائے رکھتے ہیں اورایک دوسرے کو بھی آپس میں تعلق جوڑے رکھنے کی تاکید وتلقین کرتے رہتے ہیں۔اِس سلسلے میں بہت ہی مشہور واقعہ ہے کہ ایک شخص نے شیخ الاسلام فرید الدین قدس اللہ سرہٗ کی خدمت میں چھری بطورِتحفہ پیش کیا۔اِس پرشیخ نے وہ چھری اُس کو واپس دےدی اور فرمایاکہ میرے پاس چھری نہ لاؤ بلکہ سوئی لاؤ، کیوں کہ چھری کاٹنے ( توڑنے ) کا آلہ ہے اور سوئی جوڑنے کا آلہ ہے۔(فوائد الفواد، جلد: ۵ ،مجلس: ۵ )

گویا آپ نے اِس قول سے اُس شخص کی تربیت فرما دی کہ انسان کو جوڑنے کا کام کرنا چاہیے نہ کہ توڑنے کا، اِس لیے کہ دین میں توڑنے کی تعلیم نہیں بلکہ جوڑنے کی تعلیم دی گئی ہے، اور ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سب کو جوڑنے کے لیے ہی مبعوث کیے گئےتھے۔

حضرت بابا فرید کی حیات میں یہ باتیں بدرجہ اتم موجو د تھی کہ آ پ کی بارگاہ میں ہر مسلک ومشرب کے پیاسے آتے اور آپ سے سیراب ہوتے۔محبت کی تعلیم ایسی تعلیم ہے جس کے ذریعےبڑے سے بڑے دشمن کو بھی زیر کیا جاسکتا ہے، اُس کے برعکس کسی اور طریقے سے دشمن کو زیر کرنا بڑا کٹھن امر ہے۔جیسا کہ آقائےنامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ اِس بات پر شاہد ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محبت کی فضا قائم نہ کی ہوتی اور لوگوں کو اُلفت ومحبت کا درس نہ دیےہوتے تو آج دنیا محبت کےدوبول کے لیے ترس جاتی اور ہرچہار جانب نفرت ہی نفرت کا غلغلہ ہوتا۔ لیکن اللہ سبحانہ نے آپ کو محبت ومودت کی تاسیس کےلیے مبعوث کیا اور آپ نے بھی اپنی مختصر سی حیات طیبہ میں انسانوں کے قلوب واذہان میں محبت والفت کی مہریں ثبت کردیں اور دنیا اَمن وامان اور چین وسکون کی آماجگاہ بن گئی ۔

موجودہ حالات میں جب کہ لوگ محبت سے دوراور نفرت کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ دنیا کاایک بڑا طبقہ آپسی بغض ونفرت اور مذہبی عصبیت میں گرفتارہے۔ذاتی مفاد کی خاطر اِنسانوں کی عزت سے کھیلنا عام سی بات ہوگئی ہے ۔ ہرگاؤں محلہ نزاع کا میدان بن گیاہے۔ایسے ماحول میں بابا فرید کی اِن تعلیمات کو عام کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے ۔

وقت کی قدروقیمت

ایک مقام پربابافرید فرماتے ہیں: امام شافعی کا مقولہ ہے کہ میں نے پورے دس سال صوفیہ کی شاگردی اختیارکی تب کہیں جاکر مجھے وقت کی قدر معلوم ہوئی۔ (سیر الاولیاء، نکتہ:پنجم،ص:۱۶۸)

امام شافعی کا قول پیش کرکےآپ نے اپنے مریدین ومتوسلین کو وقت کی قدر واہمیت کی طرف توجہ دلائی کہ وقت اللہ سبحانہ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔ اگر کسی نے وقت کو ضائع کیا تو وقت اُسے ضائع کردے گا۔جیساکہ عربی کا ایک مقولہ ہے: اَلْوَقْتُ کَالسَّیْفِ إِنْ لَّمْ تَقْطَعْہُ قَطَعَکَ۔وقت ایک تلوار کی مانند ہے، اگر تم اُسے صحیح طورپر اِستعمال نہیں کروگے تو وہ تمھیں ہی نیست ونابود کردےگا۔

بالخصوص ٹکنالوجی کے اِس عہد نے انسانی ذہن اور وقت کو بھی اَپنے دامن میں سمو لیا ہے۔ موبائل اور اِنٹرنیٹ کی ایجادات جہاں انسان کی زندگی میں آسانیاں پیدا کیں ہیں، وہیں اس کے مہلک اور منفی اثرات بھی رونماہو رہے ہیں۔ انسان اکثر اوقات موبائل میں مصروف رہتا ہے جو اُنھیں معاشرے محض خاندان سے الگ نہیں کرتا ہےبلکہ اُنھیں نفسیاتی اضطراب میں بھی مبتلا کردیتا ہے۔اِس لیے وقت کی قدر اور اُس کادرست استعمال انسان کے لیے باعث ِخیر ہے۔

زبان کی حفاظت

شیخ الاسلام بابافرید گنج شکرفرماتےہیں کہ مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمہ کا قول ہے: اَلْکَلَامُ  مُسْكِرُ الْقُلُوْبِ إِنَّ أَوَّلَ الْکَلَامِ وَاٰخِرَہٗ إِنْ کَانَ لِلہِ فَتَکَلَّمْ وَإِلَّا فَاسْکُتْ۔ بہت سی باتیں ایسی ہیں جو دل کو غافل اور بد مست کردیتی ہیں، اگرکلام کا آغاز واَنجام اللہ سبحانہ کے لیے ہوتواُسے کرو ،ورنہ خاموشی اختیار کیے رہو۔(سیر الاولیاء، نکتہ:پنجم،ص:۱۶۸)

اِس قول میں ایک اہم نکتے کی طرف رہ نمائی فرمائی ہےکہ کوئی بھی بات ہو بولنے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لو کہ اُس کا انجام کیا ہوگا۔ آیا وہ بات اللہ سبحانہ کی رضا کے لیے ہے یا نہیں۔ اگر اُس میں اللہ سبحانہ کی رضا شامل ہے،تو وہ بات بولی جائے، ورنہ خاموشی اختیار کی جائے۔اِس تعلق سےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےبھی تنبیہ فرمائی ہے، ارشاد ہے:

مَنْ صَمَتَ نَجَا۔جوخاموش رہا وہ نجات پا گیا ۔(سنن ترمذی ،حدیث :۲۵۰۱)

موجودہ زمانے میں یہ وبا اِس قدر عام ہے کہ جس کےجی میں جو آتا ہےوہ اپنی زبان سے نکالتا ہے۔ اُسے اِس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتا کہ اُس کی زبان سے نکلنے والا لفظ یاکلام کسی کے دل کی تکلیف کا سامان بن رہا ہے یا خود اُس کی اپنی عاقبت خراب ہو رہی ہے ۔اِس لیے زبان کے غلط اِستعمال سے بہرحال پرہیز لازم ہےتاکہ اُس کے منفی اثرات سے انسان اور معاشرہ دونوں محفوظ ومامون رہےاور اللہ سبحانہ کی ناراضی کی جگہ اُس کی رضا حاصل رہے۔

غرض یہ کہ بابافرید گنج شکر کے اقوال وتعلیمات کی روشنی میں یہ بات بڑے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اگرکوئی ترک دنیا،قناعت شعاری، اللہ کی محتاجگی،محبت وتعلق کی اُستواری، زبان کی حفاظت اور بہرحال رضائے الٰہی کی طلب کاجذبہ اپنے اندرپیدا کرلےاور اِس سمت میں عملی پیش قدمی کرنے کاعہدکرلے تو محض اُس کی ذاتی زندگی میں ہی صالح انقلاب نہیں آئےگا بلکہ اِنسانی معاشرےمیںناقابل تسخیر تبدیلی رونما ہوگی اور پھراُس کے مثبت اثرات سے دنیا میں ہرطرف حیات ِانسانی کی فرحت بخش کلکاریاں گونج اُٹھیں گی۔ (ان شاءاللہ)

فکری وجماعتی انتشارمیں علمی نرگسیت کا اہم کردار

اِس مضمون میں ’فکری نرگسیت/عالمانہ خودستائی‘ کی اصطلاح کسی طبی تشخیص کے طورپر نہیں،بلکہ اخلاقی اور سماجی کیفیت کے طورپر اِستعمال ہوئی ہے

اندھی عقیدت و تقلید

بلاشبہ ایک مذہبی اسکالر اپنے عمل کا آغاز تحقیق و مطالعے کے سچے جذبے سے کر سکتا ہے، جیسے کہ مقدس کتابوں کی تلاوت و فہم، روایات وا خبار کی جرح وتعدیل، دلائل کا باہمی موازنہ اور اپنی جماعت ومعاشرے کی رہنمائی کرنے کی کوشش۔البتہ! اصل خدشہ وخطرہ اس وقت پیداہوتا ہے جب کسی مذہبی اسکالر کا اخذ کردہ نتیجہ محض ایک انسان کی ممکنہ خطا پر مبنی تشریح کے بجائے، حتمی اور اِلہامی طورپر مصدقہ ومحکم بنا کر پیش کیا جاتاہے۔لہٰذاٹھیک اُسی لمحےتکریمِ علم وتحقیق کاجذبہ؛ دبے پاؤں اہل علم کی شخصیت پرستی کا روپ دھار لیتا ہے، انسان کا تخلیق کردہ نظام تقدس کی چادر اُوڑھ لیتاہے،اختلاف رائےکو نافرمانی/گمرہی قرار دے دیا جاتا ہے، تنقید ؛الحاد و بے دینی/گستاخی میں بدل جاتی ہے اورپھرمذہبی اسکالرکافکری اثاثہ؛ دوسروں کے دل و دماغ پر تسلط قائم کرنے کا آلۂ کار بن جاتی ہے۔یہی وہ فکری رویہ ہے جسے’ فکری نرگسیت‘کا نام دیا جا سکتا ہے، جس سےمتأثر کوئی بھی اسکالر، ادارہ یا طبقہ صرف اپنے نظریات کی تقدیس کا قائل ہو جاتا ہے، صرف اپنی تعبیر وتشریح کویکتاوبےعیب اورحتمی وحق تسلیم کرتا ہے اور خود کو برتر اور مخالف گروہ کو کمترثابت کرنے کے لیے کسی نہ کسی کو گمراہ قرار دیتا ہے۔

یہ بھی واضح رہےکہ اس اصطلاح کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہرمذہبی اسکالر ’فکری نرگسیت/خودستائی‘کا شکار ہے، یاہر سنی فکر بنیادی طور پر انتشار کا داعی ہے، بلکہ یہ بحث و تکرار پر مبنی مذہبی معاشرت کے اندر بار بار جنم لینے والے ایک ایسے روگ (مرض) کی نشاندہی کرتی ہے جس میں انسانی رائے کو حتمی اور مطلق بنا دیا جاتا ہے، مفسر (تشریح کرنے والے) کو مقدس قرار دے دیا جاتا ہے، اور دوسروں کو خارج (مسترد) کر کے اپنے گروہ کی طاقت کو مضبوط کیا جاتا ہے۔

اِس اصطلاح کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ ہر مذہبی اسکالر خودستائی میں مبتلا ہے یاہرسنی فکرفطرتاًفرقہ پرستی پر مبنی ہے، بلکہ اِس اصطلاح کے پردے میں مذہبی مناظرانہ کلچر میں بار بارسراُٹھانے والی ایک فکری بیماری کی شناخت کرناہےکہ جہاں انسانی فہم وتعبیرکومطلقاً کمال وبےعیب کادرجہ دے دیا جاتا ہے،مفسرو شارح اِسکالر کا تقدس قائم کیا جاتا ہے اور مخالفین کےاختلاف رائے کومسترد کرتے ہوئے محض اپنے گروہ کی طاقت کو مضبوط و مستحکم کیاجاتا ہے۔

گویایہ ایک بہت بڑا تضاد ہےکہ اسلام تو اِنسان کو مخلوق کی محکومی /بندگی سے نجات دلانے کے لیے آیا تھا، مگر مذہبی ادارے، بندے اور اللہ کے درمیان مفسرین کا ایک طبقہ حائل کر کے اُسی محکومی/بندگی کو دوبارہ ہوا دیتے ہیں۔گفتگو کا اسلوب وزبان تو اِسلامی ہی رہتی ہے، مگر اُس کا باطن غیراللہ پرستی میں مبتلاہوجاتا ہے، یعنی وہ اطاعت ربانی کی جگہ شخصیت پرستی کی طرف منتقل ہو جاتاہے، جس کے فیصلوں کو اخلاقی اور علمی وعقلی جرح وتعدیل سے بالاتر سمجھ لیا جاتا ہے۔

فکری غیریت سازی

مذہبی غیریت سازی (The Religious Other) کا یہ کارخانہ بالعموم ایک متعین تسلسل کے ساتھ کام کرتا ہے۔ یہ محض کسی نظریاتی تصادم کا اتفاقی شاخسانہ نہیں، بلکہ یہ بنیادی طریقہ کاربن جاتا ہے جس کے سہارے کوئی بھی مسلک اپنی شناخت، متبعین کی وابستگی اور اپنی طاقت وقوت کو مضبوط کرتا ہے۔

۱۔کوئی عالم یا مکتب فکرایک ایسی تعبیر وتشریح پیش کرتا ہے، جسے وہ دیگر قابلِ قبول تشریحات میں سے محض ایک تشریح تسلیم کرنے کی جگہ اُسےکوحرفِ آخر سمجھتا ہے۔

۲۔ تعبیر/نظریہ؛جماعتی شناخت کاحصہ بن  جاتا ہے کہ اُس پر سوال اٹھانا ؛جماعت پر سوال اُٹھانے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔

۳۔دانشور/اسکالر کو اَلقابات، حسب ونسب، مکاشفات و الہامات، روحانی دعووں یا ادارہ جاتی تکرار کے ذریعے اُس بلند مرتبےپر پہنچادیا جاتا ہے کہ اُس پر تنقید کفر/توہین و بے حرمتی کااحساس دلانے لگتاہے۔

۴۔ حریف /مخالف کو رافضی، ناصبی، وہابی، بریلوی، دیوبندی، فلسفی، بدعتی، زندیق یا کافر جیسے کسی ایک خول میں محدود کردیا جاتا ہے، جس کے باعث حریف/مخالف کااپنگ وجوداور اُس کی حیثیت ہی ختم ہو جاتی ہے۔ ۔دلائل وشواہدکی جگہ اخلاقی بیزاری اورنفرت لے لیتی ہے۔ فرائض وواجبات، مناکحت، خوردونوش، سلام وکلام، جنازہ وتدفین اور معاشرتی میل جول سے متعلق سخت قوانین وضوابط بناکرباہمی فاصلے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

۶۔ یہ حدبندی/حصاربندی خود کار طریقے پراپنے وجود کو تقویت دیتی ہے کہ حریف/مخالف کی مذمت وتذلیل؛ وفاداری کی دلیل بن جاتی ہے اور محض توقف یا احتیاط کو بھی فکری بےاعتدالی، یا کفر متصور ہونے لگتا ہے۔

یہ پوراعمل؛ قائدین ومتبعین دونوں کوفائدہ پہنچاتا ہے۔ اِس کی وجہ سےقائدین کو اِقتدار،عقیدت مند، ادارے اور گروہ پرمطلق کنٹرول /اختیار حاصل ہوجاتاہےکہ کون اُس گروہ کا حصہ ہے اور کون نہیں۔دوسری طرف، متبعین کوبذات خودغوروفکر اورسوچنے سمجھنے کی زحمت واضطراب سے نجات مل جاتی ہے۔چناں چہ ’ہم ہی حق پر ہیں‘ کا دعویٰ کرنا نفسیاتی اعتبار سے اُس احساس سے کہیں زیادہ آسان ہو جاتا ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں اُس طریقِ کار کے لیے ہم جواب دہ ہیں ۔یعنی لوگ تحقیق وجستجوکی ذمہ داری اُٹھانے سے ڈرتے ہیں، اِس لیے وہ کسی نہ کسی قائد کی اندھی تقلید کرکے خود کوحق اور دوسروں کوناحق کہنا زیادہ آسان سمجھتے ہیں۔

جدید عمرانی نفسیات میں اِس سے مربوط ایک رجحان ورویے کو ’گروہی نرگسیت‘ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب اپنے گروہ کی بڑائی کا ایک ایسا سحر آمیز تصور ہے جس میں یہ وہم بھی شامل ہو کہ بیرونی دنیا اُن کی اس فوقیت کا اعتراف کرنے سے قاصر ہے۔ ایسے گروہ توہین یا بے عزتی /سبکی کے معاملے میں غیر معمولی حد تک حساس ہو جاتے ہیں اور مبینہ بے اعتنائی یا تحقیروسبکی کا جواب شدید عناد اور دشمنی سے دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔مذہبی تناظر میں یہ رویہ غیر معمولی حد تک زہریلا اور مؤثر ہو جاتا ہے، کیوں کہ یہاں گروہی تفاخر کو مشیتِ الٰہی کا رنگ دے دیا جاتا ہے۔ پھر انسانی انا محض اس ادعا پر اِکتفا نہیں کرتی کہ ’میں صراطِ مستقیم پر ہوں‘ بلکہ وہ پکار اُٹھتی ہےکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا انتخاب کیا ہے، لہٰذا ہم سے عناد گویا اللہ تعالیٰ سے عناد ہے۔

شخصیت پرستی کی تقدسیت

قرآن مجید میں اگرچہ علمی نرگسیت جیسی جدید اصطلاح استعمال نہیں ہوئی، تاہم وہ شخصیت پرستی، ہوائے نفس، موروثی روایات اور پندارِ تقویٰ کو اُس مسند پر بٹھانے سے ہمیشہ روکتا ہے جو محض اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔ان قرآنی آیات کو نامزد علما کوکافر ومشرک قرار دینے کے لیے بطور ہتھیار اِستعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

 ان کی نوعیت اخلاقی اور تشخیصی ہے۔ یہ آیات اندھی تقلید کے اُس ہولناک رُخ کو آشکار کرتی ہیں جس میں انسانی فہم و فیصلے کے سامنے اِس طرح سر تسلیم خم کر دیا جاتاہے جوکہ اُصولی طورپر صرف رب العزت کا خاصہ ہے۔چناں چہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’اُنھوں نے اپنے پادریوں اور راہبوں کو اللہ کے سوا رب بنالیا اور مسیح بن مریم کو(بھی) حالاں کہ اُنھیں صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ ایک معبود کی عبادت کریں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ان کے شرک سے پاک ہے۔

( القرآن،سورۃالتوبہ :۹،الآیہ:۳۱)

یہ آیت؛ علم و دانش یا مذہبی قیادت پر کوئی حملہ نہیں ہے، بلکہ یہ اپنی اخلاقی خود مختاری (غوروفکر کی صلاحیت) کو کسی کے آگے گروی رکھ دینے پر حملہ ہے۔ جناب عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے منسوب مشہور تشریح کے مطابق:علماکی تعظیم سے مراد اُن کے آگے سجدہ ریز ہونا/جبیں سائی کرنا نہیں تھا، بلکہ حلال و حرام کو نئے سرے سے طے کرنے کا اُنھیں اختیار دینا اور پھر بلا چون و چرا اُن کی تابعداری کرنا تھا۔ چناں چہ یہ انتباہ ہر دینی روایت پر نافذ ہوتا ہےکہ جب کسی فقیہ/ محقق کے فیصلے کو وحی، عدل، عقل اور ضمیر کی کسوٹی پرجانچنے کے بجائے بذاتِ خود مقدس مان لیا جائے، تو مذہبی فرماں برداری دراصل درپردہ مخلوق کومسندا ربابیت پربٹھانے کی ایک شکل بن جاتی ہے۔ارشادِ ربانی ہے:

’بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنالیا اور اللہ تعالیٰ نے اُسے علم کے باوجودگمراہ کردیا اور اُس کے کان اور دل پر مہر لگادی اور اُس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ کے بعد اُسے کون راہ دکھائے گا؟تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟‘ (القرآن،سورۃ الجاثیہ: ۴۵،الآیۃ:۲۳)

