نور عرفان
تصوف اور اُس کے درجات
اللہ کسی کسی کویہ کیفیت عطاکرتاہے اور یہ کیفیت جسے عطاہوتی ہے کوئی ضروری نہیں کہ ایسابندہ بہت بڑاعالم یاعابد ہو۔اللہ کاکرم جس کواُس کے لیے چن لے۔ دوسراراستہ سلوک اور مجاہدے کاہے کہ باربار یہ خیال لانے کی کوشش کرے کہ میرامولیٰ مجھے دیکھ رہاہے۔یہ خیال دوطرح کاہوسکتاہے: ایک عابد انہ ومجرمانہ اندازسے اور دوسراعاشقانہ اندازسے۔ یہ کیفیت بڑھ کراس حد تک بندے کوپہنچادیتی ہے کہ وہ زبان حا ل سے گویاہوتاہے
اداریہ
حکمت و معرفت
حکمت و معرفت
حکمت و معرفت
حکمت و معرفت
تحقیقی سیکشن
سرگرمیاں
سفر نامہ