منتخب مضمون

وقت: انسان کا سب سے بڑا سرمایہ سورۂ عصر کی روشنی میں ایک فکری مطالعہ

۳۱ جولائی ۲۰۲۶ء · منتظم · مضمون
وقت: انسان کا سب سے بڑا سرمایہ سورۂ عصر کی روشنی میں ایک فکری مطالعہ
منتظم ۳۱ جولائی ۲۰۲۶ء مطالعے کا وقت: ۶ منٹ
وقت: انسان کا سب سے بڑا سرمایہ
سورۂ عصر کی روشنی میں ایک فکری مطالعہ

﴿وَالْعَصْرِ ۝ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ﴾

یہ وہ مختصر سورت ہے جس کے بارے میں امام شافعیؒ نے فرمایا کہ اگر قرآنِ کریم سے صرف یہی سورت نازل ہوتی تو انسانوں کی ہدایت کے لیے کافی تھی۔ یہ محض ایک علمی تبصرہ نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ سورۂ عصر انسانی زندگی کے پورے فلسفے کو چند الفاظ میں سمو دیتی ہے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اس سورت کو صرف تلاوت نہیں کرتے تھے بلکہ اسے اپنی زندگی کا آئینہ سمجھتے تھے۔ روایت ہے کہ جب دو صحابی ایک دوسرے سے رخصت ہوتے تو جدا ہونے سے پہلے سورۂ عصر کی تلاوت کرتے۔ گویا وہ ایک دوسرے کو یاد دلاتے تھے کہ زندگی کی ہر ملاقات، ہر لمحہ اور ہر سانس اللہ کی امانت ہے، جس کا حساب ایک دن ضرور دینا ہوگا۔

قرآن جب وقت کی قسم کھاتا ہے تو دراصل انسان کو اس کی سب سے بڑی غفلت سے بیدار کرتا ہے۔ انسان اکثر اپنی دولت، جائیداد اور شہرت کے نقصان پر پریشان ہوتا ہے، مگر روزانہ اپنی زندگی کے کئی گھنٹے ضائع کر دیتا ہے اور اسے اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ یہی وہ خسارہ ہے جس کی طرف سورۂ عصر اشارہ کرتی ہے۔

لفظ "عصر" اپنے اندر ایک نہایت لطیف معنی رکھتا ہے۔ عربی زبان میں یہ کسی چیز کو نچوڑنے اور اس کا خلاصہ نکالنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ زندگی بھی انسان کو اسی طرح آزمائشوں، ذمہ داریوں، پریشانیوں اور مصروفیات کے ذریعے نچوڑتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ انسان مشکلات سے گزرے گا یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ان آزمائشوں سے گزر کر وہ مزید پاکیزہ بنتا ہے یا مزید غافل۔

سورۂ عصر سے قبل سورۂ تکاثر میں دنیا کی اس دور کا ذکر ہے جس نے انسان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ مال کی فراوانی، شہرت کی خواہش، عہدوں کی کشش اور دنیاوی کامیابیوں کا تعاقب انسان کو اس قدر مصروف کر دیتا ہے کہ وہ اپنے اصل مقصد کو فراموش کر بیٹھتا ہے۔ اکیسویں صدی میں اس کیفیت نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ اب انسان صرف بازاروں میں نہیں بھٹکتا بلکہ اس کی انگلیاں موبائل کی اسکرین پر اور اس کی نگاہیں سوشل میڈیا کی دنیا میں گم رہتی ہیں۔ چند لمحوں کی تفریح گھنٹوں میں بدل جاتی ہے اور زندگی خاموشی سے گزرتی رہتی ہے۔

اسلام اس بے مقصد مصروفیت کو محض وقت کا ضیاع نہیں بلکہ روحانی خسارہ قرار دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دو نعمتیں ایسی ہیں جن کی قدر اکثر لوگ نہیں کرتے: صحت اور فراغت۔ یہی فراغت جب غفلت میں تبدیل ہو جائے تو انسان کی زندگی کا سب سے بڑا نقصان بن جاتی ہے۔

آج کی مادی تہذیب کا ایک مشہور جملہ ہے: "وقت ہی دولت ہے۔" لیکن قرآن کا پیغام اس سے کہیں بلند ہے۔ وقت دولت نہیں، بلکہ دولت سمیت ہر نعمت کا سرچشمہ ہے۔ دولت دوبارہ کمائی جا سکتی ہے، مگر وقت کبھی دوبارہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے انسان کی پوری زندگی کے بارے میں سوال ہوگا۔ اس کی جوانی کہاں گزری؟ اس کا علم کہاں استعمال ہوا؟ اس کا مال کہاں سے آیا اور کہاں خرچ ہوا؟ غور کیا جائے تو ان تمام سوالات کی بنیاد وقت ہی ہے، کیونکہ ہر نعمت وقت کے اندر ہی حاصل ہوتی ہے اور اسی کے اندر استعمال ہوتی ہے۔