یہ آیت واضح طور پر نفسانی خواہش اور علم کو آپس میں جوڑتی ہے۔لیکن فکری عبقریت ؛نفس کا تزکیہ نہیں کرتی، بلکہ یہ’ انا‘ کو موثرومہلک حربے فراہم کر دیتی ہے۔ ایک عالم اپنی کینہ پروری، جاہ پسندی، خوف یاحریفانہ چشمک کو عقلی جواز فراہم کر سکتا ہے اور پھر اُن نفسانی خواہشات کو عقیدےاورنظریے کانام بھی دے سکتا ہے۔ اِس طرح علم، زہد و ورع کا لبادہ اوڑھے رکھنے کے باوجود، عملاً خواہشِ نفس کا کارندہ اور غلام بن جاتا ہے۔ارشاد ربانی ہے:

تم خود اپنی جانوں کی پاکیزگی بیان نہ کرو، وہ خوب جانتا ہے اُسے جو پرہیزگار ہیں۔ (القرآن، سورۃ   النجم:۵۳،الآیۃ:۳۲)

فرقہ وارانہ نظاموں کاآغاز اکثر دعویٔ عبقریت سے ہوتاہےکہ ہمارا عقیدہ غیر آلودہ وخالص ہے، ہمارا سلسلہ وسندبرتر ہے، ہمارے اولیامحفوظ ہیں اور صرف ہمارے علماوفقہا ہی راسخ العقیدگی کی نمائندگی کرتے ہیں۔جب کہ قرآن؛ انسانوں سے یہ اختیار واپس لیتا ہے۔ حتمی اخلاقی درجہ بندی صرف اللہ کا حق ہے، وقار و برتری کے لیے آپس میں متصادم ہونے والے مذہبی مکاتبِ فکر کانہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

جو شخص تمھیں سلام پیش کرےاُس سے یہ نہ کہوکہ تم مسلمان نہیں ہو۔ (القرآن،سورۃ النساء: ۴،الآیۃ:۹۴)

یہ آیت: اخراجِ دین کی ہرخواہش کے سامنے ایک رکاوٹ کھڑی کرتی ہےاور اہل ایمان کی رہنمائی کرتی ہے کہ وہ دنیوی فائدے کے لیے کسی دوسرے شخص کے ایمان پر حملے کے جذبے کے خلاف مزاحمت کریں۔ یہ اصول اُس وقت اور بھی حساس ہوجاتا ہے جب مذہبی شناخت وفتوے؛ مال وجائیداد،جاہ و منصب، مناکحت، جنازہ وتدفین، تحفظ وسلامتی اور سیاسی اقتدارکے حصول کا ذریعہ بنتے ہیں۔تکفیر محض ایک لفظ نہیں،بلکہ تاریخ  گواہ ہے کہ اکثروبیشتر اِس لفظ کا حکم ازخود اِلزام تراش کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔

 ارشادِ باری تعالیٰ ہے: تمہاری زبانیں جھوٹ بولتی ہیں اِس لیے نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھو ۔بےشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہ ہوں گے۔ ( القرآن،سورۃ النحل: ۱۶،الآیۃ:۱۱۶)

اللہ تعالیٰ کا نام لے کر لب کشائی کرنا، ایک عظیم اور جوکھم بھرا ذمہ داری کاعمل ہے۔ چناں چہ ایک عالم کا اولین فریضہ؛ پندارِ علم ہونا نہیں، بلکہ حد درجے کی احتیاط اور غایت درجے کا عجزہے۔ فتویٰ شاید ناگزیر ہو، مگر وہ بہرصورت مشیتِ الٰہی کو سمجھنے کی ایک ادنیٰ انسانی کوشش ہی رہتی ہے،اِس لیے یہ دعویٰ کہ ’اللہ کا فرمان یہ ہے‘ کبھی بھی اس گمان کا لبادہ نہ اوڑھے کہ ’میرا استدلال یہ ہے۔‘

دیگرقرآنی آیات بھی اِس تعبیروتشریح کی مکمل تصدیق کرتی ہیں کہ قرآن مجید’ تمسخر، توہین آمیز اَلقاب، بدگمانی اور قبائلی برتری سے منع کرتاہے۔(سورۃالحجرات:۴۹،الآیۃ:۱۱-۱۳) تمام گروہوں کو ایک مشترک کلمےکی طرف بلاتاہےکہ کوئی غیراللہ کو اپنا رب نہ بنائے۔(آل عمران:۳،الاآیۃ:۶۴ )  اور آخرت کا گھر اُن لوگوں کے لیے قرار دیتا ہے جو زمین میں سرکشی  یا فساد نہیں چاہتے۔ (القصص:۲۸،الآیۃ:۸۳) یہ سب مل کر فکری تواضع کا ایک الٰہی نظام قائم کرتے ہیں کہ حق ہی مقدس ہے، کسی انسان کی رائے اِس کا حامل اور مقدس نہیں۔

دشمن سازی اورزبان

اِس تناظر میں تاریخی متون کو اُن کے مخصوص سیاق و سباق میں ہی پڑھا جانا چاہیے اور کسی بھی بڑے مفکر کی فکر کو محض ایک جملے میں سمیٹا اور محدود نہیں کیا جا سکتا۔  اِس کے باوجود، مناظرانہ جملے اپنی اہمیت رکھتے ہیں، کیوں کہ وہ اپنے عہد اور حالات کے دھارے سے نکل کر زندہ رہتے ہیں۔ وہ محفوظ کر لیے جاتے ہیں، اقتباسات کی شکل اختیار کرتے ہیں، اداروں کا حصہ بن جاتے ہیں اور پھر اُن کروڑوں انسانوں کی شناخت طے کرنے کے لیے اِستعمال ہوتے ہیں جن کا اُس اصل بحث / تنازع سے کبھی کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔درج ذیل مثالیں بار بارمحفل لوٹنے والی خطیبانہ تکنیک کو ظاہر کرتی ہیں کہ پوری جماعت کیسے ایک اخلاقی عیب میں سمیٹ دیا جاتا ہے اور ایک عالم کا فیصلہ سلسلہ بہ سلسلہ/نسل درنسل تحقیر کاایک مستقل پیمانہ بن جاتا ہے۔

ابن تیمیہ اور تقسیم کا رُجحان

ابن تیمیہ کے بموجب:’اہل رفض، خواہشاتِ نفس کی پیروی کرنے والے فرقوں میں سب سے زیادہ جھوٹے ہیں۔‘ ( ابن تیمیہ، منہاج السنۃ النبویۃ؛ ترجمہ: الرافضۃ اکذب طوائف اہل الاهواء)

یہ جملہ محض مخصوص شیعہ دلائل کو مسترد کرنے سے کہیں آگے کی بات کرتا ہے۔ یہ ایک اخلاقی عیب ( جھوٹ)کو اورایک نظریاتی سلسلے/روایت کو بنیادی طورپر پیدائشی شناخت عطاکرتاہے۔ یعنی ایک بار جب کسی کمیونٹی کو حتمی طور پر جھوٹا قرار دے دیا جائے، تو پھر نہ تو اُس کی گواہی سننے کی ضرورت باقی رہتی ہے، نہ اُس کے شواہد کی جرح وتعدیل اور تفتیش کی حاجت ہوتی ہے،نیزاُس کے اعتراضات/ دلائل کوسننے سے پہلے ہی خارج /مسترد کردیا جاتا ہےاوریہ لیبل (ٹھپّہ) کسی بھی بحث کے آغاز سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہے۔

ابنِ تیمیہ نے یہ بات قرونِ وسطیٰ (Medieval world) کے ایک ایسے دور میں لکھی تھی جو شدید مسلکی اور مذہبی رقابتوں کا دور تھا اور یہ تحریر براہِ راست شیعہ متکلم (Theologian) علامہ حِلی کے رد میں لکھی گئی تھی۔ وہ مخصوص پس منظر اُس مناظرانہ اندازِبیان کی وجہ تو سمجھاتا ہے، لیکن اُس کے بعد والے عہد پر پڑنے والے اثرات کو ختم نہیں کرتا۔ اِس جملے کو بارہا اُس کے اصل متنی تنازع سے الگ کیا گیا اور اُسے مجموعی طور پر شیعوں کے خلاف ایک تہذیبی فیصلے کے روپ میں اِستعمال کیا گیا۔ علمی بیان بازی (Scholarly rhetoric) بالکل اُسی طرح سماجی طاقت کا روپ دھارلیتی ہےجس طرح ایک جملہ جو کسی علمی بحث یا تنازع کے دوران لکھا گیا تھا، وہ روزمرہ کی نفرت اور تحقیر کے لیے جواز کا مدار (Permission structure) بن جاتا ہے۔

امام غزالی اورتکفیر و احتیاط کے درمیان کشمکش

امام غزالی کے بموجب: ’ہمارے لیے یہ لازم ہے کہ ہم اُن فلسفیوں اور اُن کے متبعین دونوں ہی کو کافر شمار کریں۔‘(امام غزالی، تہافت الفلاسفہ، خاتمہ؛ ترجمہ صبیح احمد کمالی)

امام غزالی کے اِس نتیجے کا تعلق تین ایسے مابعد الطبیعاتی (Metaphysical) نظریات سے ہے جو فارابی اور ابنِ سینا سے منسوب ہیں۔ یہاں اہم نکتہ یہ نہیں ہے کہ آیا اُن کا یہ مذہبی فیصلہ (فتویٰ) اُن کے اپنے فکری نظام کے اندر قابلِ دفاع تھا یا نہیں، بلکہ اہم بات اس زُمرے (تکفیردائرہ ) کی پھیلنے والی طاقت ہے، یعنی ایک فلسفیانہ نتیجہ، کمیونٹی (اہلِ ایمان) کے وجود کےلیےباؤنڈری بن جاتا ہےاور ایک فکری خطا، کفر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔تاہم، امام غزالی اِس نظریے کو پیچیدہ بھی بناتے نظرآتے ہیں۔ اپنی کتاب ’فیصل التفرقہ‘ میں وہ بے باکانہ تکفیر پر سخت انتباہ کرتے ہیں اور متون کی تشریح میں وسعت ِفکر کی وکالت کرتے ہیں۔ یہ اندرونی کشمکش بہت سبق آموز ہےکہ ایک عالم بیک وقت کشادہ قلبی اورتکفیردونوں کی صلاحیت رکھ سکتاہےاور ایک پوری روایت اُن دونوں رجحانات کو اپنے اندر محفوظ بھی رکھ سکتی ہے۔ خطرہ تب پیدا ہوتا ہے جب بعد کے ادارے / حلقے صرف سخت ترین فتوے کو تو مستند اُصول کا درجہ دے دیتے ہیں، لیکن اُس کے ساتھ دی گئی احتیاط کو بھول جاتے ہیں۔ کیوں کہ کسی مذہبی بحث میں مناظرانہ شدت پسندی کو متحرک کرنا، مذہبی احتیاط اور ضبط کو اِختیار کرنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہوتا ہے۔

جنوبی ایشیائی سنی مناظرےاور تکفیر در تکفیر

ہندوستانی مسلم علمی روایت نے غیر معمولی طورپر؛شاعری،تصوف و فقہ، سائنس وفلسفہ اور اِستعمار مخالف (Anti-colonial) افکار کو جنم دیا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اُس نے مسلکی گروہ بندی اور درجہ بندی کی طاقتور ثقافتوں کو بھی پیدا کیا۔ درج ذیل مثالیں ہندوستانی سنیت (Sunnism) کے حقیقی جوہر یا اصل کے طور پر پیش نہیں کی جا رہی ہیں، بلکہ یہ؛ یہ دکھاتی ہیں کہ کس طرح حریف سنی گروہوں اور مخالف شیعہ مناظروں نے بارہا اپنی مذہبی ساکھ قائم کرنے کے لیے تکفیرکا سہارا لیا۔شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے بموجب: جس خطے/علاقے میں ہم رہتے ہیں وہاں اثنا عشری عقیدہ ونظریہ اس حد تک پھیل چکا ہے کہ ہر خاندان میں ایک یا دو افراد شیعہ ہوچکےہیں۔

( شاہ عبدالعزیز، تحفہ اثنا عشریہ بحوالہ ایس. اے. اے. رضوی)

یہ آبادیاتی خوف (Demographic anxiety) کی کلاسیکل زبان ہے۔ حریف صرف غلط راہ پر ہی نہیں ہے، بلکہ وہ گھر کے اندر تک پھیلتا جا رہا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے اکثریتی طبقے کا نقشہ کھینچتا ہے جو خطرے میں ہےاور ایک اقلیتی طبقے کودراَنداز (Infiltrating) بنا کر پیش کرتا ہے۔ دوسری جگہوں پر سلام ودعا، مناکحت اور ایک ساتھ کھانا کھانے کی فقہی حوصلہ شکنی نے مذہبی اختلاف کو سماجی علیحدگی/تفریق میں تبدیل کر دیا۔ ایک بار جب عام ذاتی قربت کوآلودگی (Contamination) کے طور پر پیش کیا جائے، تو پڑوسی ایک تہذیبی خطرے کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔شاہ اسماعیل دہلوی کے بموجب: ایک سچے مومن کو چاہیے کہ وہ طاقت کے زور پر تعزیہ توڑنے کو اُتنا ہی کارِ ثواب سمجھے جتنا کہ بتوں کو توڑنا۔

(شاہ اسماعیل دہلوی بحوالہ اردو ترجمے باربرا ڈی میٹکاف)

یہاں کسی خیال /نظریے سے لے کر مادّی تباہی تک کا سفر بالکل واضح ہے،یعنی ایک ایسی معلوماتی یا علامتی شے، جو ایک دوسرے مسلم طبقے کے نزدیک متبرک اور عزیز سمجھی جاتی ہے، اُسے ایک بت کے طور پر دوبارہ پیش کیا جاتا ہے اور اُس کی مادّی تباہی کارِ ثواب بن جاتا ہے۔ حریف کی اُس مقدس علامت کو اَصل معنی سے محروم کر دیا جاتا ہے اور اُسے مسلم تحفظ کے دائرے سے باہر ڈھکیل دیا جاتا ہے۔ دوسروں کو خود سے الگ (Othering) کرنے کا عمل بالکل اُسی طرح ایک تباہ کن قوت کو جنم دیتا ہےجس طرح پہلے کسی علامت کو ’غیر اسلامی‘ قرار دیا جاتا ہے اور پھر اُس کے خلاف ’جارحیت‘ کو ایک اخلاقی جواز فراہم کر دیا جاتا ہے۔

مولانا احمد رضابریلوی کے بموجب:’جو شخص دیوبندیوں کے کفر میں شک کرے، وہ خود کافر ہے۔

(مولانا احمد رضا خان، فتاویٰ رضویہ، جلد :۶، ص: ۸۲)

یہ فارمولہ؛ تکفیر درتکفیر(Recursive Takfir) کے عمل کو جنم دیتا ہے۔ اب صرف اُس مذموم عقیدے سے بچنا ہی کافی نہیں رہتا، بلکہ انسان کے لیے لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اُس عالم کے جاری کردہ فتوے کی من و عن نقل اور تائید بھی کرے۔ کوئی بھی شک و شبہ، احتیاط، دوستانہ تعلق، یا کسی کی تکفیر سے انکار، خود اُس کی اپنی ہی تکفیرکی دلیل بن جاتاہے۔ ایسا فکری ڈھانچہ ؛اقتدار اور طاقت کو اپنے قابو میں کرنے کے لیے غیر معمولی طور پر موثر ثابت ہوتا ہے، کیوں کہ یہ کسی غیر جانبدار یا درمیانی راستے کی گنجائش ہی باقی نہیں چھوڑتا۔ ہر مسلمان کو اِس بات پر مجبور کر دیا جاتاہے کہ وہ یا تو اُس فتوے کے سامنے سرِ تسلیم خم کرے، یا پھر اپنے حریفوں کے ساتھ خود بھی دائرے سے خارج ہونے کے لیے تیار ہو جائے۔

یہاں اِس توازن/برابری کو سمجھنا بھی بہت اہم ہےکہ شیعہ مخالف مناظرے، دیوبندی-بریلوی تنازع، تصوف مخالف (سلفی/اصلاحی) تحریکیں اور اُن عقیدت مند مکاتبِ فکر کی طرف سے جوابی تکفیر کا عمل؛ یہ سب اکثر ایک دوسرے کا عکس /آئینہ ہوتے ہیں۔ ہر ایک فریق دوسرے فریق کی شخصیت پرستی (Hero worship) کی مذمت کرتا ہے، جب کہ خود اپنے پسندیدہ قائدین کے گرد تحفظ کا ایک حصار بنا لیتا ہے۔ ہر ایک دوسرے کے مبالغہ آرائی پر مبنی رویوں پر حملہ کرتا ہے،جب کہ خود اپنے مذہبی لٹریچر (قانون/اصولوں) کی اہمیت وحیثیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ نام بدل جاتے ہیں، لیکن نفرت اور طاقت کا یہ طریقہ کار ہر جگہ ایک جیسا ہی رہتا ہے۔

علمی و فکری نرگسیت اور حصول اقتدار

نظریات وخیالات محض اِس لیے معاشرے پر غالب نہیں آجاتے کہ وہ دلائل کے لحاظ سے قائل کرنے والے ہوتے ہیں، بلکہ وہ تب غالب آتے ہیں جب وہ اداروں سے جڑ جاتے ہیں، جیسے کہ دینی مدارس، منبر و محراب، اشاعتی ادارے، سرپرستی کے نیٹ ورک، عدالتیں، سیاسی جماعتیں، فلاحی نظام، برادری اور رشتے ناطے،طریقۂ تدفین اور سند و اجازت کے سلسلے۔ وہ عالم جو راسخ العقیدگی (Orthodoxy)کی تعریف پر قابو پا لیتا ہے، وہ اِس بات پر اثر انداز ہو سکتا ہے کہ کس پر اعتماد کیا جائے، کون نماز کی امامت کر سکتا ہے، کس کا نکاح جائز ہے، کس کا کھانا کھایا جا سکتا ہے، کس کی کتابیں جلائی جا سکتی ہیں اور کس کے رنجم وغم کو جائز اوردرست) تسلیم کیا جاسکتا ہے۔

چناں چہ علمی و فکری افکار کی حد سے زیادہ تعظیم / مدح سرائی کے مادّی و سماجی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسی مذہبی معیشت (Religious economy) کو جنم دے سکتی ہے، جس میں خدائی قبولیت اور حقانیت تک رسائی صرف ایک مخصوص و تسلیم شدہ طبقے کے مرہونِ منت ہوتی ہے۔’’شیخ الاسلام، حجۃ الاسلام اور اعلیٰ حضرت‘‘         جیسے القابات و خطابات بذاتِ خود غلط نہیں ہیں۔ اساتذہ کے لیے احترام، دعا اور شکر گزاری کے جذبات بالکل فطری ہیں۔ مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب یہ القابات شواہد اور دلائل کے خلاف ایک ڈھال بننے لگتے ہیں، جب کسی کی سحر انگیز شخصیت (Charisma) اُس کے محاسبے کی جگہ لے لیتی ہے اور جب ایک پیروکار؛ ایک عالمِ دین پر سوال اُٹھانے سے زیادہ اِس بات سےخوف کھانے لگتا ہے کہ کہیں وہ اندھی تقلید میں اللہ تعالیٰ کے دین کی غلط ترجمانی نہ کر بیٹھے۔

چناں چہ  ا ِس مرحلے پر عالم کی ’انا‘(Ego) ہی پورے گروہ یا مسلک کی ’انا‘ بن جاتی ہے۔ بانیِ مسلک پر کی جانے والی کسی بھی تنقید کو پوری برادری کی توہین اور تذلیل کے طور پر محسوس کیا جاتا ہے۔ اُس کے جواب میں وہ برادری ؛اپنے اکابرین کی مدح سرائی اور تعریفوں میں مزید شدت کی راہ اختیار کرتی ہے، جملہ ابہام یا اُلجھاؤ کو دبا دیتی ہے اور اختلافِ رائے کرنے والوں کو سزائیں دیتی ہے۔ یہ عمل مختلف گمراہ سماجی گروہوں (Dark social forces) کو جنم دیتا ہے، مثلاً:

انفرادیت کا خاتمہ (Deindividuation): حریف اب کوئی انسان یا فرد نہیں رہتا، بلکہ وہ اس مردود یا ملعون گروہ کا محض ایک نمونہ بن کر رہ جاتا ہے۔یہ ایک ایسا نفسیاتی عمل ہے جس میں کسی انسان کی ذاتی خصوصیات، اچھائیوں اور اُس کی اپنی منفرد پہچان اور حیثیت کوبھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

بداخلاقی (Moral disengagement): حقانیت، عزت یا پاکیزگی کے دفاع کے نام پر دوسروں کو نقصان اور تکلیف پہنچائے جانے کوجائز قرار دے دیا جاتا ہے۔یعنی انسان جب یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے مسلک کی عزت بچا رہا ہے، تو وہ دوسروں پر ظلم کرتے وقت کوئی پشیمانی یا اخلاقی بوجھ محسوس نہیں کرتا۔

قربانی کا بکرا بنانا (Scapegoating): معاشرتی خوف وخطرہ، بے چینی اور سیاسی ناکامیوں کااِلزام کسی نظریاتی یا مسلکی اقلیت پر ڈال دیا جاتا ہے، جب کہ بذات خود؛خودستائی اورتفاخرکے خول میں قید رہتاہے۔

علمی و فکری ناکہ بندی (Epistemic closure): اپنے نظریات کے خلاف سامنے آنے والے کسی بھی ثبوت یا دلیل کو صرف اس لیے مسترد کر دیا جاتا ہے، کیوں کہ اُس کا منبع وماخذ(Source) پہلے ہی بدعنوان یا فاسد قرار دیا جا چکا ہوتا ہے۔

 یہ وہ حالت ہے جہاں کوئی شخص حق سننا ہی نہیں چاہتا۔ اگر حریف کوئی درست بات یا حوالہ بھی پیش کرے، تو یہ کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے کہ ’’یہ تو ہیں ہی گمراہ‘‘ اُس کی بات کیا سننی؟

پاکیزگی کا زعم (Purity escalation): متبعین؛مخالفین پر زیادہ سے زیادہ سخت لعن طعن اور شدید ترین تنقید کر کے ایک دوسرے سے بڑھ کر اپنی وفاداری ثابت کرنے کا مقابلہ کرتے ہیں۔گویامتبعین؛ مسلک میں اپنی جگہ بنانے اور خود کوسب سے پکاوفادار ثابت کرنے کے لیے مخالفین پر سب سے سخت فتوے لگانے کی ریس میں لگ جاتے ہیں۔

پیشوا پر اِنحصار (Authority dependence): اہل ایمان اپنے ضمیر کی آواز پر اعتماد کھو دیتے ہیں اور وہ وحیِ الٰہی اور ادارے / عالم  کی ذاتی تشریح کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔یعنی عام متبعین یہ سمجھنے سے قاصر ہو جاتے ہیں کہ قرآن و سنت (وحی) ایک مستقل اور الٰہی حقیقت ہے، جب کہ کسی عالم یا ادارے کی رائے محض اُس وحی کو سمجھنے کی ایک انسانی  تشریح ہےجس میں ممکنہ خطاکی گنجائش رہتی ہے۔ لیکن وہ ایک عالم کی رائے کو بھی وحی ہی کا درجہ دے دیتا ہے، جس کی وجہ سے عالم کی کسی بات سے اختلاف کرنا گویا براہِ راست خدا اور رسول سے اختلاف کرنے کے مترادف سمجھ بیٹھتا ہے۔

چناں چہ علمی و فکری نرگسیت (Intellectual narcissism) یعنی اپنی ہی رائے کو حرفِ آخر سمجھنا محض ایک ذاتی غرور یا خود نمائی نہیں رہ جاتی ، بلکہ جب یہ مذہبی اقتدار (Religious authority) کے ساتھ جڑ جاتی ہے، تو یہ حکمرانی اور تسلط کی ایک ٹیکنالوجی /حربہ بن جاتی ہے۔ اب وہ یہ طے کرتی ہے کہ کس کو بولنے کا حق حاصل ہے، کسے لازماً خاموش رہنا ہوگا اور کسے کسی بھی قسم کے اخلاقی احساسِ جرم کے بغیر معاشرے یا دائرے سے خارج کیا جا سکتا ہے۔

تصورِ معصومیت اور مستعار عصمت کا رویہ

نبی اکرمﷺ اور اہل بیت اطہار کو طاہر اورپاک وصاف ماننے کا شیعی عقیدہ؛معاشرے کو ایک طاقتور اخلاقی متبادل (Moral counter-image) فراہم کرتاہے، جس کے مطابق اقتدار اور مقتدریت (Authority) کو پاکیزگی، عدالت، حقانیت، رحمت اور انا سے آزادی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔خصوصاً سانحہِ کربلا؛ مقدس مقتدریت کو کسی تسلط یا حاکمیت کے طور پر نہیں، بلکہ تسلط و جبر کے خلاف مزاحمت میں دی جانے والی قربانی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام؛ اداروں پر قابو پا کر لوگوں کو اپنی اطاعت پر مجبور نہیں کرتے،بلکہ وہ حق سے وفاداری اور عظیم قربانی کے ذریعے مادّی اقتدار کے اخلاقی دیوالیےپن کو بے نقاب کرتے ہیں۔تاہم؛ یہ عقیدہ بعد میں آنے والے علما کو عاجزی اور اِنکساری سکھانے کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ عصمت کواُن کی ذات میں منتقل کرنے کے لیے۔ کوئی بھی فقیہ، خطیب، سید، پیر، یا دانشور جواِمام حسین علیہ السلام کے بارے میں بات کرتا ہے، وہ محض اس وجہ سے خودمعصوم نہیں بن جاتا۔ شیعہ طبقہ بھی شخصیت پرستی، علما کی مطلق العنانی (Clerical absolutism)، موروثی حقارت، یا سنیوں کی تذلیل کے مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ سنی مکتبِ فکر کی علمی نرگسیت (Intellectual narcissism) کی مذمت کرنا اور اپنے اداروں کو اُس سے مستثنیٰ  سمجھنا، بالکل اُسی فکری اور تعصبی ڈھانچے کو دوبارہ جنم دے گا جو خود زیرِ تنقید ہے۔

چناں چہ مسلک پرست علمی و فکری رویوں کا حقیقی شیعہ جواب یہ نہیں ہے کہ دوسرے فریق کے مقابلے میں اپنی تشریحات کی ایک متوازی شخصیت پرستی (Competing idolatry) کی دیوارکھڑی کر دی جائے، بلکہ اس کا حل اہل بیتِ اطہار سے قربت کا وہ اُصول ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ ایک عالم اُن ہستیوں سے جتناقریب ہونے کا دعویٰ کرے، اتنا ہی اُس کے کردار میں عاجزی، بہادری،  عدل، نرمیت اور ذاتی یا ادارہ جاتی قوت کے حصول کے لیے مذہبی جذبات کے استحصال سے اجتناب کامادّہ بدرجہ اتم رہنا چاہیے۔

قرآنی اخلاقیات اورفکری تواضع

کوئی بھی معاشرہ؛ علم وتحقیق کو ترک کر کے فرقہ وارانہ یا تقسیم پیدا کرنے والی نرگسیت پر قابو نہیں پا سکتا، بلکہ وہ اس پر قابو تب ہی پاسکتا ہے جب وہ علم و تحقیق کو اُس کے اصل اور صحیح مقام پر رکھے، یعنی وحی زیراثر ایک ایسی خدمت جس میں غلطی کا امکان ہواور جوکبھی وحی کی حریف یا ِ مقابل نہ بن سکے، درج ذیل علوم و ضوابط سیکھنے کے عمل کو تسلط اور غلبے میں تبدیل ہونے سے روک سکتے ہیں،مثلاً:

۱۔وحی اور تشریح میں امتیاز:ایک عالم کو یہ کہنا چاہیے کہ ’یہ میری رائے یا فہم ہے‘ بجائے اِس کے کہ وہ اپنے اِستنباط کو وحی/الہام  کی شکل میں پیش کرے۔ ۔ تکفیر کو آخری حدسمجھنا:کسی بھی مسلک یا مکتبِ فکر کا لیبل/ٹھپّہ کبھی بھی کسی شخص کے حقیقی عقائد اور اُس کےکردار کی تفتیش کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔

۳۔مخالف موقف کااظہاراپنے محبوب الفاظ میں چاہنا:یعنی مخالفین کے موقف کا غلط خاکہ/کارٹون بنانا، پھر اُس کی تردید کرنا، یہ ایک طرح کی علمی و فکری بددیانتی ہے۔اِس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

۴۔غیر یقینی صورتِ حال کا اظہار:شایدکہ ’میری رائے میں‘ اور ’واللہ اعلم‘ (اللہ ہی بہتر جانتا ہے) جیسے الفاظ کمزوری کی نشانی نہیں ہیں؛ بلکہ یہ روحانی آمریت اور ظلم کے خلاف حفاظتی سپر ہیں۔

۵۔تشریحات کو اَخلاقی نتائج سے پرکھنا:کوئی بھی ایسا نظریہ یا عقیدہ جس کا لازمی نتیجہ ظلم، ذلت اور سماجی نفرت کی صورت میں نکلتا ہو، اُس پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے، خواہ اُسے ماضی کے بڑے بڑوں کی تائید ہی کیوں نہ حاصل ہو۔

۶۔اقلیتوں کےحقوق اوروقار کا تحفظ:یعنی اقلیتوں کے نظریات پر بحث وتمحیص سے پہلے اُن کے حقوق اور وقار کے ساتھ عدل کرنا۔ خیال رہےکہ عدل کوئی ایسا انعام نہیں ہے جو عقیدے کی ہم آہنگی پر دیا جائے،بلکہ ہم آہنگ ہو یا نہ بہرحال عدل ہونا چاہیے۔

۷۔ احترام کو تنقید سے اِستثنا رکھنا: ایک معزز عالم کا شکرگزار بھی ہونا چاہیے، اُن سے محبت بھی کی جا سکتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اُن پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے،کیوں کہ یہ تینوں بیک وقت ممکن بھی ہیں اور اُنھیں ملحوظ رکھنا کمال علم وتحقیق بھی۔

۸۔کثیر الجہتی ادارے کا قیام:ایسے کثیر الجہتی (Plural) ادارے قائم کیے جائیں جہاں کوئی ایک ہی مکتبِ فکر تمام اسناد، منبروں، مالی وسائل اور رشراکت داری پر قابض نہ ہو، یعنی ملک ومعاشرت میں کسی ایک ہی گروہ کی اجارہ داری نہ ہو۔

۹۔امانت سے آگاہی:اہل ایمان کو یہ سکھانا کہ ضمیر ایک امانت ہےاورعلما سے رجوع کرنے یا مشورہ لینے سے اللہ کے حضور اِنسان کی اپنی ذاتی جواب دہی ختم نہیں ہو تی، اِس لیے فکر وفہم کی حفاظت امانت ربانی کی طرح ہونی چاہیے۔

۱۰۔عظمت کا معیار:حقیقی عظمت ورفعت؛ لوجہ اللہ علمی وتحقیقی خدمت میں ہے نہ کہ اندھی تقلیدمیں۔ایک صادق اُستاد اخلاقی طورپر ذمہ دار اِنسان پیدا کرتا ہے نہ کہ اپنے اوپر اِنحصار کرنے والے مداح۔

فکری تواضع (Intellectual humility) کا مطلب؛ تشکیک پسندی یا مطلق العنانیت (Relativism ) نہیں ہے۔ انسان یہ مان سکتا ہے کہ کوئی دلیل غلط، خطرناک یا اسلام کے منافی ہے۔ عاجزی کا تعلق دراصل اہل علم کے اخلاقی رویے سے ہے، یعنی اپنی ممکنہ خطا کا احساس ہونا، دوسروں کی تذلیل سےپرہیزکرنا، رجوع کےلیے ہمہ دم مستعدرہنا اور اِس حقیقت کو تسلیم کرنا کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ؛ انسان کی اپنی بحث و تمحیص میں جیت حاصل کرنے کی نفسیاتی و جذباتی خواہش کا مرہونِ منت نہیں ہوتا۔ ۔دین،حکمرانی کا ذریعہ نہیں:لادینیت/بےدینی (Intellectual shirk) کی سب سے گہری شکل علم و تحقیق کا وجود نہیں، بلکہ علم و تحقیق کو مطلق یا حتمی بنادینا ہے، یعنی انسان کا اپنے اخذ کردہ تعبیروتشریح کو وحی نما جذباتی قوت دے دینا اور دوسروں سے یہ مطالبہ کرنا کہ اگر وہ اس گروہ کا حصہ بنےرہنا چاہتے ہیں تو اُس کے آگے سرِ تسلیم خم کریں۔ ضروری نہیں کہ بت؛ پتھرہی کا ہو۔ وہ کتابوں، القابات، علمی اسناد و اعجاز (Chains of authorization)، کشف و الہام، اداروں اور نسل در نسل منتقل ہونے والےموروثی خوف وہراس سے بھی تراشا جا سکتا ہے۔

علما بھی انسان ہی ہوتے ہیں۔ اُن کے پاس بصیرت بھی ہوتی ہے اور اَندھا پن بھی، جرأت بھی ہوتی ہے اور حرص و ہوس بھی، شوق و عقیدت بھی ہوتی ہے اور اَنا وغرور بھی۔ بےشک اُن کا علم دنیا کو روشن بھی کر سکتا ہے، لیکن یہی علم اُن کے باطن کی تاریکیوں کو مزید گہرا اور توسیع بھی کر سکتاہے۔ جب علم و فکر کو اِقتدار اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیا جائے، تو یہ ایک ایسے ناموس مخالف/ حریف کو جنم دیتا ہے جس کا کم تر ہونا ہی عالم کی اپنی برتری اور عظمت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے اور جب اس حریف/مخالف کو ناپاک، فریبی، گمراہ یا اسلام سے خارج قرار دے دیا جائے، تو پھر اخلاقیات کے عام ضابطے کمزور پڑ جاتے ہیں اور تخریبی قوتیں بے لگام ہوجاتی ہیں۔

اس کا حل؛ علم وتحقیق سےبیزاریت میں نہیں ہے،بلکہ اس کا حل ایک زیادہ کڑے اور سخت علمی معیار میں پنہاں ہے، یعنی ایسا علم و تحقیق جو عاجزی، تاریخی خود شعوری،عدل اور محبت سے نکھرا ہوا ہو۔ اسلام کی قدر و منزلت میں تبھی کمی آتی ہے جب کسی عالم کا وقار کسی انسانی جان سے زیادہ مقدس ہو جائے، جب کسی مکتبِ فکر کی فتح؛ حقائق سے زیادہ اہم ہو جائے، یا جب اللہ کی وحدانیت کا واسطہ دے کر اللہ کی مخلوق میں پھوٹ ڈالنے اور اُسے ٹکڑے ٹکڑے کرنےکو جائز ٹھہرایا جائے۔

مسلمان دانشور یا عالم کا فریضہ کوئی ایسا تختِ اقتدار قائم کرنا نہیں جہاں بیٹھ کر وہ پوری انسانیت پر حکم چلائے، بلکہ اس کافریضہ تو اللہ کی طرف لےجانے والے راستے کو صاف وستھراکرنا ہے،اِس طرح کہ وہ خود اُس راستے کی رکاوٹ نہ بنے۔ علم کامقصود تویہ ہےکہ  عالم کے اندر اپنی حدود کا احساس مزید گہرا کرنا چاہیے، دوسروں کے ایمان کے معاملے میں اُسے زیادہ محتاط رہنا چاہیے اور اقتدار وطاقت کی فریب کاریوں کے خلاف اپنی مزاحمت کو مضبوط کرنا چاہیے۔مِن جملہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو چمکنے کے لیے کسی مصنوعی دشمن کے اندھیرے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

حواشی اور مآخذ

اِس مضمون میں جن قرآنی آیات کا حوالہ یا ذکر ہے: ۳:۶۴؛ ۴:۹۴؛ ۹:۳۱؛ ۱۰:۵۹؛ ۱۶:۱۱۶؛ ۲۸:۸۳؛ ۴۵:۲۳؛ ۴۹:۱۱–۱۳؛ ۵۳:۳۲۔ مضمون میں درج اردو تراجم عربی متن کے قریب رہتے ہوئے اسی تحریر کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

۱۔ ابن تیمیہ، منہاج السنۃ النبویۃ فی نقض کلام الشیعۃ القدریۃ، تحقیق: محمد رشاد سالم، ۹ جلدیں، ریاض: امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی، ۱۹۸۶ء۔ مختلف طبعات میں صفحات مختلف ہیں؛ اقتباس رافضہ کے ابتدائی عمومی تعارف میں آتا ہے۔

۲۔ امام غزالی، تہافت الفلاسفہ (فلسفیوں کا تہافت)، ترجمہ: صبیح احمد کمالی، لاہور: پاکستان فلاسوفیکل کانگریس، ۱۹۵۸ء۔ آخر میں ان تین نظریات کی درجہ بندی ملاحظہ ہو جنہیں کفر قرار دیا گیا ہے۔

۳۔ امام غزالی، اسلامی کلامی رواداری کی حدود: ابو حامد الغزالی کی فیصل التفرقہ، ترجمہ: شرمن اے جیکسن، آکسفورڈ: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، ۲۰۰۲ء

۴۔ شاہ عبدالعزیز، تحفہ اثنا عشریہ۔ مذکورہ آبادیاتی بیان اور اُن کے شیعہ مخالف مناظروں کے لیے دیکھیے: ایس. اے. اے. رضوی، شاہ عبدالعزیز: تطہیر پسندی، فرقہ وارانہ مناظرہ اور جہاد، کینبرا: معرفت پبلشنگ ہاؤس، ۱۹۸۲ء، ص ۲۰۷-۲۰۸۔

۵۔ باربرا ڈی میٹکاف، برطانوی ہندوستان میں اسلامی احیا: دیوبند، ۱۸۶۰–۱۹۰۰، پرنسٹن: پرنسٹن یونیورسٹی پریس، ۱۹۸۲ء، ص ۵۸۔ مذکورہ اقتباس تعزیوں کو بزور توڑنے کے بیان کو محمد اسماعیل (شاہ اسماعیل دہلوی) کی طرف منسوب کرتا ہے۔

۶۔ احمد رضا خان، فتاویٰ رضویہ، جلد: ۶، ص: ۸۲۔ مضمون میں درج اردو جملہ دیوبندی علما کی تکفیر میں شک سے متعلق معروف فتوے کا ترجمہ ہے۔ مکمل قانونی سیاق کے لیے کسی تنقیدی اردو نسخے سے رجوع کیا جائے۔

۷۔ گولیک ڈی زوالا، اگنیسکا؛ الیگزینڈرا سیخوچکا؛ رائے ایڈلسن؛ اور نووان جیاوکرما، ’اجتماعی نرگسیت اور اُس کے سماجی نتائج‘، جرنل آف پرسنالٹی اینڈ سوشل سائیکالوجی، جلد: ۹۷، شمارہ: ۶،سال:۲۰۰۹ء،ص: ۱۰۷۴-۱۰۹۶

۸۔ مارک آر لیری، ’زیادہ درست علم، بہتر فیصلوں اور کم تنازعے تک پہنچنے کا راستہ: فکری تواضع‘، امریکن جرنل آف ہیلتھ پروموشن، جلد: ۳۶، شمارہ: ۴ ،سال:۲۰۲۲ء،ص: ۷۵۷-۷۶۰

۹۔ کمیلا آدانگ، حسن انصاری، ماریبل فیئرو اور سبین شمٹکے، مدیران، اسلام میں کفر کے الزامات: تکفیر کا تاریخی مطالعہ، لیڈن: برِل،سال: ۲۰۱۵ء

ادارتی احتیاط: یہ اقتباسات اخراجی زبان کے تجزیے کے لیے پیش کیے گئے ہیں، پیچیدہ تاریخی شخصیات کو کسی ایک عبارت تک محدود کرنے یا جوابی فرقہ وارانہ دشمنی کو بڑھانے کے لیے نہیں۔

اولیا کونسل آف نارتھ امریکا کی دینی، روحانی، ثقافتی اور سماجی خدمات

عرسِ حضرت امیر خسرورحمۃ اللہ علیہ اور مخدوم شاہ عارف صفی محمدی قدس سرہ کے موقع پر محفلِ سماع