قرآنِ کریم جہنم والوں کی حسرت کا نقشہ کھینچتا ہے کہ وہ دوبارہ دنیا میں بھیجے جانے کی التجا کریں گے تاکہ نیک اعمال کر سکیں۔ مگر انہیں بتایا جائے گا کہ دنیا میں انہیں اتنی مہلت دی گئی تھی جو نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے کافی تھی۔ اس سے بڑھ کر انسان کی محرومی کیا ہوگی کہ اسے زندگی بھی ملی، وقت بھی ملا، ہدایت بھی ملی، مگر اس نے ان سب کو غفلت کی نذر کر دیا۔

رسول اللہ ﷺ کی سیرت اس معاملے میں بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ خوش مزاج تھے، مسکراتے تھے، اپنے اہلِ خانہ اور صحابہ کے ساتھ خوشگوار گفتگو بھی فرماتے تھے، مگر آپ کی زندگی کا کوئی لمحہ بے مقصد نہ تھا۔ آپ کا مزاح بھی تعلیم تھا، آپ کی خاموشی بھی فکر تھی، آپ کی گفتگو بھی دعوت تھی اور آپ کی عبادت بھی انسانیت کے لیے روشنی۔

سورۂ عصر کا حسن یہ ہے کہ وہ صرف خسارے کی خبر نہیں دیتی بلکہ اس سے نجات کا راستہ بھی دکھاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ چار ایسی صفات بیان فرماتے ہیں جو انسان کو دائمی کامیابی عطا کرتی ہیں: ایمان، عملِ صالح، حق کی تلقین اور صبر کی نصیحت۔ یہی وہ ستون ہیں جن پر ایک صالح فرد اور ایک مہذب معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ ایمان انسان کو مقصد دیتا ہے، عملِ صالح اس مقصد کو زندگی میں ڈھالتا ہے، حق کی دعوت معاشرے کو زندہ رکھتی ہے اور صبر ہر آزمائش میں استقامت عطا کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی طوالت کامیابی کی ضمانت نہیں، بلکہ زندگی کا مقصد اور اس کا مصرف اصل کامیابی ہے۔ بعض لوگ مختصر عمر پا کر بھی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، جبکہ بعض لوگ طویل زندگی گزارنے کے باوجود اپنے پیچھے کوئی نیکی، کوئی خدمت اور کوئی یادگار نہیں چھوڑتے۔

آج جب دنیا بے مقصد مصروفیات، مسلسل تفریح، مادّہ پرستی اور لمحاتی خواہشات کے گرد گھوم رہی ہے، سورۂ عصر ہمیں ایک بار پھر جھنجھوڑتی ہے کہ اپنے وقت کا محاسبہ کریں۔ ہر طلوعِ آفتاب ہماری زندگی کا ایک نیا صفحہ ہے اور ہر غروبِ آفتاب ہماری عمر کا ایک باب بند کر دیتا ہے۔ دانشمند وہی ہے جو ہر دن کو آخری دن سمجھ کر اللہ کی رضا کے مطابق گزارے۔

وقت دراصل زندگی کا دوسرا نام ہے۔ جو شخص وقت کی حفاظت کرتا ہے، وہ اپنی زندگی کی حفاظت کرتا ہے، اور جو اپنی زندگی کو اللہ کی اطاعت، خدمتِ خلق، علم، اخلاق اور نیک اعمال سے آراستہ کر لیتا ہے، وہی سورۂ عصر کی بشارت کا مستحق بنتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں وقت کی عظمت کو سمجھنے، اپنی زندگی کے ہر لمحے کو اپنی رضا کے مطابق گزارنے، غفلت، بے مقصد مشغولیات اور فضولیات سے محفوظ رہنے، ایمان و عملِ صالح میں استقامت عطا فرمانے اور ہمیں ان خوش نصیب بندوں میں شامل فرمائے جن کے بارے میں قرآن نے فرمایا کہ وہ خسارے سے محفوظ ہیں۔ آمین یا رب العالمین۔

گفتگو میں شامل ہوں

تبصرے

تبصرے جائزے کے بعد شائع کیے جاتے ہیں۔ اپنی رائے احترام کے ساتھ پیش کریں۔

اے سی این اے کی معاونت

ایمان، علم اور خدمت کو فروغ دیں

آپ کی معاونت عبادت، تعلیم، علمی تحقیق، روحانی ثقافت اور ہمدردانہ سماجی خدمت کو مضبوط بناتی ہے۔

معاونت کریں