۷/مئی ۲۰۲۶ ءکو اولیا کونسل آف نارتھ امریکا کے مرکز، ۸۵ ماؤنٹ ہوپ روڈ، مہوپیک، نیویارک میں حضرت امیر خسرو رحمۃاللہ کی ’’چھوٹی سترہویں‘‘ اور حضرت مخدوم شاہ عارف صفی محمدی قدس سرہ کے عرس مبارک کی مناسبت سے ایک پُروقار محفلِ سماع منعقد ہوئی۔ اس روحانی اجتماع میں معروف قوال سلیم صابری اور ہمنوا نے صوفیانہ کلام، منقبت اور عارفانہ اشعار پیش کرکے حاضرین کے دلوں کو گرمایا۔ عقیدت مندوں اور کمیونٹی کے افراد نے شرکت کی اور دونوں بزرگوں کی دینی، علمی اور روحانی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

حضرت شیخ ابو سعید صفوی دام ظلہ  کی اولیا کونسل آمد

۱۵/مئی ۲۰۲۶ءکو خانقاہِ عارفیہ، انڈیا کے سجادہ نشین حضرت شیخ ابو سعید صفوی نے نمازِ جمعہ کے موقع پر اولیا کونسل آف نارتھ امریکا کی جامع مسجد بابو ذوالفقار، مہوپیک کا دورہ کیا۔ مفتی امام الدین سعیدی، امام و ڈائریکٹر مذہبی امور و تعلیم، اور راجہ اسد پرویز، چیف ایڈمنسٹریٹر اولیا کونسل، نے معزز مہمان کا پُرتپاک استقبال کیا۔

نمازِ جمعہ کے بعد حضرت شیخ ابو سعید صفوی کے اعزاز میں استقبالیہ، مجلسِ ذکر اور ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔ مجلس میں ذکرِ الٰہی، درود و سلام اور روحانی تربیت پر خصوصی گفتگو ہوئی۔ اس پروگرام میں کمیونٹی کے افراد  نے شرکت کی۔

اسی سلسلے میں حضرت شیخ ابو سعید صفوی، اولیا کونسل کی رکن ڈاکٹر آسما جمیل صادق کے دولت کدے پر بھی تشریف لے گئے، جہاں پُرنور مجلسِ ذکر منعقد ہوئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر مہدی کاظمی، راجہ اسد پرویز، مولانا علی سعید صفوی، مفتی امام الدین سعیدی اور دیگر احباب موجود تھے۔

جامع مسجد بابو ذوالفقار میں ظہرانہ

ایک جمعہ کے موقع پر جامع مسجد بابو ذوالفقار، مہوپیک میں ڈاکٹر ابرار ندیم صاحب کی جانب سے نمازیوں اور احباب کے لیے ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔ تمام شرکا نے نمازِ جمعہ کے بعد باہمی ملاقات اور کھانے میں شرکت کی۔ اس موقع نے کمیونٹی کے درمیان محبت، اخوت اور سماجی رابطے کو مزید مضبوط کیا۔

درسِ تصوف

۲۷/مئی ۲۰۲۶ کو جامع مسجد بابو ذوالفقار میں ’’درسِ تصوف‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ درس میں تزکیۂ نفس، ذکرِ الٰہی، اخلاقِ حسنہ، خدمتِ خلق اور اولیائے کرام کی تعلیمات پر روشنی ڈالی گئی۔ اولیا کونسل کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے یہ دروس نئی نسل کو اسلامی روحانیت اور صوفیانہ اقدار سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

نمازِ عیدالاضحیٰ

عیدالاضحیٰ کی نماز جامع مسجد بابو ذوالفقار، اولیا کونسل آف نارتھ امریکا، مہوپیک، نیویارک میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ ادا کی گئی۔ نماز کے بعد امتِ مسلمہ، امریکا اور پوری انسانیت کے امن و سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ شرکا نے باہمی ملاقات، مبارک باد اور اخوت کے جذبے کے ساتھ عید کی خوشیاں بانٹیں۔

ڈاکٹر مہدی کاظمی کے فارم ہاؤس پر مجلسِ ذکر و دعا

حضرت شیخ ابو سعید صفوی، سجادہ نشین خانقاہِ عارفیہ، انڈیا، کی تشریف آوری کے موقع پر ڈاکٹر مہدی کاظمی صاحب کے فارم ہاؤس پر ایک پُرنور مجلسِ ذکر و دعا کا اہتمام کیا گیا۔ حضرت شیخ ابو سعید صفوی نے ذکرِ الٰہی کی فضیلت، اصلاحِ باطن اور اولیائے کرام کی تعلیمات پر روحانی گفتگو فرمائی۔ مجلس کے اختتام پر امن، اتحاد، خوش حالی اور پوری انسانیت کی فلاح کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

امریکا کے ۲۵۰ویں یومِ آزادی کی تقریب

مفتی امام الدین سعیدی اور اولیا کونسل آف نارتھ امریکا کے اراکین نے امریکا کا 250واں یومِ آزادی قومی جذبے کے ساتھ منایا۔ تقریب میں امریکا کی ترقی، امن، اتحاد اور خوش حالی کے لیے دعائیں کی گئیں۔ شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مذہبی اور ثقافتی تنوع کا احترام کرتے ہوئے امریکی معاشرے میں محبت، خدمت اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

ذکرِ امام عالی مقام علیہ السلام

۸/محرم الحرام ۱۴۴۸ھ، مطابق /۲۳ جون ۲۰۲۶ء، کو اولیا کونسل آف نارتھ امریکا کے زیرِ اہتمام امام بارگاہ حسینیہ سجادیہ، مہوپیک، نیویارک میں ’’ذکرِ امام عالی مقام‘‘ منعقد ہوا۔ مفتی امام الدین سعیدی نے خطاب کرتے ہوئے حضرت امام حسین کی عظیم قربانی، حق و صداقت، عدل، صبر اور ظلم کے خلاف استقامت کے پیغام پر روشنی ڈالی۔ پروگرام میں مردوں کے ساتھ خواتین اور بچوں نے بھی شرکت کی۔

کراچی میں رسمِ طوق و کلاوہ اور سقائی

۸/محرم الحرام ۱۴۴۸ھ کے موقع پر امام بارگاہ یثرب، کراچی میں رسمِ طوق و کلاوہ اور سقائی کی مقدس تقریبات منعقد ہوئیں۔ ان مراسم میں حضرت عباس علمدار کی وفا، شجاعت اور ایثار کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور شہدائے کربلا کی یاد میں نیاز اور سبیل کا اہتمام کیا گیا۔

سالانہ عاشورا جلوس، نیویارک

۲۲جون ۲۰۲۶ ءکو نیویارک سٹی میں سالانہ عاشورا جلوس میں اولیا کونسل آف نارتھ امریکا کی جانب سے پُروقار نمائندگی کی گئی۔ کونسل کی نمائندگی سیدہ زہرا کاظمی، صاحبزادہ علی سعید صفوی، مفتی امام الدین سعیدی اور دیگر معزز اراکین نے کی۔ شرکا نے سانحۂ کربلا کی یاد میں غم و عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے حق، انصاف، قربانی اور محبتِ اہلِ بیت کے عالمگیر پیغام کو اجاگر کیا۔

لاہور میں علمِ عباس   کی تنصیب

لاہور،  میں حضرت عباس علمدار کے علمِ مبارک کی تنصیب کی روحانی تقریب منعقد ہوئی۔ عقیدت مندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور امن، سلامتی اور حاجات کی قبولیت کے لیے دعائیں کیں۔

دربارِ حضرت میاں میر پر حاضری

۳/محرم الحرام ۱۴۴۸ھ کو صدر اولیا کونسل آف نارتھ امریکا ڈاکٹر مہدی کاظمی اور فیصل صدیقی چشتی نے لاہور میں واقع دربارِ حضرت میاں میر بالا پیر پر حاضری دی۔ انہوں نے مزارِ مبارک پر فاتحہ خوانی کی اور امن، محبت، بھائی چارے اور تمام انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں۔

۷۸۴واں عرسِ حضرت بابا فرید گنج شکر قدس سرہ

ڈاکٹر مہدی کاظمی، صدر اولیا کونسل آف نارتھ امریکا، نے حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر قدس اللہ سرہ کے ۷۸۴ویں سالانہ عرس کی مقدس رسومات اور روحانی اجتماعات میں شرکت کی۔ انہوں نے دیگر عقیدت مندوں کے ساتھ حضرت بابا فرید کی بارگاہ میں حاضری دے کر فاتحہ خوانی کی اور آپ کی تعلیمات، روحانی خدمات اور انسان دوستی کے پیغام کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

عرس کی مختلف تقریبات میں شرکت کے ذریعے ڈاکٹر مہدی کاظمی نے محبت، عبادت، خدمت، عاجزی اور رواداری پر مبنی اس دائمی پیغام کو اجاگر کیا جو حضرت بابا فرید گنج شکر کی حیات و تعلیمات کا بنیادی وصف ہے۔

کتاب ’’آگرہ کے لذیذ کھانے‘‘ کے انگریزی ایڈیشن کا اجرا

اولیا کونسل پبلیکیشنز کے زیرِ اہتمام معروف کتاب ’’آگرہ کے لذیذ کھانے‘‘ کے انگریزی ایڈیشن کا باقاعدہ اجرا کیا گیا۔ 340 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی مصنفہ ساجدہ خاتون، مدیر ڈاکٹر مہدی کاظمی اور سینئر ایڈوائزر شہلا مشتاق ہیں۔

یہ کتاب راجستھان اور اتر پردیش کے روایتی کھانوں، گھریلو ذائقوں اور نسل در نسل منتقل ہونے والی ثقافتی یادوں کا خوب صورت مجموعہ ہے۔ ڈاکٹر مہدی کاظمی نے اسے اپنی والدہ کی قیمتی اور یادگار ترکیبوں کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف کھانوں کی کتاب نہیں، بلکہ محبت، گھریلو دانش، تہذیب اور روایت کا ایک زندہ دستاویز ہے۔

خدمات کا تسلسل

اولیا کونسل آف نارتھ امریکا اپنی دینی، علمی، روحانی، سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے امریکا اور دنیا کے مختلف خطوں میں امن، محبت، خدمتِ انسانیت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مسلسل سرگرمِ عمل ہے۔ کونسل کے تمام پروگرام اولیائے کرام کی تعلیمات اور قرآن و سنت کی روشنی میں معاشرے کو روحانی و اخلاقی اقدار سے جوڑنے کی ایک مؤثر کوشش ہیں۔

سفر نامہ

آستانۂ گنجِ شکر ،پاکپتن شریف میں حضرت بابا فریدالدین مسعود گنجِ شکر قدس سرہ کے ۷۸۴ویں عرس کا روح پرور سفرنامہ

اس سال مجھے پاکستان کے تاریخی اور روحانی شہر پاکپتن شریف میں حضرت بابا فریدالدین مسعود گنجِ شکر رحمۃ اللہ علیہ کے ۷۸۴ویں عرس میں شرکت کا ایک منفرد اعزاز نصیب ہوا۔ عجز و تشکر سے لبریز اس سعادت کو میں اپنی زندگی کی عظیم ترین نعمتوں میں شمار کرتا ہوں۔یہ محض ایک شہر سے دوسرے شہر تک کا ظاہری سفر نہ تھا، بلکہ تاریخ، یاد، عقیدت اور روحانیت کی تہوں میں اترنے والا ایک باطنی سفر تھا۔ یہ ایک ایسے آستانے کی جانب سفر تھا، جہاں صدیوں سے اہلِ طلب اپنے دلوں میں وہ دعائیں لے کر حاضر ہوتے آئے ہیں جنہیں کبھی الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا جا سکتا۔

تصوف کی روایت میں کسی ولیِ کامل کے وصال کی سالانہ یاد کو ’’عرس‘‘ کہا جاتا ہے۔ عرس کے لغوی معنی شادی کے ہیں، کیونکہ اہلِ تصوف کے نزدیک ولی کا وصال اس لمحے کا نام ہے جب عاشق اپنی زمینی مسافت مکمل کر کے اپنے محبوبِ حقیقی کی بارگاہ میں پہنچتا ہے۔ اسی لیے عرس کی تقریبات محض غم و اندوہ کے طور پر نہیں، بلکہ تلاوتِ قرآن، ذکر و دعا، خیرات، مہمان نوازی، صوفیانہ شاعری اور سماع کے ذریعے منائی جاتی ہیں۔

پاکپتن کی جانب سفر

جوں جوں ہم پاکپتن کے قریب پہنچ رہے تھے، فضا کے رنگ بدلتے محسوس ہو رہے تھے۔ دیہات، شہروں اور دور دراز ملکوں سے آنے والے زائرین کے قافلے دکھائی دینے لگے۔ کسی کے ہاتھ میں نفیس کڑھائی والی چادر تھی، کوئی گلاب کے پھولوں اور پنکھڑیوں سے بھری ٹوکری اٹھائے ہوئے تھا۔

بعض زائرین کے ہاتھ ظاہری طور پر خالی تھے، مگر ان کے چہروں پر ان دعاؤں کا بوجھ نمایاں تھا جن کے ساتھ وہ اپنے خاندان، صحت، اولاد، روزگار اور دنیا سے رخصت ہو جانے والے عزیزوں کے لیے بابا صاحب کے آستانے پر حاضر ہوئے تھے۔

پاکپتن کا قدیم نام اجودھن تھا۔ روایت کے مطابق بعد میں اسے ’’پاک پتن‘‘ کہا جانے لگا، جس کے معنی ’’مقدس گھاٹ‘‘ یا ’’پاکیزہ گزرگاہ‘‘ کے ہیں۔ یہ نام اس تصور سے وابستہ ہے کہ بابا فریدکی خانقاہ ان لوگوں کے لیے ایک روحانی گزرگاہ بن گئی جو غفلت سے ذکر، دنیاوی وابستگی سے خداشناسی اور نفس کی غلامی سے روحانی آزادی کی جانب سفر کرنا چاہتے تھے۔اس مبارک سفر میں میرے مربی، محترم دوست اور روحانی بزرگ پیر عبد الظاہر چشتی صاحب نے نہایت شفقت اور محبت کے ساتھ میری میزبانی فرمائی۔ ان کا خاندان نسلوں سے دربارِ بابا فریدکی خدمت اور اس کی روحانی روایات سے وابستہ ہے۔مجھے فیصل صدیقی چشتی صاحب، ہما اعجاز، سنبل فاطمہ چشتی اور خانوادۂ چشتیہ کے دیگر مخلص افراد کی رفاقت بھی نصیب ہوئی۔ یہ سب حضرت بابا فریدالدین مسعود گنجِ شکرسے گہری عقیدت رکھتے ہیں اور آستانے کی خدمت کو اپنے لیے سعادت سمجھتے ہیں۔ان کی مہمان نوازی بذاتِ خود طریقۂ چشت کی ایک خوب صورت تعبیر تھی۔ پاکپتن میں مہمان نوازی محض ایک معاشرتی رسم نہیں سمجھی جاتی۔ کسی زائر کو کھانا کھلانا، اجنبی کی رہنمائی کرنا، مسافر کے آرام کا انتظام کرنا یا کسی شخص کو دربار تک پہنچانا خانقاہ کی صدیوں پرانی خدمت کا تسلسل سمجھا جاتا ہے۔

بابا فریداور ایک روحانی دارالحکومت کی تشکیل حضرت بابا فریدالدین مسعود گنجِ شکرنے بارہویں صدی کے اواخر اور تیرہویں صدی کے دوران اس خطے کو اپنے فیض سے منور فرمایا۔ تاریخی مصادر میں آپ کی تاریخِ ولادت اور وصال کے بارے میں معمولی اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم عام طور پر آپ کی ولادت بارہویں صدی کے اواخر میں ملتان کے قریب کوٹھے وال میں اور وصال تیرہویں صدی کے وسط میں اجودھن میں قرار دیا جاتا ہے۔

آپ نے ملتان میں دینی علوم حاصل کیے اور بعد ازاں حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے۔ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیریؒ کے ممتاز خلیفہ اور جانشین تھے۔

حضرت بابا فریدہی کے ذریعے سلسلۂ چشتیہ نے پنجاب کی سرزمین میں گہری روحانی بنیادیں قائم کیں۔ آپ کی روحانی نسبت سے فیض پانے والے بزرگوں میں حضرت جمال الدین ہانسوی، حضرت علاء الدین علی احمد صابر کلیری اور بالخصوص حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوبِ الٰہی جیسے عظیم صوفیہ شامل ہیں۔

اجودھن میں قائم آپ کی خانقاہ عبادت، تربیت، اجتماعی زندگی، محنت، مہمان نوازی اور سماع کا عظیم مرکز بن گئی۔ تاریخی روایات میں بابا فریدکو ایک ایسے زاہد اور درویش کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جو نہایت سادہ زندگی بسر کرتے، بادشاہوں کے دربار سے دور رہتے اور نماز، روزے، خدمتِ خلق اور ذکرِ الٰہی کے ذریعے تزکیۂ نفس کی تعلیم دیتے تھے۔

آپ کا اثر صرف خانقاہ اور روحانی تربیت تک محدود نہیں رہا، بلکہ پنجاب کی ادبی تاریخ پر بھی نہایت گہرا نقش چھوڑا۔ حضرت شیخ فرید کی جانب منسوب پنجابی اشعار نے پنجابی زبان کو بلند اخلاقی اور روحانی افکار کے اظہار کی ایک مؤثر زبان بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

آپ سے منسوب متعدد اشعار سکھوں کی مقدس کتاب گرو گرنتھ صاحب میں بھی محفوظ ہیں، جس کے باعث حضرت بابا فرید کو مسلم اور سکھ دونوں مذہبی و ادبی روایتوں میں احترام اور محبت کا مقام حاصل ہے۔

آپ نے عام انسانوں کی زبان میں بھوک، بڑھاپے، موت، جدائی، عاجزی اور زندگی کے خاتمے سے پہلے بیدار ہو جانے کی ضرورت پر گفتگو کی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آپ کی آواز مذہبی، سیاسی اور معاشرتی حدود سے بلند ہو کر ہر انسان کے دل تک پہنچی۔

آپ کو صرف ایک منبرنشین عالم کے طور پر یاد نہیں کیا جاتا، بلکہ ایسے فقیر کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے جس کے الفاظ مجاہدے، بھوک، عبادت، صبر اور مخلوقِ خدا کے لیے بے پناہ شفقت سے جنم لیتے تھے۔

پہلی حاضری

پاکپتن شریف پہنچتے ہی ہم نے سب سے پہلے حضرت بابا فریدکے مقدس آستانے پر حاضری دی۔

دربار میں داخل ہوتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان تاریخ کی کئی تہوں کے درمیان سے گزر رہا ہو۔ تنگ گلیاں، سفید سنگِ مرمر، گلاب کی پنکھڑیوں کی خوشبو، درود و سلام کی صدائیں اور مسلسل آتے جاتے زائرین ایک ایسی روحانی دنیا تشکیل دیتے ہیں جو ظاہری زمان و مکان سے مختلف معلوم ہوتی ہے۔

حضرت بابا فرید کا مزار سفید سنگِ مرمر سے بنا ہوا ایک نسبتاً مختصر مگر نہایت پُرنور اور پُرہیبت مقام ہے۔ اس کے دو معروف دروازے ہیں۔ مشرقی جانب واقع دروازے کو ’’نوری دروازہ‘‘ اور شمالی جانب واقع دروازے کو ’’بہشتی دروازہ‘‘ کہا جاتاہے۔

اندر حضرت بابا فریداور آپ کے صاحبزادے کے سنگِ مرمر سے مزین مزارات ہیں۔

ہمیں زیارت، سلام اور فاتحہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ میں اپنے ساتھ اپنے اہلِ خانہ، دوستوں اور احباب کے نام، ان کی دعائیں، پریشانیاں اور امیدیں لے کر حاضر ہوا تھا۔

اس آستانے پر کھڑے ہو کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان جن دعاؤں کو خود بھول چکا ہوتا ہے، وہ بھی یہاں کسی نہ کسی طور یاد رکھی جاتی ہیں۔

زیارت کے بعد ہمیں لنگر تناول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ لنگر ہمیشہ سے چشتی روحانیت کا بنیادی حصہ رہا ہے۔ لنگر عقیدت کو خدمت میں بدل دیتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ امیر و غریب سب ایک ہی دسترخوان کی مہمان نوازی میں شریک ہوں۔

پاکپتن کے دربار میں آج بھی دن بھر زائرین کے لیے لنگر تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہاں کسی سے اس کا مرتبہ، پیشہ، دولت یا خاندانی حیثیت نہیں پوچھی جاتی۔ دربار کی نگاہ میں سب مسافر ہیں اور سب ایک ہی کریم پروردگار کے بندے ہیں۔

اسی شام ہمیں دربار میں منعقد ہونے والی محفلِ سماع میں شرکت کا شرف حاصل ہوا۔ قوالوں کی بلند ہوتی آوازیں، ہاتھوں کی ہم آہنگ تال اور صوفیانہ اشعار کی بازگشت نے پوری محفل کو اپنے حصار میں لے لیا۔

لیکن یہاں سماع کا مقصد محض تفریح یا موسیقی سے لطف اندوز ہونا نہ تھا۔ سماع اپنی اعلیٰ ترین صورت میں دل کے ساتھ سننے کا نام ہے۔ کبھی کوئی مانوس شعر اچانک آئینہ بن جاتا ہے اور انسان کو دکھا دیتا ہے کہ وہ جس زندگی میں مصروف ہے اور جس زندگی کے لیے اس کی روح پیدا کی گئی تھی، ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے۔

عرس کی تقریبات کا آغاز

حضرت بابا فریدکے ۷۸۴ویں عرس کی روایتی تقریبات جون ۲۰۲۶ء میں شروع ہوئیں اور محرم الحرام کے ابتدائی ایام تک جاری رہیں۔ ان تقریبات میں ختمِ خواجگان، محافلِ سماع، لنگر، تقسیمِ تبرک اور خاندانِ دیوان کی جانب سے ادا کی جانے والی مختلف قدیم رسومات شامل تھیں۔

خاندانِ دیوان طویل عرصے سے دربار کی موروثی تولیت، نگہبانی اور روایتی انتظامات سے وابستہ ہے۔

عرسِ بابا فرید کی تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے۔ امیر خسروسے منسوب ایک روایت میں چودہویں صدی کے آغاز میں حضرت بابا فریدکے وصال کی پچاسویں سالانہ یاد کا ذکر ملتا ہے، جب زائرین آپ کی سیرت اور حالاتِ زندگی سننے اور درویشوں کا سماع سننے کے لیے جمع ہوئے تھے۔

بعد کے ادوار میں قوالی، لنگر، دستار بندی، تقسیمِ شکر اور دربار کے مقدس دروازوں سے رسمی گزرنے جیسی روایات عرس کا مستقل حصہ بنتی چلی گئیں۔

اگلی صبح ہم پہلے دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے جلد تیار ہو گئے۔ تقریباً نو بجے فضا میں تین رسمی فائر کیے گئے، جن کی آواز پورے پاکپتن میں گونج اٹھی۔ یہ آواز اس بات کا اعلان تھی کہ صبح کی تقریب شروع ہونے والی ہے۔یہ آواز بظاہر چونکا دینے والی تھی، مگر اس کے ساتھ ہی گلیوں اور راستوں میں ایک خاص حرکت پیدا ہو گئی۔ لوگوں نے اپنی جگہیں سنبھال لیں، بزرگوں نے بچوں اور نوجوانوں کو قریب بلایا اور زائرین جلوس کے راستے کی جانب متوجہ ہونے لگے۔

عرس کے ابتدائی چار دنوں کی ہر صبح دیوان صاحب یا ان کے صاحبزادے کی باوقار آمد سے تقریب کا آغاز ہوتا تھا۔ جلوس کی قیادت قوال کرتے، جو حضرت بابا فرید کی عظمت اور سلسلۂ چشتیہ کے روحانی مقام سے متعلق مخصوص فارسی قصائد اور روایتی چشتی کلام پیش کرتے تھے۔

دیوان صاحب دربار سے وابستہ مقدس مقامات کے درمیان ایک مقررہ انداز میں تشریف لے جاتے اور قوال مسلسل کلام پڑھتے رہتے۔ ان اشعار میں حضرت بابا فرید کو طریقِ چشت کے عظیم رہنما اور اپنے زمانے کے قطب کی حیثیت سے یاد کیا جاتا تھا، جن کا روحانی فیض ظاہری وصال کے صدیوں بعد بھی اہلِ طلب کو اپنی جانب کھینچ رہا ہے۔

یہ جلوس تقریباً دو گھنٹے جاری رہتا۔ اس میں کوئی جلد بازی نہ تھی۔ اشعار کی تکرار، ناپے تلے قدم اور بار بار لوٹتی ہوئی دھنیں آہستہ آہستہ ایک مراقبہ آمیز کیفیت پیدا کر دیتیں۔

ہزاروں افراد ہمارے اردگرد موجود ہوتے، مگر بعض لمحات ایسے آتے جب یوں محسوس ہوتا کہ پوری دنیا خاموش اور ساکت ہو گئی ہے۔

’’من نیم، واللہ یاراں، من نیم‘‘ حضرت بابا فرید کے دربار کی سماعی روایت سے وابستہ مشہور فارسی کلاموں میں ایک نہایت دل نشیں غزل یہ بھی ہے:

من نیم، واللہ یاراں، من نیم

جانِ جانم، سرِّ سرم، من نیم

یہ کلام محافل میں اکثر حضرت بابا فرید سے منسوب کر کے پیش کیا جاتا ہے، اگرچہ بعض ادبی مآخذ میں اس کا شاعر نامعلوم بتایا گیا ہے۔ اس لیے اسے قطعی طور پر حضرت بابا فرید کی تصنیف کہنا مناسب نہیں۔

اس کلام کا اصل روحانی مفہوم ’’فنا‘‘ کے اسرار سے متعلق ہے۔ فنا سے مراد خود پسند، حریص اور اپنی ذات کو ہر چیز کا مرکز سمجھنے والے نفس کا ذکرِ الٰہی اور محبتِ خداوندی کے سامنے مٹ جانا ہے۔

’’میں نہیں ہوں‘‘ کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان خدا بن جاتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کی جھوٹی خودی، غرور، ملکیت کا احساس اور اپنی ذات کی بے نیازی کا فریب عشق اور معرفت کے نور میں مغلوب ہو جاتا ہے۔

دربار کے ماحول میں یہ مصرع محض ایک فلسفیانہ خیال محسوس نہیں ہوتا تھا، بلکہ خود اس مقام کی زبان بن جاتا تھا۔

مختلف علاقوں، خاندانوں، پیشوں اور سماجی حیثیتوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں زائرین وہاں موجود تھے، مگر بابا صاحب کے آستانے پر سب فقیر بن کر کھڑے تھے۔

’’من نیم‘‘ کی تکرار جیسے ہر شخص سے سوال کر رہی تھی:

تم کون ہو جب تمہارے تمام عہدے چھین لیے جائیں؟

تم کون ہو جب دولت، منصب، دلیل اور شہرت تمہارے ساتھ نہ رہیں؟

اور جب نفس زندگی کے مرکز سے ہٹ جائے تو پھر تمہارے اندر کیا باقی رہتا ہے؟

ختم، نیاز اور شکر کی تقسیم جلوس کے اختتام پر حفاظِ کرام قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے اور دعائیں مانگی جاتیں۔ زائرین، مرحومین، بیماروں اور ان تمام افراد کے لیے دعا کی جاتی جو خود حاضر نہ ہو سکے تھے، مگر اپنی دعاؤں کی درخواستیں بھجوا چکے تھے۔

اس کے بعد نذر اور نیاز پیش کی جاتی۔ شکر سے بھرے ہوئے چھوٹے برتن اور بڑے تھال دعا کے لیے رکھے جاتے، پھر یہ شکر دربار میں جمع ہزاروں زائرین میں تقسیم کی جاتی۔

دیوان صاحب صبح اور شام دونوں اوقات میں خود بھی شکر تقسیم فرماتے تھے۔

لوگ شکر کا ایک چھوٹا سا حصہ نہایت ادب اور احترام کے ساتھ لیتے اور اسے اپنے گھروں میں بطور تبرک لے جاتے۔ یہ تبرک ان بیماروں، بزرگوں، بچوں اور خاندان کے ان افراد میں تقسیم کیا جاتا جو اس سفر میں شریک نہ ہو سکے تھے۔

اس طرح عرس پاکپتن کی حدود سے نکل کر دور دراز گھروں، بیمارستانوں، خاندانی محفلوں اور ان بزرگ زائرین کے ہاتھوں تک پہنچ جاتا جو عمر بھر دوبارہ دربار پر حاضری کی خواہش رکھتے تھے۔

شکر کی یہ تقسیم حضرت بابا فرید کے لقب ’’گنجِ شکر‘‘ کے باعث ایک خاص معنویت رکھتی ہے۔ گنجِ شکر کے معنی ’’شکر کا خزانہ‘‘ یا ’’شیرینی کا خزانہ‘‘ ہیں۔

غروبِ آفتاب اور چراغوں کی دعا پاکپتن شریف میں جن رسوم نے میرے دل کو سب سے زیادہ متاثر کیا، ان میں ’’چراغوں کی دعا‘‘ کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔

ہر شام، جب سورج پرانے شہر کی گلیوں سے اپنی روشنی سمیٹنے لگتا اور دربار کے اوپر پھیلا ہوا آسمان سنہری رنگ سے بنفشی رنگ میں ڈھلنے لگتا، تو بابا صاحب کے مزار پر ایک حیرت انگیز سکون اتر آتا۔

دن بھر کی ہلچل آہستہ آہستہ تھم جاتی۔ آوازیں مدھم ہونے لگتیں، سنگِ مرمر پر غروب ہوتے سورج کے رنگ جھلملانے لگتے اور گلاب، لوبان اور چراغ کے تیل کی خوشبو گنبد کے نیچے یکجا ہو جاتی۔

نمازِ مغرب سے کچھ دیر پہلے حافظ صاحب ایک چراغ لے کر حضرت بابا فریدالدین مسعود گنجِ شکر کے مزارِ اقدس کے قریب آتے۔ وہ نہایت ادب کے ساتھ بابا صاحب کے قدموں کی جانب چراغ روشن کرتے۔

ظاہری طور پر وہ ایک چھوٹا سا چراغ ہوتا، لیکن اس مقدس حجرے میں یوں محسوس ہوتا کہ اس کی روشنی صرف ایک محدود جگہ کو روشن نہیں کر رہی، بلکہ اس نور کی یاد تازہ کر رہی ہے جو صدیوں پہلے بابا صاحب پنجاب کی سرزمین پر لے کر آئےتھے۔

یہ وہ نور تھا جو آپ کی تعلیمات، شاعری، خانقاہ، روحانی اولاد اور آپ کے آستانے سے فیض پانے والے بے شمار دلوں کے ذریعے آج بھی زندہ ہے۔

یہ رسم وسیع تر چشتی روایت میں ’’دعائے روشنی‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ بہت سے چشتی مزارات پر غروبِ آفتاب اور نمازِ مغرب کے درمیان یہ دعا پڑھی جاتی ہے۔

پاکپتن میں دعائے چراغاں، ختمِ خواجگان، سماع، لنگر اور تقسیمِ تبرک کی طرح عرس کی قدیم اور مستحکم روایات کا حصہ ہے۔

جوں ہی چراغ روشن ہوتا، دعا کا آغاز ہو جاتا۔

دعا کی زبان نہایت شستہ اور پُراثر فارسی ہوتی ہے، جسے صدیوں کی مسلسل قرأت نے مزید مٹھاس اور وقار عطا کر دیا ہے۔ الفاظ حجرے میں آہستگی سے بلند ہوتے، مگر وہ کسی رسمی مظاہرے یا فنکارانہ پیشکش کی طرح محسوس نہ ہوتے، بلکہ ایک عاجزانہ نذرانہ معلوم ہوتے۔

ہر بزرگ کا نام نہایت ادب سے لیا جاتا اور ہر جملہ ایک مقدس امانت کے وقار کے ساتھ ادا کیا جاتا۔

پاکپتن شریف میں پڑھی جانے والی اصل دعائے چراغاں وہاں کی زندہ شفاہی روایت کا حصہ ہے، اس لیے اس کا مستند متن دربار کے مجاز قرّاء کی معتبر قرأت ہی سے نقل کیا جانا چاہیے۔ تاہم اس دعا کی روح اور مفہوم کو فارسی میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے:

ای خداوندِ نور و رحمت،

چراغِ این آستان را تا ابد روشن دار۔

بر ارواحِ مشایخِ چشت رحمت فرما،

بر خاندانِ حضرت بابا فرید برکت نازل کن،

دیوانِ آستان و اہلِ خانۂ او را محفوظ دار،

و نورِ محبت را در دلِ تمامِ انسان‌ها فروزان فرما۔

یہ فارسی اشعار دعا کی روح اور معنویت کی نمائندگی کرتے ہیں؛ انہیں پاکپتن شریف میں پڑھے جانے والے لفظ بہ لفظ مستند متن کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔

مشائخِ چشت کا سنہری سلسلہ چراغ روشن کیے جانے کے بعد مبارک شجرۂ چشتیہ پڑھا جاتا ہے۔ یہ شجرہ سلسلۂ چشتیہ کے روحانی نسب اور انتقالِ فیض کی نمائندگی کرتا ہے۔

شجرہ محض بزرگوں کے ناموں کی فہرست نہیں، بلکہ ایک ایسا روحانی دریا ہے جو ملکوں، زبانوں اور صدیوں سے گزرتا ہوا ہم تک پہنچا ہے۔

ہر نام ایک ایسی مقدس زندگی کی نمائندگی کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور مخلوقِ خدا کی خدمت کے لیے وقف تھی۔ ہر بزرگ نے اس روحانی امانت کو اپنے شیخ سے حاصل کیا اور پھر اسے اگلے طالبِ حق کے دل تک پہنچایا۔

شجرۂ چشتیہ کی قرأت میں سلسلے کے عظیم مشائخ کو یاد کیا جاتا ہے:

  • حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری قدس سرہ
  • حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی قدس سرہ
  • حضرت شیخ فریدالدین مسعود گنجِ شکر قدس سرہ
  • حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوبِ الٰہی قدس سرہ

ان ناموں کو صرف ماضی کی شخصیات کے طور پر نہیں پڑھا جاتا۔ دربار کی پُرنور فضا میں یہ بزرگ ایک زندہ روحانی موجودگی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔

وہ محبت، مجاہدہ، خدمت، ادب اور ذکرِ الٰہی کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک اساتذہ کی ایسی زنجیر محسوس ہوتے ہیں جس کی روشنی آج بھی اہلِ دل تک پہنچ رہی ہے۔

اس تصور کو فارسی میں نہایت خوب صورتی سے یوں بیان کیا جا سکتا ہے:

این سلسلہ، زنجیرۂ زرّینِ محبت است؛

دلی از دلی نور گرفت،

تا آن نور بہ دل‌ہای ما رسید۔

مشائخِ چشت کے اسمائے مبارکہ کی قرأت کے ساتھ دیوان صاحب، ان کی اولاد، ان کے اہلِ خانہ اور اس پورے خاندان کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں جسے بابا صاحب کے آستانے کی تولیت، خدمت اور حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

اس کے بعد تمام چشتیوں کے لیے خیر و برکت طلب کی جاتی ہے۔ بزرگوں، نوجوانوں، مشائخ، مریدوں، قوالوں، خادموں، پاکپتن کے باشندوں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے زائرین سب کو دعا میں شامل کیا جاتا ہے۔

لیکن یہ دعا کسی ایک خاندان، سلسلے یا برادری پر ختم نہیں ہو جاتی۔

یہ پانی پر پھیلنے والے نورانی دائروں کی طرح وسیع ہوتی چلی جاتی ہے۔

بیماروں، غریبوں، مسافروں، غم زدہ لوگوں اور ان افراد کے لیے دعا کی جاتی ہے جن کے باطنی دکھ صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔

دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خیر، سلامتی اور رحمت طلب کی جاتی ہے اور بالآخر پوری انسانیت کے امن، حفاظت اور بھلائی کے لیے دستِ دعا بلند کیا جاتا ہے۔

اس لمحے بابا صاحب کے قدموں میں روشن چراغ چشتی پیغام کی علامت بن جاتا ہے۔ یہ ایسی روشنی ہے جو کسی ایک گھرانے یا طبقے تک محدود نہیں، کیونکہ اسے تمام انسانوں کے لیے روشن کیا گیا ہے۔

نور میں نہایا ہوا آستانہ دعا جاری رہتی اور چراغ کا شعلہ شام کی ہلکی ہوا میں آہستگی سے لرزتا رہتا۔

اس کی روشنی صاف کیے ہوئے سنگِ مرمر پر جھلملاتی، چاندی اور طلائی آرائش کو چھوتی اور مزار پر بکھری گلاب کی پنکھڑیوں پر ٹھہر جاتی۔

حجرے کا سفید سنگِ مرمر نور میں نہایا ہوا معلوم ہوتا۔ نفیس کڑھائی والی چادریں چراغوں کی مدھم روشنی میں چمکنے لگتیں۔ محرابوں پر سایے حرکت کرتے اور یوں محسوس ہوتا جیسے قدیم دیواریں اولیائے کرام کے ناموں کے ساتھ سانس لے رہی ہوں۔

باہر پاکپتن کی گلیاں رات کی تیاری میں مصروف ہوتیں۔ دکان دار چراغ روشن کرتے، زائرین پھول اور مٹھائیاں خریدتے، قوال اپنے ہارمونیم درست کرتے اور اذان کی آواز چھتوں کے اوپر سے گزرتی ہوئی دور تک پھیل جاتی۔لیکن حجرے کے اندر وقت جیسے رک جاتا تھا۔

حافظ صاحب کی آواز فارسی اشعار کے ساتھ کبھی بلند اور پُرہیبت ہو جاتی اور کبھی اتنی نرم کہ اسے سننے کے لیے انسان کو اپنے وجود کے اندر جھکنا پڑتا۔شاید یہی اس دعا کا ایک حسن تھا۔ اسے سننے کے لیے صرف کانوں کی توجہ کافی نہ تھی، بلکہ دل کا سننا بھی ضروری تھا۔یہ میری زندگی میں سنے جانے والے سب سے خوب صورت اور پُراثر مذہبی اشعار میں سے ایک تھا۔فارسی زبان کی لطافت، شجرۂ چشتیہ کی قرأت اور بابا صاحب کے قدموں میں روشن ہونے والے چراغ کا منظر ایک ایسی کیفیت پیدا کرتا تھا جسے الفاظ مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتے۔یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ ظاہری چراغ کسی غیر مرئی نور کی نمائندگی کر رہا ہو، جو ایک دل سے دوسرے دل تک منتقل ہو رہا ہے۔اس لمحے میرے ذہن میں حضرت بابا فرید کا پورا روحانی سفر ابھر آیا: بچپن سے نماز کی پابندی، حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کی صحبت، فقیرانہ رحمت کی تلاش میں سرگرداں ہر انسانی دل تک پہنچنا چاہیے۔طریقۂ چشت ہمیشہ یہ تعلیم دیتا آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کا اظہار اس کی مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک کے ذریعے ہونا چاہیے۔

کسی ولی کے قدموں میں روشن کیا جانے والا چراغ اسی وقت حقیقی معنویت اختیار کرتا ہے جب اس کی روشنی ہمیں کسی دوسرے انسان کے گرد پھیلے ہوئے اندھیرے کو دور کرنے کی ترغیب دے۔

شام کی تقریب حفاظت، قبولیت اور رحمت کی دعاؤں کے ساتھ اختتام کو پہنچی:

خداوندا، این چراغِ محبت را خاموش مکن

دل‌های ما را بہ نورِ ذکر روشن گردان

بر دیوانِ آستان، خاندانِ او،

جملۂ چشتیان و تمامِ بنی آدم رحم فرما

جب دعا کے آخری الفاظ فضا میں تحلیل ہوئے اور مغرب کی اذان بلند ہونے لگی تو بابا صاحب کے قدموں میں رکھا ہوا چراغ خاموشی سے روشن رہا۔میں حجرے سے باہر آیا تو ایک منظر ہمیشہ کے لیے میرے دل میں محفوظ ہو چکا تھا:

گہری ہوتی ہوئی شام کے درمیان ایک تنہا چراغ، جس کے گرد ایسی دعائیں پھیلی ہوئی تھیں جو پوری دنیا کو اپنی آغوش میں لینے کی وسعت رکھتی تھیں۔

گنجِ شکر کے لقب سے وابستہ شیرینی حضرت بابا فرید کو ’’گنجِ شکر‘‘ کا لقب ملنے سے متعلق کئی مشہور روایات بیان کی جاتی ہیں۔ ان میں سب سے معروف روایت آپ کے بچپن سے متعلق ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کی نہایت متقی اور پرہیزگار والدہ آپ کو نماز کی ترغیب دینے کے لیے مصلّے کے نیچے شکر رکھ دیا کرتی تھیں۔نماز کے بعد ننھے فرید مصلّے کے نیچے سے شکر پاتے اور خوش ہوتے۔ایک روز آپ کی والدہ شکر رکھنا بھول گئیں، لیکن حضرت فرید نے نماز کے بعد حسبِ معمول مصلّے کے نیچے شکر پائی۔والدہ نے اس واقعے کو اس بات کی علامت سمجھا کہ اب یہ شیرینی صرف ان کے ہاتھ کی عطا نہ رہی تھی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ننھے بندے کی عبادت میں حقیقی مٹھاس پیدا فرما دی تھی۔تاریخی اعتبار سے یہ واقعہ ایک روحانی روایت ہے، جسے مادی اور دستاویزی تاریخ کے پیمانوں سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن اس کا روحانی پیغام نہایت واضح ہے۔ایک بچہ ابتدا میں انعام کی امید سے عبادت کر سکتا ہے، مگر اخلاص اور مسلسل بندگی کے ذریعے ایک وقت ایسا آتا ہے جب عبادت خود اس کے لیے شکر سے بھی زیادہ شیریں ہو جاتی ہے۔حضرت بابا فرید کی عظمت اس بات میں نہ تھی کہ وہ شکر چاہتے تھے، بلکہ اس میں تھی کہ اطاعتِ الٰہی ان کے لیے شکر سے زیادہ میٹھی بن گئی تھی۔

ایک دوسری مشہور کرامت ہندوستانی پنجاب کے شہر فریدکوٹ کی تاریخ سے وابستہ ہے۔مقامی روایت کے مطابق ایک قلعے کی تعمیر کے دوران حضرت بابا فرید کو مٹی کی ٹوکری اٹھانے پر مجبور کیا گیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ مٹی سے بھری ہوئی ٹوکری آپ کے سر کو چھوئے بغیر فضا میں معلق ہے۔اس واقعے کو دیکھ کر حاکم نے آپ کو آزاد کر دیا اور بعد میں اس بستی کو آپ کی نسبت سے فریدکوٹ کہا جانے لگا۔یہ واقعہ بھی باقاعدہ تاریخی ثبوت کے بجائے مقدس روایت اور مناقب کی دنیا سے تعلق رکھتا ہے، لیکن اس کا پیغام نہایت گہرا ہے۔ دنیاوی حکمران کسی فقیر کے جسم کو کام پر مجبور کر سکتے ہیں، مگر اس روحانی وقار کو اپنے قبضے میں نہیں لے سکتے جو اللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں کو عطا فرماتا ہے۔عقیدت مندوں کے نزدیک ایسی کرامات اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں، جبکہ مؤرخ کے لیے یہ روایات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مختلف معاشرے اپنے اولیاء کو کس محبت اور عظمت کے ساتھ یاد رکھتے ہیں۔ لیکن شاید حضرت بابا فریدکی سب سے بڑی کرامت ان کے پیغام کا مسلسل زندہ رہنا ہے۔ صدیوں بعد بھی لوگ آپ کے نام پر بھوکوں کو کھانا کھلاتے، اجنبیوں کی خدمت کرتے، قرآنِ مجید پڑھتے، صوفیانہ کلام سنتے اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں۔

حجرۂ مبارک کے اندر اس سال دیوان صاحب کی خصوصی عنایت سے مجھے شکر کی تقسیم کے دوران حضرت بابا فریدکے مقدس حجرے کے اندر موجود رہنے کا غیر معمولی شرف حاصل ہوا۔

حجرہ مختصر تھا، مگر گلاب اور دیگر پھولوں کی خوشبو سے بھرا ہوا تھا۔ باہر ہزاروں زائرین اپنی باری کے منتظر تھے، جبکہ اندر ایسی خاموشی تھی جس میں صدیوں کی دعائیں سمٹی ہوئی محسوس ہوتی تھیں۔

اس مقدس جگہ کے اندر موجود ہونے کی اجازت ملنا میرے لیے ناقابلِ بیان سعادت تھی۔ یہ ایسا لمحہ تھا جسے میں پوری زندگی اپنے دل میں محفوظ رکھوں گا۔

میں نے اسے اپنی کسی قابلیت یا حیثیت کا نتیجہ نہیں سمجھا، بلکہ بابا صاحب کے آستانے کی عنایت تصور کیا۔

ایسی سعادتیں مقام، دولت یا مرتبے سے حاصل نہیں ہوتیں۔ انسان انہیں اسی طرح قبول کرتا ہے جیسے ایک فقیر روٹی کا ٹکڑا قبول کرتا ہے: مکمل شکر، عجز اور اس احساس کے ساتھ کہ عطا کرنے والے پر اس کا کوئی حق نہیں تھا۔

ایک عاجزانہ نذرانے کے طور پر مجھے دو مزید محافلِ سماع پیش کرنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔

ایک محفل میرے دوست شاہ جی قوال نے سجائی، جبکہ دوسری محفل مولوی ضمیر الدین حیدر صاحب، وہاڑی والا، پاکپتن شریف نے سجائی۔ دونوں محفلیں نہایت نورانی، روح پرور اور یادِ الٰہی سے لبریز تھیں۔ کچھ محفلیں ایسی ہوتی ہیں جن میں موسیقی صرف کانوں سے سنی جاتی ہے، لیکن بعض محفلیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں انسان محسوس کرتا ہے کہ اس کے دل کے اندر کوئی بند دروازہ کھل گیا ہے۔

یہ دونوں محفلیں اسی دوسری نوع سے تعلق رکھتی تھیں۔ قوال محض سامعین کے سامنے فن کا مظاہرہ نہیں کر رہے تھے، بلکہ اپنی آوازیں بابا صاحب کے آستانے پر نذرانے کے طور پر پیش کر رہے تھے۔

بہشتی دروازہ :

حضرت بابا فریدکے عرس کا کوئی بھی تذکرہ بہشتی دروازے کی تاریخ اور معنویت کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔مزار کے مشرقی دروازے کو نوری دروازہ اور شمالی دروازے کو بہشتی دروازہ، یعنی جنت کا دروازہ کہا جاتا ہے۔سال کے بیشتر حصے میں یہ دروازہ بند رہتا ہے۔ عرس کے مخصوص ایام میں اسے ایک باقاعدہ روحانی اور رسمی تقریب کے ساتھ کھولا جاتا ہے اور بے شمار زائرین درود و سلام، ذکر اور دعائیں پڑھتے ہوئے اس سے گزرتے ہیں۔

۷۸۴ویں عرس کے موقع پر روایتی تقریبات دس محرم تک جاری رہیں، جبکہ بہشتی دروازہ پانچ محرم کی شب کھولے جانے کا انتظام کیا گیا تھا۔حالیہ سالوں کی روایت کے مطابق یہ دروازہ مسلسل پانچ راتوں تک نمازِ عشاء کے بعد سے فجر تک کھلا رہتا ہے۔ اسے کھولنے کی تقریب دعا، ذکر اور خاندانِ دیوان کی جانب سے شکر کی تقسیم کے ساتھ انجام پاتی ہے۔عقیدت کی روایت میں بہشتی دروازے سے گزرنا بخشش، برکت اور نجات کی امید کی علامت سمجھا جاتا ہے۔اسے اس طرح نہیں سمجھنا چاہیے کہ محض ایک جسمانی دروازے سے گزر جانا، سچی توبہ اور اصلاحِ عمل کے بغیر، تمام گناہوں کی لازمی معافی کی ضمانت ہے۔بخشش عطا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس دروازے کا گہرا ترین مفہوم علامتی ہے۔ زائر اپنے ماضی کا دروازہ نہیں کھلا تھا۔اس کے باوجود اس بند دروازے کے سامنے کھڑے ہونا اور اس کے ساتھ وابستہ صدیوں کی تاریخ کو محسوس کرنا اپنے اندر ایک گہرا اثر رکھتا تھا۔وہ بند دروازہ گویا یہ سبق دے رہا تھا کہ زندگی کے بعض دروازے انسان کی خواہش یا مقرر کردہ وقت پر نہیں کھلتے، بلکہ اپنے مخصوص اور مقدر وقت پر کھلتے ہیں۔

آخری زیارت اور خدمت کی سعادت: چار محرم کی دوپہر مجھے اور میرے دوست کو اچانک اطلاع دی گئی کہ ہم آخری زیارت کے لیے بابا صاحب کے حضور حاضر ہوں۔ایک مرتبہ پھر ہمیں اپنی توقع سے کہیں بڑھ کر سعادت نصیب ہوئی۔ہمیں اس مقدس حجرے کی صفائی میں شریک ہونے کا موقع ملا جس میں حضرت بابا فریدآرام فرما ہیں۔شہزادہ صاحب کی موجودگی میں ہم نے نہایت احتیاط اور ادب کے ساتھ وہ پھول اور گلاب کی پنکھڑیاں جمع کیں جو زائرین نے حجرے کے اندر عقیدت کے ساتھ پیش کی تھیں۔

بوجھ لے کر اس میں داخل ہوتا ہے اور یہ دعا کرتا ہے کہ دوسری جانب سے ایک پاکیزہ اور تجدید شدہ دل کے ساتھ نکلے۔تاریخی اعتبار سے یہ رسم اس بات کی بھی علامت ہے کہ حضرت بابا فریدکا مزار صدیوں سے مختلف نسلوں، علاقوں اور معاشروں کو آپس میں جوڑنے والا ایک عظیم روحانی ادارہ رہا ہے۔دروازہ سال میں صرف چند راتوں کے لیے کھلتا ہے، لیکن اس سے وابستہ امید پورا سال لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتی ہے۔چونکہ ہم چار محرم کی شام پاکپتن سے روانہ ہو گئے تھے، اس لیے ۷۸۴ویں عرس کی مرکزی راتوں کے آغاز تک بہشتی دروازہ نہیں کھلا تھا۔اس کے باوجود اس بند دروازے کے سامنے کھڑے ہونا اور اس کے ساتھ وابستہ صدیوں کی تاریخ کو محسوس کرنا اپنے اندر ایک گہرا اثر رکھتا تھا۔وہ بند دروازہ گویا یہ سبق دے رہا تھا کہ زندگی کے بعض دروازے انسان کی خواہش یا مقرر کردہ وقت پر نہیں کھلتے، بلکہ اپنے مخصوص اور مقدر وقت پر کھلتے ہیں۔

آخری زیارت اور خدمت کی سعادت: چار محرم کی دوپہر مجھے اور میرے دوست کو اچانک اطلاع دی گئی کہ ہم آخری زیارت کے لیے بابا صاحب کے حضور حاضر ہوں۔ایک مرتبہ پھر ہمیں اپنی توقع سے کہیں بڑھ کر سعادت نصیب ہوئی۔ہمیں اس مقدس حجرے کی صفائی میں شریک ہونے کا موقع ملا جس میں حضرت بابا فریدآرام فرما ہیں۔شہزادہ صاحب کی موجودگی میں ہم نے نہایت احتیاط اور ادب کے ساتھ وہ پھول اور گلاب کی پنکھڑیاں جمع کیں جو زائرین نے حجرے کے اندر عقیدت کے ساتھ پیش کی تھیں

اس کے بعد ہم نے فرش پر جھاڑو دیا اور مزارِ اقدس کے اطراف سنگِ مرمر کو صاف اور چمکایا۔وہاں موجود ہر پھول کی پنکھڑی کسی نہ کسی انسان کی داستان لیے ہوئے تھی۔شاید ایک پھول کسی بچے کی صحت یابی پر شکرانے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔کوئی پنکھڑی کسی بیٹی کی شادی کی دعا لیے ہوئے تھی۔کوئی پھول اس والد یا والدہ کی یاد میں رکھا گیا تھا جو پوری زندگی پاکپتن حاضری کی تمنا کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔ان پھولوں کو جمع کرتے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہم ہزاروں انسانوں کی خاموش دعائیں اپنے ہاتھوں میں سمیٹ رہے ہوں۔کسی مقدس مقام کی صفائی بظاہر ایک معمولی جسمانی خدمت ہے، لیکن اس لمحے جھاڑو ایک روحانی استاد بن گیا تھا۔جب ہم سنگِ مرمر سے پھولوں کی پنکھڑیاں اور گرد صاف کر رہے تھے تو مجھے اپنے دل کی اس صفائی کا خیال آیا جو کہیں زیادہ ضروری ہے۔

دل سے کینے، غرور، حسد، غصے اور تعریف و شہرت کی خواہش کو دور کرنا ہی اصل پاکیزگی ہے۔حجرے کو میری خدمت کی ضرورت نہ تھی۔حقیقت یہ تھی کہ مجھے اس خدمت کے اندر پوشیدہ سبق کی ضرورت تھی۔

نوکری اور چاکری میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ ’’نوکری‘‘ اور ’’چاکری‘‘ میں ایک گہرا فرق ہے۔عام نوکری میں خادم اپنے مالک یا آجر کا خیال رکھتا ہے۔ وہ ایک مقررہ ذمہ داری پوری کرتا اور اس کے بدلے معاوضہ پاتا ہے۔ یہ تعلق کام، وقت اور ذمہ داری کے پیمانوں سے ناپا جاتا ہے۔لیکن اولیائے کرام کی روحانی چاکری میں معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔اس چاکری میں مالک اپنے خادم کا خیال رکھتا ہے۔ہم اپنے آپ کو بابا صاحب کا خادم کہتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ بابا صاحب کا آستانہ ہمیں پناہ دیتا، ہماری روحانی پرورش کرتا، ہماری اصلاح کرتا اور ہمیں اہلِ دعا کی صحبت عطا کرتا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہم ان کے حضور پھول لے کر حاضر ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کی تعلیمات ہمیں زندگی کی سختیوں اور آزمائشوں سے نکال کر آگے لے جاتی ہیں۔

اس کا مطلب کسی ولی کی عبادت کرنا نہیں ہے۔ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے ان مقبول بندوں سے محبت اور ان کی خدمت ہے جن کی پوری زندگی انسان کو اللہ کی جانب رہنمائی کرتی ہے۔حضرت بابا فرید کے آستانے سے وابستہ محبت اور روحانی دولت کو الفاظ میں مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔عرس کے ایام میں یوں محسوس ہوتا تھا کہ مزار سے دعاؤں کے دریا بہہ رہے ہیں: حاضرین کے لیے بھی، غائب لوگوں کے لیے بھی، ان کے لیے بھی جنہوں نے دعا کی درخواست کی تھی، اور ان کے لیے بھی جن کی ضروریات صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔

حضرت بدر الدین شاہ صاحب کے مزار پر حاضری ہمیں ڈھکی پر واقع اس مقدس مقام کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہوا جو حضرت بابا فریدکے صاحبزادے حضرت بدر الدین شاہ صاحب سے منسوب ہے۔

وہاں ہم نے فاتحہ پڑھی، سلام پیش کیا اور اپنی نذریں حاضر کیں۔اس حاضری نے میرے اندر یہ شعور مزید گہرا کیا کہ پاکپتن محض ایک عمارت یا ایک مزار کا نام نہیں ہے۔یہ ایک مکمل روحانی منظرنامہ ہے، جس میں مرکزی دربار، خانقاہ، لنگر خانہ، قدیم راستے، بابا فرید کے خاندان اور خلفاء سے وابستہ مقامات اور صدیوں سے خدمت کرنے والے خاندانوں کی یادیں شامل ہیں۔

پاکپتن کی ہر تنگ گلی میں کوئی نہ کوئی داستان محسوس ہوتی تھی۔ہر دروازہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اس نے لوگوں کو امید کے ساتھ آتے اور آنسوؤں کے ساتھ واپس جاتے دیکھا ہو۔

پاکپتن سے رخصتی: چار محرم کی شام بالآخر کراچی واپسی کا وقت آ گیا۔ہم ایک مرتبہ پھر بھاری دل کے ساتھ آخری سلام کے لیے دربار حاضر ہوئے۔کسی مقدس مقام سے رخصت ہونا کسی عام جگہ سے چلے جانے کی مانند نہیں ہوتا۔جسم شاید سفر کے اگلے مرحلے کے لیے تیار ہو جائے، لیکن دل وہاں سے جدا ہونے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ہم اپنے ساتھ متبرک پھول، تبرک اور محافلِ سماع کی یادیں لے کر روانہ ہوئے۔لیکن ان سب سے بڑھ کر ہم یہ دعا اپنے ساتھ لے کر جا رہے تھے کہ بابا صاحب کا آستانہ ہمیں آئندہ سال ایک مرتبہ پھر حاضری کی اجازت عطا فرمائے۔

جوں جوں پاکپتن ہماری نگاہوں سے دور ہوتا گیا، فارسی کلام کے وہ الفاظ دوبارہ میرے دل میں گونجنے لگے:من نیم، واللہ یاراں، من نیم۔یہ سفر اس خیال کے ساتھ شروع ہوا تھا کہ ’’میں‘‘ حضرت بابا فرید کی زیارت کے لیے جا رہا ہوں۔لیکن اس سفر کا اختتام اس احساس پر ہوا کہ شاید دعوت، مہمان نوازی، زیارت، سماع، شکر کی تقسیم اور حجرے کی صفائی کا اعزاز کبھی بھی اس ’’میں‘‘ کے بارے میں تھا ہی نہیں۔یہ میری زندگی کی سب سے زیادہ یادگار، روحانی طور پر پُراثر اور ناقابلِ فراموش زیارتوں میں سے ایک تھی۔اس سفر نے مجھے یہ سکھایا کہ کسی ولی کی جانب حقیقی سفر اس وقت ختم نہیں ہوتا جب انسان مزار سے واپس روانہ ہوتا ہے۔اصل سفر تو اس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان گھر واپس آ کر اس ولی کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ حضرت بابا فریدالدین مسعود گنجِ شکر رحمۃ اللہ علیہ کے مزارِ اقدس پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرماتا رہے۔

ہمیں بابا صاحب کے پیغامِ عبادت، عاجزی، سخاوت، خدمت اور محبت سے وابستہ رکھے۔ہمارے دلوں کو پاک فرمائے، پاکپتن حاضر ہونے والے تمام زائرین کی دعائیں قبول فرمائے اور ہمیں سال بہ سال اس مبارک آستانے پر حاضری کی سعادت عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

Intellectual Divisiveness and The Idolatry of Interpretation

Scholarly Narcissism, Sectarian Power, and the Manufacture of the Religious “Other” An expanded and revised argument

The central claim: whenever a human interpretation is treated as if it were revelation itself, scholarship can become an instrument of domination rather than a path to God.

“Intellectual narcissism” is used here as a moral and sociological description, not as a clinical diagnosis. The essay examines selected Sunni polemical traditions because that is its immediate subject, while insisting that the underlying temptation is human and can arise in Sunni, Shia, Sufi, secular, academic, or political communities.

THE PROBLEM: WHEN INTERPRETATION BECOMES AN IDOL

A religious scholar may begin with a genuine act of study: reading scripture, weighing reports, comparing arguments, and attempting to guide a community. The danger begins when the scholar’s conclusion is no longer presented as a fallible human interpretation but as the final, spiritually guaranteed voice of God. At that moment, reverence for knowledge can quietly mutate into reverence for the knower. A humanly produced system acquires a sacred aura; disagreement becomes disobedience; criticism becomes impiety; and the scholar’s intellectual prestige becomes a form of power over the conscience of others.

This is the phenomenon that may be called intellectual divisive narcissism: the tendency of a learned person, school, or community to glorify its own thought, to experience its interpretation as uniquely pure, and to preserve that superiority by constructing an inferior “Other.” The term does not mean that every scholar is narcissistic or that Sunni thought is inherently divisive. It identifies a recurrent pathology within polemical religious culture: human judgment is absolutized, the interpreter is sacralized, and group power is accumulated through exclusion.

The contradiction is profound. Islam came to liberate the human being from servitude to created powers, yet religious institutions can recreate servitude by placing a class of interpreters between the believer and God. The language remains Islamic, but the structure becomes idolatrous: obedience is transferred from God to a human authority whose decisions are treated as immune from moral and rational scrutiny.

THE ARCHITECTURE OF INTELLECTUAL OTHERING

The manufacture of the religious Other usually follows a recognizable sequence. It is not merely an unfortunate by-product of disagreement; it can become the mechanism by which a school consolidates identity, loyalty, and authority.

1. A scholar or school develops an interpretation and presents it as more than one legitimate reading among others.

2. The interpretation becomes fused with the identity of the group: to question the idea is to question the community itself.

3. The scholar is elevated through honorifics, lineage, visions, spiritual claims, or institutional repetition until criticism feels almost sacrilegious.

4. The rival is reduced to a label—Rafidi, Nasibi, Wahhabi, Barelvi, Deobandi, philosopher, innovator, heretic, or unbeliever—so that the person disappears behind the category.

5. Moral disgust replaces evidence. Social distance is encouraged through rules concerning prayer, marriage, food, greeting, burial, and companionship.

6. The boundary becomes self-reinforcing: loyalty is proved by condemning the Other, and hesitation itself is treated as disloyalty or disbelief.

This process rewards both leaders and followers. The leader gains authority, disciples, institutions, and control over the boundaries of belonging. The follower receives borrowed certainty, a heroic identity, and relief from the anxiety of thinking. “We possess the truth” becomes psychologically easier than “we are responsible before God for the way we seek truth.”

Modern social psychology calls one related pattern collective narcissism: an inflated belief in the greatness of one’s group combined with a conviction that outsiders fail to recognize that greatness. Such groups become unusually sensitive to insult and more willing to answer perceived disrespect with hostility. In religious settings, this tendency becomes especially potent because group pride is fused with divine approval. The ego no longer says merely, “I am right”; it says, “God has chosen us, and therefore opposition to us is opposition to God.”

THE QUR’ANIC WARNING AGAINST THE SACRALIZATION OF HUMAN AUTHORITY

The Qur’an does not use the modern phrase “intellectual narcissism,” but it repeatedly warns against giving human authorities, personal desire, inherited convention, or self-righteousness the place that belongs to God alone. These passages should not be weaponized to declare named scholars polytheists. Their force is ethical and diagnostic: they expose the danger of functional idolatry, in which human judgment is obeyed with a submission that properly belongs only to the Divine.

“They took their rabbis and monks as lords beside God, and also the Messiah, son of Mary, although they had been commanded to worship only one God.”

— Qur’an 9:31, rendered from the Arabic

This verse is not an attack on learning or religious leadership. It is an attack on surrendered moral agency. In the famous explanation associated with ʿAdi ibn Hatim, the “worship” of clergy consisted not in prostrating before them but in allowing them to redefine the lawful and unlawful and then obeying them unquestioningly. The warning therefore reaches every tradition: when a scholar’s decree is treated as intrinsically sacred, rather than tested against revelation, justice, reason, and conscience, religious obedience can become a disguised form of lord-making.

“Have you considered the one who takes his own desire as his god, and whom God allows to stray despite knowledge?”

— Qur’an 45:23, rendered from the Arabic

The verse explicitly joins desire and knowledge. Intellectual brilliance does not purify the ego; it can equip the ego with better weapons. A scholar may rationalize resentment, ambition, fear, or rivalry and then baptize those impulses as doctrine. Learning can become the servant of desire while preserving the appearance of piety.

“Do not declare yourselves pure; He knows best who is truly mindful of Him.”

— Qur’an 53:32, rendered from the Arabic

Sectarian systems often begin by declaring the purity of the self: our creed is uncorrupted, our chain is superior, our saints are uniquely protected, our jurists alone represent orthodoxy. The Qur’an withdraws that authority from human beings. Final moral ranking belongs to God, not to schools competing for prestige.

“Do not say to one who offers you peace, “You are not a believer.””

— Qur’an 4:94, rendered from the Arabic

The verse places a barrier before the appetite for exclusion. It instructs believers to resist the impulse to erase another person’s faith for worldly advantage. The principle is especially important when labels become connected to property, office, marriage, burial, safety, or political power. Takfir is never merely a word; historically it has often functioned as a transfer of rights from the accused to the accuser.

“Do not falsely declare, “This is lawful and this is forbidden,” inventing a lie against God.”

— Qur’an 16:116, rendered from the Arabic

To speak in God’s name is an act of immense moral danger. The scholar’s first duty is therefore not confidence but restraint. A fatwa may be necessary, but it remains a human attempt to understand divine guidance. The sentence “God has said” must never become a costume worn by the sentence “I have concluded.”

Other passages complete the picture. Qur’an 49:11–13 forbids ridicule, degrading labels, suspicion, and tribal superiority; 3:64 calls communities to a common word in which none takes another as a lord beside God; and 28:83 promises the final home to those who do not seek exaltation or corruption on earth. Together they establish a theology of intellectual humility: truth is sacred, but the human possessor of an opinion is not.

POLEMICAL PRECEDENTS: HOW LANGUAGE CREATES THE ENEMY

Historical texts must be read in context, and no major thinker should be reduced to a single sentence. Yet polemical sentences matter because they outlive their settings. They are memorized, quoted, institutionalized, and used to define millions of people who never participated in the original debate. The following examples illustrate a recurring rhetorical technology: an entire community is compressed into a moral defect, and the scholar’s judgment becomes a template for inherited contempt.

1 IBN TAYMIYYA AND THE ESSENTIALIZING LABEL

“The Rafidah are the most mendacious of the sects of passion.”

— Ibn Taymiyya, Minhāj al-Sunna al-Nabawiyya; translation of “al-Rāfiḍa akdhab ṭawāʾif ahl al-ahwāʾ”

The sentence does more than reject particular Shia arguments. It attributes a defining moral vice—lying—to an entire tradition. Once a community has been declared essentially mendacious, its testimony need not be heard, its evidence need not be examined, and its grievances can be dismissed in advance. The label performs the argument before the argument begins.

Ibn Taymiyya wrote in a medieval world of intense confessional rivalry and in direct rebuttal to the Shia theologian al-ʿAllama al-Hilli. That context explains the polemical form but does not neutralize its afterlife. The phrase has been repeatedly detached from its textual dispute and used as a civilizational judgment on Shias as such. This is precisely how scholarly rhetoric becomes social power: a sentence written in controversy becomes a permission structure for everyday contempt.

2 AL-GHAZALI: THE TENSION BETWEEN EXCLUSION AND RESTRAINT

“We must, therefore, reckon as unbelievers both these philosophers themselves and their followers …”

— Al-Ghazali, Tahāfut al-Falāsifa, conclusion; trans. S. A. Kamali

Al-Ghazali’s conclusion concerns three metaphysical doctrines associated with al-Farabi and Ibn Sina. The important point here is not whether his theological judgment was defensible within his system. It is the expansionary power of the category: a philosophical conclusion becomes a boundary of communal existence, and intellectual error becomes unbelief.

Yet al-Ghazali also complicates the story. In Fayṣal al-Tafriqa he warns against reckless takfir and argues for interpretive breadth. This internal tension is instructive. A scholar may be capable of both generosity and exclusion; a tradition may preserve both tendencies. The danger arises when later institutions canonize the harsh verdict and forget the caution. Polemical certainty is easier to mobilize than theological restraint.

3 SOUTH ASIAN SUNNI POLEMICS: FEAR, DESTRUCTION, AND RECURSIVE TAKFIR

The Indian Muslim intellectual tradition produced extraordinary poetry, spirituality, law, philosophy, and anticolonial thought. It also produced powerful cultures of sectarian classification. The following examples are not presented as the essence of Indian Sunnism; they show how rival Sunni formations and anti-Shia polemics repeatedly used exclusion to build authority.

“In the region where we live, the Twelver faith has become so widespread that one or two members of every family is a Shia.”

— Shah ʿAbd al-ʿAziz, Tuḥfa Ithnā ʿAshariyya, as cited by S. A. A. Rizvi

This is a classic language of demographic anxiety. The rival is not merely mistaken; it is spreading through the household. The statement constructs a threatened majority and an infiltrating minority. Elsewhere, legal discouragement of greeting, marriage, and food-sharing hardened theological disagreement into social separation. Once ordinary intimacy is portrayed as contamination, the neighbor is transformed into a civilizational danger.

“A true believer should regard the breaking of a taʿziya by force as virtuous as destroying idols.”

— Shah Ismaʿil Dihlawi, as translated and cited by Barbara D. Metcalf

Here the movement from idea to destruction is explicit. A ritual object cherished by another Muslim community is redescribed as an idol, and its physical destruction becomes a virtue. The rival’s sacred symbol is stripped of meaning and placed outside the sphere of Muslim protection. This is how othering releases destructive force: first a symbol is de-Islamized, then aggression against it is moralized.

“Whoever doubts the unbelief of the Deobandis is himself an unbeliever.”

— Ahmad Raza Khan, Fatāwā Riḍawiyya, vol. 6, p. 82; translation

This formula creates recursive takfir. It is no longer sufficient to avoid the condemned belief; one must also reproduce the scholar’s condemnation. Doubt, caution, friendship, or refusal to excommunicate becomes evidence of excommunication. Such a structure is extraordinarily effective at accumulating power because it prevents neutral ground. Every believer is forced to choose between submission to the verdict and expulsion with its targets.

The symmetry is important. Anti-Shia polemic, Deobandi-Barelvi conflict, anti-Sufi reformism, and counter-takfir by devotional schools often mirror one another. Each side condemns the other’s hero worship while creating its own protected heroes; each attacks the other’s exaggeration while exaggerating the authority of its own canon. The names differ, but the mechanism remains recognizable.

HOW SCHOLARSHIP BECOMES A SYSTEM OF POWER

Ideas do not become socially dominant merely because they are persuasive. They become dominant when they are attached to institutions: seminaries, pulpits, publishing houses, patronage networks, courts, political parties, charitable systems, marriage markets, burial practices, and chains of authorization. The scholar who controls the definition of orthodoxy can influence who is trusted, who may lead prayer, whose marriage is valid, whose food is eaten, whose books are burned, and whose grief is considered legitimate.

The glorification of scholarly thought therefore has material consequences. It can produce a religious economy in which access to divine legitimacy is mediated by a recognized class. Honorifics such as “Shaykh al-Islam,” “Hujjat al-Islam,” “Aʿla Hazrat,” “Quds sirruh,” or “Damat barakatuhum” are not inherently wrong. Respect, prayer, and gratitude toward teachers are natural. The problem begins when titles function as shields against evidence, when charisma replaces accountability, and when the follower fears questioning the scholar more than misrepresenting God.

The scholar’s ego then becomes the group’s ego. Criticism of the founder is experienced as humiliation of the community. The community responds by intensifying praise, suppressing ambiguity, and punishing dissent. This produces several dark social forces:

• Deindividuation: the rival is no longer a person but a specimen of a condemned category.

• Moral disengagement: harm is justified as defense of truth, honor, or purity.

• Scapegoating: social anxiety and political failure are projected onto a doctrinal minority.

• Epistemic closure: counter-evidence is dismissed because the source has already been declared corrupt.

• Purity escalation: followers compete to demonstrate loyalty through harsher denunciations.

• Authority dependence: believers lose confidence in conscience and become unable to distinguish revelation from the institution’s interpretation.

This is why intellectual narcissism is not merely vanity. When joined to religious authority, it becomes a technology of rule. It establishes who may speak, who must remain silent, and who may be excluded without guilt.

THE SHIA IDEAL OF THE MAʿṢŪM AND THE DANGER OF BORROWED INFALLIBILITY

The Shia doctrine of the Prophet and the Ahl al-Bayt as the Maʿṣūmīn offers a powerful moral counter-image: authority is inseparable from purity, justice, truthfulness, mercy, and freedom from ego. The tragedy of Karbala, in particular, presents sacred authority not as domination but as self-sacrifice in resistance to domination. Imam Husayn does not secure obedience by controlling institutions; he exposes the moral bankruptcy of power through fidelity and sacrifice.

Yet this doctrine should humble later scholars, not transfer infallibility to them. A jurist, preacher, sayyid, pir, or intellectual who speaks about the Maʿṣūm does not thereby become maʿṣūm. Shia communities can also fall into hero worship, clerical absolutism, inherited contempt, or the dehumanization of Sunnis. To condemn Sunni intellectual narcissism while exempting one’s own institutions would reproduce the very structure under criticism.

The genuine Shia response to divisive scholarship is therefore not a competing idolatry of interpretation. It is a discipline of proximity to the Ahl al-Bayt: the closer a scholar claims to be to them, the more that scholar should display humility, courage, justice, tenderness toward the vulnerable, and refusal to exploit religious emotion for personal or institutional power.

QUR’ANIC ETHICS OF INTELLECTUAL HUMILITY

A community does not overcome divisive narcissism by abandoning scholarship. It overcomes it by restoring scholarship to its proper station: a noble but fallible service beneath revelation, never a rival to revelation. The following disciplines can prevent learning from becoming domination:

1. Distinguish revelation from interpretation. A scholar should say, “This is my reading,” rather than disguising inference as the voice of God.

2. Treat takfir as an extreme boundary question, not a rhetorical weapon. School labels should never substitute for examination of a person’s actual beliefs and conduct.

3. Require scholars to represent rival positions in terms their adherents would recognize. Refuting a caricature is a form of intellectual dishonesty.

4. Make uncertainty visible. Words such as “possibly,” “in my judgment,” and “God knows best” are not weakness; they are safeguards against spiritual tyranny.

5. Judge interpretations by their ethical fruits. A doctrine that predictably produces cruelty, humiliation, and social hatred demands renewed scrutiny, even when supported by inherited authority.

6. Protect the rights and dignity of minorities before debating their theology. Justice is not a reward for doctrinal agreement.

7. Separate honor from immunity. A revered scholar may be thanked, loved, and criticized at the same time.

8. Build plural institutions in which no single school controls all credentials, pulpits, funds, and definitions of belonging.

9. Teach believers that conscience is a trust. Consultation with scholars does not cancel personal accountability before God.

10. Measure greatness by service rather than submission. The true teacher produces morally responsible human beings, not dependent admirers.

Intellectual humility does not mean relativism. One may believe that an argument is false, dangerous, or incompatible with Islam. Humility concerns the moral posture of the knower: awareness of fallibility, refusal to dehumanize, willingness to revise, and recognition that God’s judgment is not identical with one’s emotional need to prevail.

CONCLUSION: DO NOT TURN THE PATH TO GOD INTO A THRONE

The deepest form of intellectual shirk is not the existence of scholarship but the absolutization of scholarship: taking a humanly constructed body of thought, giving it the emotional force of revelation, and demanding that others submit to it as the price of belonging. The idol may not be made of stone. It may be made of books, titles, chains of authorization, visions, institutions, and inherited fear.

Scholars are human beings. They possess insight and blindness, courage and ambition, devotion and ego. Their learning can illuminate the world, but it can also magnify the darkness within them. When thought becomes a means of accumulating authority, it generates an Other whose inferiority confirms the scholar’s greatness. When that Other is declared impure, deceptive, heretical, or outside Islam, ordinary restraints weaken and destructive energies are released.

The answer is not anti-intellectualism. It is a more demanding intellectualism: scholarship purified by humility, historical self-awareness, justice, and love. Islam is diminished whenever a scholar’s prestige becomes more sacred than a human life, whenever a school’s victory matters more than truth, or whenever the unity of God is invoked to justify the fragmentation of God’s creation.

The task of the Muslim intellectual is not to build a throne from which to judge humanity. It is to clear a path toward God without standing in the path. Knowledge should make the scholar more conscious of limitation, more careful with the faith of others, and more resistant to the seductions of power. The light of God does not require the darkness of a manufactured enemy.

NOTES AND SOURCES

Qur’anic passages cited or discussed: 3:64; 4:94; 9:31; 10:59; 16:116; 28:83; 45:23; 49:11–13; 53:32. The English renderings in this essay are fresh, close translations from the Arabic prepared for this text.

1. Ibn Taymiyya. Minhāj al-Sunna al-Nabawiyya fī Naqḍ Kalām al-Shīʿa al-Qadariyya. Edited by Muḥammad Rashād Sālim. 9 vols. Riyadh: Imam Muhammad ibn Saud Islamic University, 1986. Pagination varies by edition; the quoted phrase occurs in the early general characterization of the Rāfiḍa.

2. Al-Ghazali. Tahāfut al-Falāsifa (The Incoherence of the Philosophers). Translated by Sabih Ahmad Kamali. Lahore: Pakistan Philosophical Congress, 1958. See the concluding classification of the three doctrines judged to constitute unbelief.

3. Al-Ghazali. On the Boundaries of Theological Tolerance in Islam: Abu Hamid al-Ghazali’s Fayṣal al-Tafriqa. Translated by Sherman A. Jackson. Oxford: Oxford University Press, 2002.

4. Shah ʿAbd al-ʿAziz. Tuḥfa Ithnā ʿAshariyya. For the quoted demographic statement and discussion of his anti-Shia polemics, see S. A. A. Rizvi, Shah ʿAbd al-ʿAziz: Puritanism, Sectarian Polemics and Jihad. Canberra: Maʿrifat Publishing House, 1982, pp. 207–208.

5. Metcalf, Barbara D. Islamic Revival in British India: Deoband, 1860–1900. Princeton: Princeton University Press, 1982, p. 58. The quoted passage attributes the statement on forcibly breaking taʿziyas to Muhammad Ismaʿil (Shah Ismaʿil Dihlawi).

6. Ahmad Raza Khan. Fatāwā Riḍawiyya, vol. 6, p. 82. The English sentence in this essay is a translation of the widely cited ruling concerning doubt about the takfir of Deobandi scholars. Readers should consult a critical Urdu edition for the full legal context.

7. Golec de Zavala, Agnieszka, Aleksandra Cichocka, Roy Eidelson, and Nuwan Jayawickreme. “Collective Narcissism and Its Social Consequences.” Journal of Personality and Social Psychology 97, no. 6 (2009): 1074–1096.

8. Leary, Mark R. “Intellectual Humility as a Route to More Accurate Knowledge, Better Decisions, and Less Conflict.” American Journal of Health Promotion 36, no. 4 (2022): 757–760.

9. Adang, Camilla, Hassan Ansari, Maribel Fierro, and Sabine Schmidtke, eds. Accusations of Unbelief in Islam: A Diachronic Perspective on Takfīr. Leiden: Brill, 2015.

Taghut, Fitna, And The Crisis Of The Muslim Political Conscience

From Medina To Karbala And From Karbala To 2026

Karbala was not merely a battle fought on the tenth of Muharram in 61 AH. It was the moment at which the moral project of Islam was separated from the political structures that claimed to represent it. The conflict was not simply between two individuals called Husayn and Yazid. It was between two understandings of religion: the Islam of Prophethood and the religion of political domination; the deen of justice and the institutional shell that permits power to disguise itself as piety.

This essay brings together two related arguments. The first identifies Karbala as the decisive confrontation between Prophethood and monarchy, followed by the desecration of Medina and the attack upon Mecca. The second argues that the essential purpose of deen is resistance to taghut and the prevention of fitna, and that the journey of Imam Husayn from Medina through Mecca to Karbala represents the political fate of the Prophet’s message after his departure.

The events of 2026 compel us to revisit this argument. Iran became the target of a joint American and Israeli military campaign on February 28, 2026, and responded militarily while most Muslim governments chose neutrality, diplomacy, territorial self-defence, or continued dependence upon Western security arrangements.

“The comparison with Karbala is not an assertion that every contemporary event is identical to seventh-century history. It is a moral analogy. Karbala provides a criterion by which every age may judge its rulers, scholars, institutions, alliances, and silences.”

Taghut and Fitna: The Quranic Vocabulary of Political Corruption

The Quran does not present faith as passive assent. It connects belief in Allah with the rejection of taghut:

“Whoever rejects taghut and believes in Allah has grasped the firmest handhold.”
— Quran 2:256

The word taghut comes from the idea of exceeding proper limits. In the Quran, it may refer to idols, false objects of obedience, satanic authority, or powers that demand submission in defiance of God. It is used not only in Quran 2:256, but also in 4:60, 4:76, 16:36, and 39:17. Taghut is therefore not limited to a stone idol. A political system becomes taghuti when it claims the right to determine truth and falsehood solely through military, economic, or institutional power. A ruler becomes taghuti when loyalty to his authority is treated as more sacred than justice. A state becomes taghuti when it transgresses borders, destroys civilian life, seizes another nation’s sovereignty, or demands obedience through fear.

Fitna has an equally wide Quranic meaning. It can indicate trial, persecution, social upheaval, sedition, coercion, or circumstances in which people are driven away from truth. Quran 8:25 warns believers against a fitna that will not afflict only those directly responsible for wrongdoing. Once injustice is tolerated, its consequences spread through the whole society.

Fitna should not be reduced to disagreement or criticism. Indeed, authoritarian rulers frequently call every challenge to their power “fitna.” In the Quranic sense, however, systematic persecution, the manipulation of religious identity, the division of communities for political advantage, and the silencing of truth may themselves constitute fitna.

The Quran commands believers to stand firmly for justice, even when justice is against themselves, their families, or their political interests (4:135). It commands them not to allow hatred of another people to lead them away from justice (5:8). It forbids inclination toward oppressors (11:113), orders the establishment of justice and excellence (16:90), and recognizes the right to resist those who have been wrongfully expelled and persecuted (22:39–40).

These verses provide the moral foundation for understanding both the stand of Imam Husayn and the responsibilities of Muslims in the present age.

The Prophetic Project: From Mecca to Medina

The mission of Prophet Muhammad began in Mecca with a declaration of tawhid. Yet tawhid was not an abstract theological formula. To declare that there is no god except Allah was to reject every human claim to absolute authority. The idols of Mecca were religious symbols, but they were also connected to a structure of wealth, tribal privilege, inherited status, and social domination. The Prophet’s message challenged both the stone idols and the social order that depended upon them.

In Medina, the message assumed communal and political form. Faith was joined to justice, consultation, economic responsibility, protection of the vulnerable, fulfilment of agreements, and moral accountability. The Quran commanded consultation in collective affairs (42:38) and warned that wealth must not merely circulate among the rich (59:7). Mecca represented liberation from false gods. Medina represented the construction of a just community. The prophetic order was therefore founded upon two inseparable principles: No submission to taghut, and no social order built upon fitna, persecution, privilege, or oppression.

Imam Husayn’s Journey as a Reverse Map of Islamic History

The Prophet’s historical journey had moved from Mecca to Medina: from proclamation to community, from revelation to social order. Imam Husayn’s final journey moved in the opposite geographical direction: from Medina to Mecca, and from Mecca toward Karbala. This reverse journey may be read as a compressed map of what had happened to the Prophet’s legacy. Medina was the city in which the Prophet had established the Muslim community. Mecca was the sanctuary he had purified from idols. Karbala became the place where the political descendants of Qurayshi power attempted to destroy the grandson who embodied the Prophet’s moral authority. Following the death of Mu‘awiyah in 60 AH, Yazid ordered the governor of Medina to obtain the allegiance of Imam Husayn. Husayn refused and left Medina for Mecca accompanied by members of his household. He did not disappear secretly into the desert, although he had been advised to do so. He travelled along the main road and remained in Mecca for approximately four months.

Letters then arrived from Kufa inviting him to lead a community that claimed to be without a just Imam. In his response, Husayn explained that the responsibility of an Imam was to act according to the Quran, uphold justice, proclaim truth, and dedicate himself to the cause of Allah. This statement is essential. Imam Husayn did not define leadership as possession of a throne. He defined it as fidelity to revelation and justice. He departed Mecca before the completion of Hajj and travelled toward Iraq with his family and companions. After news arrived that his representative Muslim ibn Aqil had been killed and the Kufans had abandoned their promises, Husayn permitted those travelling with him to leave. Many did so.

His small caravan was eventually intercepted and compelled to camp on the open plain of Karbala on the second of Muharram. Access to the Euphrates was later restricted. On the tenth of Muharram, Husayn, members of the Prophet’s family, and his loyal companions were killed. His surviving household was taken captive, and his head was carried first to Kufa and then to Damascus. Karbala was thus an attempted political execution of the prophetic idea.

“The attempt failed at the level of history. Yazid’s forces killed Husayn’s body, but his sacrifice prevented the regime from permanently identifying monarchy with Islam. The empire won the battlefield, while Husayn preserved the moral definition of the religion.”

The Great Sacrifice

Quran 37:107 states that the son of Prophet Ibrahim was ransomed with a “great sacrifice”—dhibhin azim. The verse itself does not explicitly name Imam Husayn. Nevertheless, within Shi‘i devotional and spiritual interpretation, Karbala came to be understood as the fullest historical manifestation of the Abrahamic tradition of sacrifice.

This interpretation does not mean that Allah desired suffering for its own sake. The greatness of the sacrifice lies in its purpose: Husayn refused to preserve his body by surrendering the moral authority of the Prophet to an unjust ruler. His refusal transformed martyrdom into testimony. Karbala demonstrated that life without justice can become spiritual death, while physical death in defence of truth can become a form of everlasting life.

From Karbala to the Destruction of Medina and Mecca

The moral sequence did not end at Karbala.

In 683 CE, during Yazid’s rule, an Umayyad army commanded by Muslim ibn Uqbah defeated the people of Medina at the Battle of al-Harra. Traditional Muslim historical sources remember the battle and its aftermath as among the gravest crimes associated with Umayyad rule. The army then moved toward Mecca, where Abdullah ibn al-Zubayr had established his opposition to Yazid. During the siege, the Kaaba was damaged by fire. The siege ended only after news of Yazid’s death reached the army. The sequence is morally revealing: First, the grandson of the Prophet was killed at Karbala. Then the city of the Prophet was violated. Then the House of Allah was attacked. This was not accidental. Once the living moral authority of the Prophet’s family had been rejected, the sanctity of the Prophet’s city and the physical sanctuary of the Kaaba could no longer restrain political power. A regime that could kill Husayn could attack Medina. A regime that could attack Medina could bombard Mecca. The path from Karbala to al-Harra and Mecca demonstrates that sacred buildings cannot remain safe when the moral principles they represent have already been abandoned.

The Metaphorical Destruction of Mecca and Medina

Muslims today protect the physical structures of Mecca and Medina with extraordinary care. Yet the philosophy represented by those cities has repeatedly been violated. Mecca is metaphorically attacked whenever Muslims proclaim tawhid but submit politically to powers that claim unlimited authority. Medina is metaphorically attacked whenever governments preserve mosques while imprisoning justice, silencing consultation, concentrating wealth, persecuting minorities, or treating human dignity as subordinate to dynastic and geopolitical interests.

“The Kaaba is not honoured merely by covering it with an expensive cloth. It is honoured by rejecting the idols of power, race, wealth, empire, sectarianism, and political obedience. The Prophet’s Mosque is not honoured merely by architectural expansion. It is honoured when the justice, compassion, consultation, and human dignity taught by the Prophet are put into practice.”

In this sense, Muslim rulers and institutions have often repeated, metaphorically, what Yazid’s army performed physically. They have maintained the outward symbols while attacking the principles represented by those symbols. This accusation must not be directed indiscriminately at every Muslim. Countless Muslims have resisted tyranny, defended the oppressed, spoken against war, and sacrificed their lives for justice.

The indictment concerns the dominant political order of the Muslim world: monarchies, military governments, authoritarian republics, sectarian establishments, and religious institutions that frequently subordinate moral truth to the survival of the state.

Iran and the Institutional Memory of Karbala

It would be historically excessive to claim that only Iranian people preserved the memory of Imam Husayn. Iraq, Lebanon, Bahrain, Yemen, India, Pakistan, Afghanistan, Azerbaijan, Africa, and Muslim communities across the world have carried the rituals, scholarship, poetry, and spirituality of Karbala. Iran’s distinctiveness lies elsewhere.

Modern Iran attempted to give the language of Karbala the form of state doctrine. Following the 1979 Revolution, resistance to taghut, opposition to foreign domination, defence of the oppressed, and remembrance of Imam Husayn became part of the political vocabulary of the Islamic Republic. This did not make every Iranian policy automatically just. No state can declare itself Husayni merely through slogans. Quran 4:135 requires justice even against oneself, and Quran 5:8 forbids injustice even toward an enemy.

A state invoking Imam Husayn must therefore also be judged by its treatment of its own citizens, minorities, political opponents, prisoners, women, neighbouring peoples, and civilian populations during war. Nevertheless, in the international order of 2026, Iran remained the major Muslim state most openly structured around resistance to American and Israeli domination. When the United States and Israel launched their February 28 attack, Iran did not surrender its political independence or accept a foreign project for changing its government. It fought back, presenting its resistance as a defence not only of Iranian sovereignty but of the wider region. (AP News)

In this limited but significant sense, Iran stood where other Muslim governments were unwilling to stand: in direct military confrontation with the two powers attacking it.

The Muslim World in 2026: Silence, Dependence, and Partial Resistance

The analogy with the silence surrounding Imam Husayn is powerful, but contemporary history must be described accurately.

No Muslim state entered the war as Iran’s military ally. There was no collective Muslim defence arrangement activated to prevent or repel the American–Israeli assault. No unified political, military, or economic front emerged from the Muslim world.

This absence recalls the central tragedy of Karbala: large populations may honour Husayn emotionally while being unwilling to accept the risks involved in standing beside the isolated victim of imperial power. Gulf states later condemned the attacks and argued before the United Nations that their sovereignty and security had been violated. Oman, while criticizing Iranian attacks, was among the few states that continued to emphasize that the escalation had begun with the American–Israeli assault. A Quranic analysis cannot overlook these facts. Resistance to aggression does not grant permission to attack civilians or disregard the sovereignty of neighbouring societies. Quran 5:8 insists that hostility must never lead to injustice. Iran’s Husayni claim is strongest when it resists aggression without transgressing against innocent people. Whenever retaliation becomes indiscriminate, the moral clarity of resistance is weakened. These countries did not fight beside Iran. But neither can they accurately be placed in the same category as states actively supporting the attack.

The Real Failure of the Muslim World

The most defensible accusation is not that every Muslim government openly joined the United States and Israel. The deeper failure is that the Muslim world possessed no independent collective system capable of preventing the war. Its military bases, weapons supplies, intelligence systems, financial networks, and diplomatic protections remained tied to external powers. Its states responded separately, each protecting its dynasty, territory, economy, airspace, or relationship with Washington. There was no common moral authority. There was no united Muslim security doctrine. There was no collective declaration that an attack upon the sovereignty of one Muslim country would be treated as a threat to the entire region. There was no coordinated economic or diplomatic deterrent strong enough to make aggression prohibitively costly. This is the modern form of the silence of Kufa and Medina—not complete verbal silence, but the absence of costly solidarity.

Many governments issued statements. Some mediated. Some refused cooperation temporarily. Some protected their own airspace. Yet no collective structure appeared that could stand between Iran and the attacking powers. The Muslim world possessed wealth, armies, media networks, religious institutions, and international organizations. What it lacked was the willingness to transform these resources into a united defence of sovereignty and justice.

Karbala as the Criterion, Not a Political Slogan

Karbala cannot belong exclusively to one nation, sect, government, or ideology. Iran does not become Husayni merely by opposing the United States. Saudi Arabia does not become Yazidi merely because it has a security relationship with Washington. A government is measured by the principles it embodies. The Karbalaic criterion asks: Does a state stand against aggression even when resistance is costly? Does it defend justice when justice contradicts its own interests? Does it protect civilians, including the civilians of its enemies? Does it permit truth to be spoken within its own borders? Does it protect the poor and vulnerable? Does it reject sectarian fitna? Does it refuse to sell its political conscience for security, wealth, weapons, or diplomatic approval?

“Imam Husayn cannot be reduced to a symbol used to sanctify a government. He is the standard by which governments must be judged. The same Quran that commands rejection of taghut commands justice toward enemies. The same Quran that permits resistance to oppression forbids transgression. The same Quran that commands believers to oppose wrongdoing commands them to examine their own wrongdoing first.”

From Ritual Mourning to Moral Action

Millions mourn Imam Husayn every year. They attend majalis, recite elegies, carry banners, distribute water, and remember the thirst of Karbala. These acts preserve a sacred memory. But memory without moral action can become another form of political silence. To mourn Husayn while supporting oppression is to stand emotionally in Karbala but politically in the army of Yazid. To praise Husayn while remaining indifferent to invaded nations, persecuted peoples, political prisoners, starving children, or the destruction of civilian life is to separate ritual from truth. To condemn taghut only when it belongs to an enemy, while excusing it when practised by one’s own ruler or state, is not Husayni ethics. The meaning of Karbala is that truth is not determined by numbers, military superiority, wealth, diplomatic recognition, or the survival of a government.

Truth may stand with seventy-two while an empire stands on the other side.

Conclusion: Who Stood in 2026?

The journey of Imam Husayn from Medina to Mecca and then to Karbala reenacted, in reverse, the fate of the Prophet’s political and moral legacy. Medina represented the just community. Mecca represented liberation from idols and submission to Allah alone. Karbala represented the attempt of monarchy to extinguish both. The later attacks upon Medina and Mecca revealed that once Husayn had been killed, even the outward sanctuaries of Islam were no longer safe from political power. In the centuries that followed, Muslim societies preserved the buildings, rituals, and vocabulary of Islam while repeatedly surrendering its moral substance to kingship, empire, colonialism, nationalism, authoritarianism, and foreign strategic dependence.

In 2026, Iran stood militarily against a joint American–Israeli attack when no other major Muslim state was prepared to enter the confrontation beside it. That fact gives Iran a distinct place in the contemporary political memory of resistance.

But Iran’s stand must not be transformed into an uncritical claim of moral perfection. The legacy of Muhammad and Husayn belongs not to ethnicity or nationality, but to justice. Iran upholds that legacy to the extent that it resists taghut without itself becoming transgressive, opposes fitna without suppressing legitimate truth, and defends sovereignty without violating innocent life.

“Likewise, the rest of the Muslim world must be judged not merely by the statements it issued, but by the political order it has created. The question of Karbala remains alive: When an empire demands submission, who refuses? When truth becomes costly, who speaks? When the oppressed stand alone, who leaves the safety of the mosque and walks into the open field?

In 61 AH, Imam Husayn answered that question with his life. In every age—including 2026—the rest of us must answer it again.”

Selected Quranic References

Quran 2:256; 3:104; 4:60, 4:76, 4:135; 5:8; 8:25; 11:113; 16:36, 16:90; 22:39–40; 37:107; 39:17–18; 42:38; and 59:7.

Selected Historical References

Al-Tabari, The History of al-Tabari, Volume XIX: The Caliphate of Yazid ibn Mu‘awiyah, translated by I.K.A. Howard; Wilferd Madelung, “Ḥosayn b. ʿAli: Life and Significance in Shi‘ism,” Encyclopaedia Iranica; Wilferd Madelung, The Succession to Muhammad; G.R. Hawting, The First Dynasty of Islam; Hugh Kennedy, The Prophet and the Age of the Caliphates; and Mahmoud Ayoub, Redemptive Suffering in Islam.

Husainiyat Is Eternal

An eternal guide for humanity

It is truly a remarkable coincidence that both the beginning and the end of the Islamic year are marked by two great sacrifices, and both of these months hold immense significance in Islam. The first sacrifice was promised by Khalilullah (Saiyedna Ibrahim عليه السلام) and the second was completed by Abu Abdullah, (Imam Husain ibn Ali عليه السلام). Islam teaches us that life is surrounded by sacrifices—whether it is sacrificing our family, wealth, ego, or bad habits—for the sake of Allah.

One of the darkest chapters in Islamic history is that several prophets were martyred by their own people. History repeated itself once again—not with a prophet this time, but with the beloved grandson of the Prophet ﷺ, the delight of his heart, and his very image: Imam Husain ibn Ali (عليه السلام).

Karbala was not merely a battle or a war. It was a journey to distinguish truth from falsehood and to leave behind an eternal guide for humanity on how to confront oppression, remain loyal to Allah, stay faithful to the truth, and fulfill our responsibilities toward our people even in the midst of unimaginable hardship.

When we choose to follow Allah and walk the path of Haq (Truth), we often expect that Allah will bless us with everything we desire. Sometimes He does, but more often, the path of truth is filled with trials, hardships, and obstacles. Allah says in the Qur’an:

“And We will surely test you with something of fear and hunger and a loss of wealth and lives and fruits, but give good news to the patient.”

— Qur’an 2:155

Karbala teaches us not to place our trust in people merely because they claim faith, but to recognize true faith through sincerity and steadfastness. Husainiyat teaches us patience (sabr) throughout every stage of life. More importantly, Imam Husain (عليه السلام) taught us that once we recognize the truth, we must never bow before falsehood or evil, regardless of the consequences.

سر داد نہ داد دست در دست يزيد
حقا کہ بنائے لا الٰہ است حسین

(He gave his head, but never placed his hand in Yazid’s hand; Indeed, Husain is the very foundation of La ilaha illa Allah)

Imam Husain (عليه السلام), the leader of the youth of Paradise, did not merely sacrifice his own life and the lives of his family. He also taught us to recognize the “Kufis” of our own time and to be prepared for whatever consequences may come when standing for the truth. If your faith is sincere and your conviction is firm, you will find the strength to face every trial.

Perhaps that is why countless non-Muslim scholars, poets, and leaders have admired and quoted Imam Husain in their works. Figures such as Premchand and Mahatma Gandhi found inspiration in his sacrifice. His legacy transcends religion, nationality, and time, making him a universal role model for justice and human dignity.

Islam does not teach us to fight only against non-Muslims. Rather, it commands us to stand against every form of falsehood, oppression, and injustice, and to strive for what is right. Karbala is the greatest example of such a struggle and revolution. It teaches us never to fear tyrants or oppressors, even when we appear weak. Instead, we should remain steadfast, because ultimately we are accountable to Allah alone.

Sometimes standing against a zalim (oppressor) requires sacrificing not only your own life but even the lives of those dearest to you. This is the excellence of Islam to choose Azimah (the higher path of resolve and sacrifice) over Rukhsah (concession and ease).

Whenever we recognize the truth in our lives, we should support it and abandon falsehood. This beautiful lesson is reflected in the sacrifice of Hazrat Hurr (رضي الله عنه), who left the camp of Yazid and joined the side of Haq and Imam Husain (عليه السلام).

These teachings are not limited to the outward events of history; they are, first and foremost, lessons for our inner selves. The real battle is against the corruption within us—our ego, hatred, backbiting, lying, enmity, jealousy, and ill will toward others.

As my Master and Murshid Arif Billah Shaikh Abu Saeed says:

“Imam Husain A.S fought against evil and Yazid was ultimately disgraced. We, too, must continue to wage war against Yazid, for every human being carries a Yazid within.

The soul is like Husain, while the lower self (nafs) is like Yazid. To live in servitude to the nafs is Yazidism. The body's faculties are the army that has already fallen under the domination of Yazid—that is, the nafs. The nafs misuses this army and leads it into sin, just as Yazid misused his army in Karbala and compelled it to fight against Imam Aali Maqam.

Anger is Shimr. Desire is Ibn Ziyad. Intellect (aql) is Hurr—the one who has recognized and accepted the truth and understands that evil and disobedience ultimately lead to destruction. Yet it remains weak, overwhelmed by the assaults of Yazid's occupied army: the eyes, the ears, the tongue, the hands, and the other bodily faculties.

These three forces the nafs (Yazid), anger (Shimr), and desire (Ibn Ziyad) do not allow the intellect, represented by Hurr, to rise and prevail.” — Arif Billah Shaikh Abu Saeed

This teaching is a profound spiritual allegory: Karbala is not only a historical event but an ongoing inner battle. Imam Husayn symbolizes the purified spirit, while Yazid represents the ego (nafs). Shimr symbolizes uncontrolled anger, Ibn Ziyad represents worldly desires, and Hurr symbolizes the conscience or intellect that has recognized the truth but struggles to overcome the domination of the ego and its forces. The believer’s lifelong jihad is to liberate the faculties from the rule of the nafs so that the spirit of Husain may triumph within.

SUPPORT ACNA

Help faith, learning and service grow

Your support strengthens worship, education, scholarship, sacred culture and compassionate community care.

Support ACNA